پولیس نے 6 ماہ میں 4 دہشت گرد، 50 ڈاکو اور17 اغوا کار ہلاک کردیے

اسٹاف رپورٹر  پير 1 جولائ 2013
 کراچی پولیس نے 4694 مفرور،473 اشتہاریوں،23 اغواکار،65دہشتگرد،4403 ڈکیت پکڑ لیے،ششماہی رپورٹ آئی جی کو پیش. فوٹو: فائل

کراچی پولیس نے 4694 مفرور،473 اشتہاریوں،23 اغواکار،65دہشتگرد،4403 ڈکیت پکڑ لیے،ششماہی رپورٹ آئی جی کو پیش. فوٹو: فائل

کراچی: کراچی سمیت سندھ کی تمام پولیس رینج ، زون اور ڈسٹرکٹس میں ڈکیتی، زہزنی ، قتل اغوا برائے تاوان سنگین جرائم میں ملوث ملزمان اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 1382پولیس مقابلوں میں 4 دہشت گرد، 76 ڈاکوئوں سمیت اغوا برائے تاوان میں ملوث 19ملزمان ہلاک ہوگئے۔

پولیس اعلامیے کے مطابق یہ بات آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ کو رواں سال جنوی سے لے کر 27 جون 2013 تک سندھ پولیس کی کارکردگی رپورٹ میں بتائی گئی،رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ پولیس نے صوبے بھر میں کی جانیوالی کارروائیوں میں2213 اشتہاری 15138 مفرور ،73 اغوا کاروں،66 دہشت گرد ،5699 ڈاکووں اور ڈکیتی زہزنی میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونیوالے 1176 ملزمان سمیت مجموعی طور 24385 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں جرائم پیشہ عناصر کے 542 گروہوں کا خاتمہ ہوا،گرفتار ملزمان سے 1458 کو گرام دھماکا خیز مواد ، 3 راکٹ لانچر ،204 ہینڈ گرنیڈ،55 بم تیار حالت میں5 خودکش جیکٹیں،4403 پستول اور ریوالور،139رائفلیں ، 194ایس ایم جیز ،6 ایم پی فائیو،2 ایل ایم جی ، ایک اینٹی کرافٹ گن کے علاوہ 2 جی تھری رائفل اور 415 شاٹ گنز ، رپیٹرز برآمد ہوئیں۔

رپورٹ میں آئی جی سندھ کو بتایا گیا کہ کراچی  پولیس نے مذکورہ دورانیے میں4694 مفرور،473 اشتہاریوں ،23 اغوا کاروں اور 65 دہشت گردوں ،4403 ڈکیت ملزمان سمیت مجموعی طور پر 9548 ملزمان کو گرفتار کیا جس میں دوران ڈکیتی رہزنی،رنگے ہاتھوں گرفتار کیے جانے والے449 ملزمان شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق شہر بھر سے جرائم پیشہ عناصر کے 461 گروہوں کو ختم کیا گیا جبکہ 662 پولیس مقابلوں میں 4 دہشتگردوں ، 50 ڈاکووں اور 17اغوا کار ہلاک ہو گئے،گرفتار ملزمان سے 2 ایل ایم جی،2 جی تھری رائفل ، 6 ایم پی فائیو،111شاٹ گنز ، رپیٹرز ، 80 رائفل ،3068 پستول اور ریوالور،4 خود کش جیکٹس ، 203 ہینڈ گرنیڈز،51 بم تیار حالت میں 2 راکٹ لانچز اور 1458 کو گرام دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔