گائے سے زیادہ غذائیت بھرا دودھ دینے والی انوکھی مکڑیاں

ویب ڈیسک  منگل 4 دسمبر 2018
چیونٹی سے مشابہہ ’ٹاکسیئس میگنس‘ نامی مکڑی اپنے بچوں کو دودھ نما شے پلا کر پالتی ہے (فوٹو: چینی اکادمی برائے سائنس)

چیونٹی سے مشابہہ ’ٹاکسیئس میگنس‘ نامی مکڑی اپنے بچوں کو دودھ نما شے پلا کر پالتی ہے (فوٹو: چینی اکادمی برائے سائنس)

بیجنگ: قدرت کے کارخانے سے ایک حیرت انگیز خبر آئی ہے کہ بعض مکڑیاں اپنے بچوں کے لیے دودھ نما مائع خارج کرتی ہیں جو غذائیت میں کسی بھی طرح گائے کے دودھ سے کم نہیں ہوتا، اس مائع کو پی کر ان کے بچے بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔

بعض مکڑیوں کے بچے ہمارے بچوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی ماں بچوں کو دودھ جیسا مائع پلاتی ہیں۔ کچھ مکڑیوں کے بچے چھوٹے کیڑے یا پھولوں کے زردانوں پر گزارا کرتے ہیں اور بعض بالغ ہوکر شکار سیکھنے تک کچھ نہیں کھاتے۔

چینی اکادمی برائے سائنس کے ماہرین نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں پائی جانے والی ایک مکڑی ’ٹوکسیئس میگنس‘  toxeus magnus کے بچے برق رفتاری سے بڑھتے ہوئے صرف 20 دن میں بلوغت تک پہنچ جاتے ہیں لیکن ماں اور ان کے بچے کھانے کی تلاش میں اپنا گھر نہیں چھوڑتے ہیں۔

چینی ماہر زینجی نے بتایا کہ ’ہم ان مکڑیوں پر غور کررہے تھے کہ ایک رات مکڑی کا بچہ اپنی ماں سے چپکا ہوا پایا گیا، اسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ شاید ’ماں مکڑی‘ اپنے بچوں کو چمٹا کر کوئی شے پلارہی ہے۔ اس کے بعد مکڑی کو احتیاط سے لے کر خردبین کے ذریعے دیکھا گیا تو اس کے بدن سے مائع کے چھوٹے قطرے خارج ہورہے تھے جو دودھ جیسے تھے اور اس کی غذائیت گائے کے دودھ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

toxeus-magnus-2

اگلے مرحلے میں بچوں کو یہ قطرے پینے سے روکا گیا تو وہ صرف دس دن میں ہی مرگئے۔ اس سے معلوم ہواکہ یہ ’دودھ‘ بچوں کے لیے کسی غذائیت بھری شے کی طرح ہی ہے اور بچہ مکڑی کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔

toxeus-magnus

اگرچہ یہ بچے صرف 20 دن میں بالغ ہوکر شکار کے لیے باہر نکل جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ 40 دن تک دودھ پینا نہیں چھوڑتے اور اس دوران چھوٹے کیڑوں کو بھی کھاتے رہتے ہیں۔ اب اس مرحلے پر بھی ماں کو بچوں سے دور کردیا گیا تو ان کی زندہ رہنے کے امکانات میں 40 فیصد کمی واقع ہوگئی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔