وزیراعظم صاحب! معذور پاکستانیوں کی زندگی میں تبدیلی کب لائیں گے؟

راجہ محمد اویس  پير 3 دسمبر 2018
2012 میں معذور افراد کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ، یعنی کل آبادی کا 7 فیصد تھی۔ فوٹو: انٹرنیٹ

2012 میں معذور افراد کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ، یعنی کل آبادی کا 7 فیصد تھی۔ فوٹو: انٹرنیٹ

یوں تو دنیا کی آبادی کا 10 فیصد جبکہ پاکستان کی کل آبادی کا 7 فیصد حصہ ذہنی یا جسمانی معذوری سے گزر رہا ہے، تاہم یہ آبادی اس وقت 50 فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے جب اس میں کسی معذور فرد کے ساتھ اس کے گھرانے کو بھی شامل کرلیا جائے۔ کیونکہ ایک فرد معذور ہو تو پورا گھرانہ معذور ہوجاتا ہے؛ اور اس کے شب و روز میں ان تمام کو شامل ہونا پڑتا ہے۔

2012 میں کیے گئے سروے کے مطابق پاکستان میں 18 سال سے کم عمر 60 لاکھ بچے کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا شکار ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق 2012 میں پاکستان کی کل آبادی 181 ملین تھی جس میں سے معذور افراد کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ، یعنی کل آبادی کا 7 فیصد تھی؛ جن میں ذہنی معذور افراد کی تعداد 30 فیصد، نابینا پن کے شکار افراد 20 فیصد، قوت سماعت و گویائی سے محروم 10 فیصد جبکہ جسمانی معذوری کے شکار افراد 40 فیصد تھے۔ صوبائی سطح پر آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ معذور افراد سندھ میں 3.05 فیصد ہیں جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یہ تعداد 4.3 لاکھ کے قریب شمار کی گئی۔ وزارت سماجی بہبود (سوشل ویلفئیر) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریباً ہر گاؤں میں 10 سے 20 بچے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا شکار ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ان حقائق کے باوجود ہمارے یہاں گزشتہ اڑتیس برس سے اس طبقے کی تعداد کو ہمیشہ دو فیصد ہی شمار کیا گیا۔ گویا پاکستان کی آبادی بڑھنا رک گئی ہو۔ ایک کروڑ 60 لاکھ معذور افراد میں سے صرف 4 فیصد کو تعلیم و صحت کی سہولیات حاصل ہیں جبکہ باقی 96 فیصد ان سہولیات سے محروم ہیں۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہر اعلامیے اور ہر معاہدے پر دستخط کرکے پوری دنیا کو یقین دلایا کہ ہم اپنے بچوں کے تمام حقوق کا (قطع نظر اس کے کہ وہ معذور ہیں یا نہیں) تحفظ کریں گے جبکہ حکومت پاکستان کی تیارکردہ خصوصی تعلیمی پالیسی کے مطابق تمام اسکول 2025 تک ’’انکلیوسیو ایجوکیشن‘‘ کا آغاز کریں گے۔

مگر وطن عزیز میں اس حوالے سے اب تک نہایت ہی کم پیش رفت ہوسکی ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری کا شور بہت زیادہ ہے، مگر کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی کہ خصوصی بچوں کی تعلیم کے بغیر اس ہدف کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ معیاری تعلیم ہر عام بچے کی طرح معذور بچے کا بھی بنیادی حق ہے، لیکن شاید ہی کسی اسکول، کالج یا یونیورسٹی نے اس کا اہتمام کرنے کےلیے اپنے وسائل کا کچھ حصہ ان کو تعلیم اور ہنر دینے میں صرف کیا ہو۔

ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ادارے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کچھ ہیں بھی تو صرف بڑے شہروں تک محدود اور وسائل کی کمی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں خصوصی بچوں کی تعلیم، تربیت اور نگہداشت کا کوئی منظم نظام موجود ہی نہیں۔ شاید یہ افراد حکومتی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہوتے۔ پورے پاکستان میں مجموعی طور پر سرکاری و نجی 744 اسپیشل ایجوکیشن کے ادارے کام کررہے ہیں جن میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ایسے اداروں کی تعداد صرف 189 ہے جبکہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں محض 46 اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز ہیں۔ صوبہ سندھ کی بات کریں تو یہاں 154 اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسپیشل ایجوکیشن کے صرف 122 ادارے ایسے ہیں جو سرکاری یا نجی امداد کے ذریعے فعال ہیں۔ یہ ہے ہمارا مجموعی مزاج اور یہ ہے ہمارا اپنے خصوصی افراد کے ساتھ رویہ۔


 

بات کیونکہ معذور افراد کی ہورہی ہے تو چلتے چلتے کچھ اپنے بارے میں بھی بتادوں۔ میرا شمار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے کہ جن کا عالمی دن، آج منایا جارہا ہے۔

جی ہاں میں بچپن سے ہی عضلات کے سکڑنے اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کی بیماری ’’مسکیولر ڈسٹروفی‘‘ میں مبتلا ہوں۔ اس بیماری کے باوجود میرے والدین نے ہمت نہ ہاری اور مجھے نہ صرف بڑے دل سے قبول کیا بلکہ اپنی باقی اولاد کی طرح شہر کے معیاری تعلیمی اداروں میں نارمل بچوں کے ساتھ تعلیم مکمل کروائی، کیونکہ وطن عزیز میں خصوصی تعلیم کے ادارے بہت قلیل تعداد میں ہیں، اور اگر ہیں بھی تو صرف اسکول کی سطح تک۔ اسی بناء پر میں نے بنیاد سے یونیورسٹی تک نارمل بچوں کے ساتھ ملک کے بہترین اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ سیاسیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد روزگار کے حصول کےلیے سرتوڑ کوششیں کیں، متعدد این ٹی ایس ٹیسٹ اور انٹرویوز میں کامیابی حاصل کی مگر ہر بار خالی ہاتھ لوٹا دیا گیا۔ خصوصی افراد کے پانچ فیصد مخصوص کوٹے پر عمل درآمد کےلیے در در کی خاک چھانی، حکومتی اعلیٰ عہدیداران سے ملاقاتیں بھی کیں، میڈیا پر آواز بھی اٹھائی مگر بات دعووں اور وعدوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ لیکن پے در پے ناکامی میرے حوصلے اور عزم کی دیوار گرانے میں ناکام رہی۔

میں نے فارغ وقت کو کسی کام میں لانے کےلیے ذاتی کتاب ترتیب دینا شروع کی۔ مجھے شاعری کا شغف ورثے میں ملا تھا۔ سو اب تک کے اپنے تمام کلام کو جمع کرکے ترتیب دینا شروع کیا اور اب میرا شعری مجموعہ، اشاعت کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کی تعمیر میں بطور خصوصی فرد شمولیت کی نیت سے اپنے علاقے کے ضرورت مند بچوں کو گھر پر بلامعاوضہ ٹیوشن پڑھانا شروع کیا اور ساتھ ہی کئی جرائد میں اپنی تحاریر بھیجنے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ امید ہے اس بلاگ کے ساتھ میری روداد بھی اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے گی اور ہمارے قارئین بھی میری آواز کو گونج بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔


 

المیہ یہ بھی ہے کہ عام تعلیمی اداروں میں معاشرتی سطح پر نظرانداز ان طلباء کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کلاس میں ہر 5 نارمل بچوں کے مقابلے میں کم از کم ایک خصوصی بچہ ضرور ہونا چاہیے۔ بجائے اس کے کہ انہیں الگ تھلگ رکھا جائے، ایک ہی ماحول میں پروان چڑھایا جائے۔ اس طرح انہیں سیکھنے اور بحالی کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ انکلیوسیو ایجوکیشن سسٹم کے تحت انہیں بھی سسٹم میں شامل کرنا چاہیے۔ اور جب وہ اعلی تعلیم کے مرحلے تک پہنچ جائیں تو ان کےلیے الگ یونیورسٹی قائم کی جائے جہاں ان کےلیے اعلیٰ تعلیم اور ڈگری کورسز کے ساتھ ووکیشنل ٹریننگز بھی دی جائیں۔

اس بات سے انکار نہیں کہ حکومتی وسائل اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ فوری طور پر بڑے پیمانے پر الگ یونیورسٹیاں بنائی جائیں۔ مگر کم از کم ابتدائی طور پر عام تعلیمی اداروں میں نارمل بچوں کے ساتھ خصوصی بچوں کو بٹھا کر، تعلیم کے مراحل سے گزار کر، بحالی کی طرف گامزن تو کیا جاسکتا ہے۔

انکلیوسیو ایجوکیشن وقت کی اہم ترین ضرورت اور انتہائی مؤثر طریقہ تدریس ہے جس سے بچے میں احساس کمتری کا خاتمہ ہوتا ہے اور نارمل بچوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ اپنے آپ کو بھی نارمل محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ طریقہ تدریس کم وسائل میں رہتے ہوئے خصوصی بچوں کی پرورش اور نشوونما کا مؤثر ترین نظام ہے جس میں عدم تحفظ کا شکار خصوصی بچوں کے رویوں کی نشوونما اور صلاحیتوں کی پرورش ہوتی ہے۔ وہ نارمل بچوں کے ساتھ رہ کر بہت کچھ سیکھتے ہیں اور ایک پراعتماد زندگی کی طرف آتے ہیں۔

دوسری طرف والدین اپنے بچوں کی تکالیف اور ان کے حل سے ناواقف ہونے یا کسی جانب سے بھی تعاون اور مسائل کے حل کےلیے رہنمائی نہ ملنے کی بناء پر ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔ اور جو واقف ہیں، انہیں اپنے آس پاس ان خاص بچوں کو کسی قابل بنانے کا کوئی مناسب پلیٹ فارم نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں جو این جی اوز غیر ملکی فنڈز یا مخیر افراد کی امداد سے کام کرتی نظر آتی ہیں، ان کی کارکردگی بھی صرف کیمرے کے آن رہنے تک ہی رہتی ہے۔ فوٹو شوٹس اور ویڈیو کلپس بنا کر یورپی ممالک بھیجے جاتے ہیں جہاں سے شاباشی اور ڈالرز، دونوں موصول ہوتے ہیں؛ لیکن صرف ان ہی کو۔

یہ غور طلب مسئلہ ہے جسے ارباب اختیار کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ہم خصوصی افراد کے حقوق کی آواز بلند کرنے اور ان سے اظہارِ یکجہتی کےلیے جگہ جگہ سیمینارز، کانفرنسز، معذور افراد کے معاشرے میں موجودگی، ان کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مگر ان پروگرامز میں جو قراردادیں پاس ہوتی ہیں، جو دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں، وہ صرف ان کانفرنسوں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ اگر ان میں سے چند پر بھی عمل کرلیا جاتا تو معاشرے میں خصوصی افراد اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ ہوتے۔

خصوصی افراد کے مسائل کی فہرست یہیں تمام نہیں ہوتی۔ انہیں دن چڑھنے سے رات کی کالی چادر اوڑھنے تک، زندگی کے ہر قدم پر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ان مشکل حالات میں کسی کو تو ان کےلیے آگے آنا ہی ہوگا۔ ان کے مسائل کے سدباب کےلیے ان کو قریب سے جاننا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ ہمیں اس کرب کا اندازہ کرنا ہوگا کہ جب کوئی نابینا شخص بے ہنگم ٹریفک کے بیچ سڑک نہیں پار کر پاتا، تب اس پر کیا گزرتی ہے۔ ہمیں اس تکلیف کو بھی جاننا ہوگا کہ جب کوئی جسمانی معذور شخص پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے سے اس لیے قاصر ہوتا ہے کیونکہ بس والے اس کی وہیل چیئر ساتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اور جب وہی شخص کسی بھی سرکاری عمارت یا شاپنگ سینٹر میں جاتا ہے تو کوئی ریمپ نظر نہیں آتا، اوپر کو جاتی تنگ سیڑھیاں منہ چڑھاتے ہوئے ان کا راستہ روک لیتی ہیں اور وہ شخص اپنے مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ پاتا۔ کوئی بھی عام شخص ان سب تکالیف کا اندازہ نہیں کرسکتا کیونکہ وہ ان سے کبھی نہیں گزرا۔ ’’جس تن نوں لگدی اے او تن جانڑے‘‘ مگر بے روزگاری ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تجربہ تقریباً ہر پاکستانی نے کبھی نہ کبھی ضرور کیا ہوتا ہے۔

معذور افراد کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید ہنر سے آراستہ ہونے کے بعد بھی نوکری نہیں ملتی۔ تمام تعلیمی قابلیت کے تقاضے پورے کرنے اور تحریری ٹیسٹ میں کامیاب ہونے کے بعد بھی انٹرویو کی میز سے خالی لوٹا دیا جاتا ہے۔ شاید وہ ان کے معیار پر پورے نہیں اُترتے۔

خصوصی افراد کی تعلیم کی طرح ملازمت کےلیے بھی کوئی باقاعدہ قانون یا نظام موجود نہیں۔ 1987 میں جنرل ضیاءالحق نے خصوصی افراد کےلیے ایک علیحدہ وزارت اور اداروں کے قیام کے ساتھ ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹے کا صدارتی آرڈیننس جاری کیا۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ کیا 1987 سے اب تک خصوصی افراد کی تعداد 2 فیصد ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا اس 2 فیصد پر بھی عمل ہوتا ہے؟ اس کے برعکس ہم جن مغربی ممالک اور ان کی جمہوری اقدار کی مثال دیتے ہیں، وہاں پر خصوصی افراد کو حقیقی معنوں میں خاص مانا جاتا ہے اور خاص رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ ان کو ضروریات زندگی کےلیے کوئی نوکری نہیں کرنی پڑتی۔

آسٹریلیا، کینیڈا، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ جیسے کئی ممالک میں خصوصی افراد کےلیے حکومت کی طرف ماہانہ 1500 ڈالرز یا اس کے مساوی رقم باعزت طور پر باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہے۔ انہیں سفری سہولیات اور تعلیمی اداروں میں داخلے میں خاص رعایت اور آسانی دی جاتی ہے۔ تمام پارکس، سرکاری عمارتوں اور شاپنگ سینٹرز میں ان کی ضرورت کے مطابق علیحدہ گزرگاہ، واش روم اور پارکنگ کی جگہ بنائی گئی ہیں۔ اس سب کے برعکس وطن عزیز میں خصوصی افراد کا معیار زندگی انتہائی پستی کا شکار ہے۔ ذہنی پسمانگی، کم آگاہی اور ظالمانہ طبیعتوں کے سبب خصوصی افراد پر فقرے کسنا، برے القابات سے پکارنا اور ان کے باہر نکلنے پر ان کو عجیب سوالیہ نظروں سے گھُور کر دیکھنا معمول کی بات ہے۔ یہ ایک ایسا شرمناک عمل ہے جس کی وجہ سے ان پڑھ والدین اپنے بچوں کو گھر میں بند کرکے رکھتے ہیں۔ اور کچھ خصوصی افراد خود کو دنیا کی چبھتی ہوئی نظروں سے بچانے کےلیے گھروں تک ہی محدود کرلیتے ہیں۔

اس سب کےلیے جہاں شعور کی کمی اور انسانی ہمدردی کے فقدان کو اہم وجہ قرار دیا جاسکتا ہے، وہیں ریاست پاکستان اور عوامی نمائندوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنی قوم کے اس کمزور طبقے کی طاقت بنیں اور انہیں ان کا جائز مقام اور حقوق دلائیں، تاکہ یہ بھی باقی ممالک کے خصوصی افراد کی طرح ایک باعزت اور پرسکون زندگی بسر کر سکیں۔ ان کےلیے ایسی زندگی کو یقینی بنانا حاکم وقت پر ان کا حق ہے، کیونکہ کسی بھی عام پاکستانی کی طرح یہ بھی ووٹ دے کر انہیں منتخب کرتے ہیں۔ اور کچھ نہ سہی ان کا ’’انگوٹھا‘‘ اتنا ہی مؤثر ہے جتنا کہ کسی عام انسان کا۔ سو اگر ان کا ووٹ اہمیت رکھتا ہے تو ان کے مسائل کی بھی اہمیت ہونی چاہیے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ ووٹ کے ساتھ ساتھ خاص ووٹر کو بھی خصوصی عزت دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راجہ محمد اویس

راجہ محمد اویس

بلاگر ’’مسکیولر ڈسٹروفی‘‘ نامی بیماری کے باعث معذور ہونے کے باوجود پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کرچکے ہیں جبکہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مختلف اخبارات و جرائد کیلئے تواتر سے مضامین بھی لکھتے رہتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔