جامعہ کراچی، اسنا دکی چھپائی و سیکیورٹی پرنٹنگ پریس سے کرانے کا فیصلہ

اسٹاف رپورٹر  پير 1 جولائ 2013
چوری ہونیوالی2 ہزاراسناد تاحال پولیس برآمد نہ کرسکی،سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے حکام سے بروقت فراہمی پر بات چیت جاری۔ فوٹو: فائل

چوری ہونیوالی2 ہزاراسناد تاحال پولیس برآمد نہ کرسکی،سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے حکام سے بروقت فراہمی پر بات چیت جاری۔ فوٹو: فائل

کراچی: جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے بازارمیں جعلی اسنادکی فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بعد یونیورسٹی کی اسناد سیکیورٹی پرنٹنگ پریس سے چھپوانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سیکیورٹی پرنٹنگ پریس سے بات چیت بھی شروع کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ چند ماہ قبل یونیورسٹی پریس سے جامعہ کراچی کی2 ہزاراسناد کی چوری کے بعد سامنے آیا ہے جو جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف وتالیف کی جانب سے چھاپی گئی تھیں، اب تک پولیس اس چوری میں ملوث افرادکو پکڑ سکی اور نہ ہی چھاپی گئی ڈگریاں مل سکیں، جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں تمام ضابطوں کی اسناد سیکیورٹی پرنٹنگ پریس سے چھپوانے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈگری سے پی ایچ ڈی کی سطح تک اسناد سیکیورٹی پرنٹنگ پریس سے چھپوانے پر غورہو رہا ہے، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرکے مطابق سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے پاس ایسی مشینری موجود ہے جس پر چھپنے والی اسناد کی باآسانی کاپی نہیں کی جاسکتی اور جعلی اسناد کے دھندے میں ملوث افراد کے پاس موجود اسناد سے اس کی واضح تفریق بھی کی جاسکتی ہے۔

جامعہ کراچی کی اسناد خصوصی پیپر شیٹ پر چھاپی جائیں گی جس میں نوٹ کی طرز پر تار موجود ہو گا جبکہ شیٹ کی دونوں جانب یونیورسٹی کا مونوگرام نمایاں ہوگا، شیخ الجامعہ کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی اردویونیورسٹی میں اپنے دور سربراہی میں یہ تجربہ کرچکے ہیں جو انتہائی کامیاب رہا تھا تاہم سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے پاس کام کی زیادتی کے سبب بروقت اسناد کی چھپائی نہ ہونے کا امکان بھی رہتا ہے، جامعہ کراچی روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں اسناد جاری کرتی ہے لہٰذا سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کے حکام سے بات چیت میں اس معاملے پر بھی غور ہو گا کہ یونیورسٹی کو اسناد کی فراہمی بروقت ہو سکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔