عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے

محمد افضل بھٹی  جمعـء 7 دسمبر 2018
ہماری عدالتوں میں انصاف صرف اس کو ملتا ہے جس کے پاس لاٹھی ہے یا پیسہ۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ہماری عدالتوں میں انصاف صرف اس کو ملتا ہے جس کے پاس لاٹھی ہے یا پیسہ۔ فوٹو: انٹرنیٹ

کسی ملک کے امن و سکون کو جانچنا ہے تو اس ملک کے عدالتی نظام کا مطالعہ کر لیجیے۔ اگر عدالتیں بروقت اور سستا انصاف مہیا کررہی ہیں تو ملک امن و شانتی کا گہوارہ ہوگا، بصور ت دیگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ عظیم دوم کے دوران کسی نے برطانوی وزیراعظم چرچل کو بتایا کہ دشمن کے جہاز لندن پر شدید بمباری کر رہے ہیں۔ چرچل نے یہ نہیں پوچھا کہ ہمارے فائٹر طیارے کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں، بلکہ اس نے سوال کیا کہ کیا ہمارا عدالتی نظام ٹھیک کام کر رہا ہے؟ جواب ہاں میں آیا تو چرچل نے کہا، اگر ایسا ہے تو پھر فکر کی کوئی بات نہیں۔ دشمن ہم پر حاوی نہیں ہوسکتا۔

برطانیہ میں نصف صدی قبل بھی عدالتیں انصاف مہیا کررہی تھیں مگر ہمارے عدالتی نظام کی حالت انتی دگرگوں ہے کہ آج بھی اعلیٰ عدلیہ کے ججز کف افسوس ملتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جناب آصف سعید کھوسہ نے فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران عدالتی نظام کی خرابیوں پر بات کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالتی نظام انتہائی خراب ہے۔ جھوٹے گواہوں کی بھرمار ہے۔ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جھوٹی گواہی کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ پھانسی کی سزا دیتی ہے، ہائی کورٹ عمر قید کی سزا دیتی ہے جبکہ سپریم کورٹ سے ملزم بری ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جھوٹی گواہی پر سزا دینے والے ججوں سے بھی پوچھ گچھ ہوگی؛ اور جھوٹی گواہی دینے والوں کو بھی سزائیں ہونگی۔ جس طرح لاہور میں ہیلمٹ نہ پہننے والے چند لوگوں کے چالان ہوئے تو سارا شہر ٹھیک ہوگیا۔ اسی طرح جلد ہی جھوٹے گواہوں کو پکڑیں گے اور جھوٹی گواہی پر سزا دینے والے ججوں سے بھی باز پرس ہوگی۔

جسٹس کھوسہ نے جھوٹی گواہی کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک انگریز جج نے پنجاب کے متعلق فیصلہ دیا تو اس نے فیصلے میں لکھا کہ دنیا کے ہر کونے میں مرتا ہوا انسان سچ بولتا ہے، مگر پنجاب میں مرتا ہوا انسان بھی جھوٹی گواہی دے کر دو تین لوگوں کو پھنسا کر جاتا ہے۔ جسٹس کھوسہ کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی عدالتوں میں انصاف صرف اس کو ملتا ہے جس کے پاس لاٹھی ہے یا پیسہ ہے۔ اگرچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں سچی گواہی دینے کا حکم دیا ہے، خواہ اس سے انسان کے والدین اور رشتہ داروں کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔ لیکن ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اللہ کے حکم کی پیروی کی بجائے حکم عدولی کر رہے ہیں، اور جھوٹی گواہیاں دے کر بے قصوروں کو سزائیں دلوا رہے ہیں۔ جبکہ اس بارے میں واضح احکامات ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو جھوٹی گواہی دینے والا مسلمان ہی نہیں رہتا۔

جسٹس کھوسہ نے مزید فرمایا کہ ماتحت عدالتیں تقریباً ہر مقدمے میں پھانسی کی سزا سناتی ہیں۔ مقدمہ بریت کا ہوتا ہے لیکن ٹرائل کورٹ عمر قید کی سزا سنا دیتی ہے۔ ججز کیس کو بغیر پڑھے ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نیند کیسے آتی ہے۔ کیا انہیں کوئی ڈر خوف نہیں کہ خدا کو بھی جواب دہ ہوناہے۔ اگر ماتحت عدلیہ کو یہی کچھ کرنا ہے اور انصاف اعلیٰ عدلیہ ہی کو فراہم کرنا ہے تو ماتحت عدلیہ کو بند کر دینا چاہیے۔ اگر انصاف نہیں ملتا تو منصف کو کرسی پر بیٹھنے کا بھی کوئی حق نہیں۔

یہ وہ چند خامیاں ہیں جو سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے خود بتائیں، لیکن ہمارے عدالتی نظام کی برائیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ ہمارا عدالتی نظام گل سڑ چکا ہے۔ اگرچہ اعلیٰ عدالتوں سے تھوڑا بہت انصاف ملتا ہے، لیکن جب تک انصاف ملتا ہے تب تک لوگوں کی زندگیاں بیت چکی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ماضی قریب میں سپریم کورٹ سے ایک عمر قید کے ملزم کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا۔ جب اس کی بریت کے آرڈر متعلقہ جیل میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ تو دو سال قبل ہی وفات پاچکا ہے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن میں بے گناہ قیدی کئی دہائیوں تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بالآخر ملک کی اعلیٰ عدلیہ سے بے گناہ قرار دے دیے جاتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جو ناحق سزا انہوں نے کاٹی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ جھوٹا پرچہ کاٹنے والا، جھوٹی گواہی دینے والا، یا جھوٹی سزا دینے والا؟ ہمارے عدالتی نظام کی سب سے بڑی خرابی تو یہی ہے کہ کسی ملزم کو بری کرتے ہوئے الزام لگانے والے کو کوئی سزا نہیں سنائی جاتی۔ جھوٹی تفتیش کرنے والے پولیس افسر کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ ٹرائل کورٹس میں جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر غلط سزائیں دینے والے ججوں سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔ یہ وہ سب سے بڑی خامی ہے جس سے شریر لوگ فائدہ اٹھاتے ہوئے بے گناہ اور شریف لوگوں کو پھنساتے ہیں اور مالی فوائد حاصل کرتے ہیں۔

دراصل ہمارے عدالتی نظام کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے، جس کے لئے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اگر کسی کیس میں بریت دی جائے تو الزام لگانے والے کو سزا دی جائے۔ جھوٹی گواہی دینے والے والوں کے لئے عمر قید کی سزا رکھی جائے تو زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ مزید یہ کہ غلط پرچہ کاٹنے اور غلط تفتیش کرنے والے پولیس افسر کو بھی سزاوار ٹھہرایا جائے توہمارا عدالتی نظام سیدھی ڈگر پر آجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔