تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز حکومتی لاتعلقی کا شکار

رضوان آصف  بدھ 5 دسمبر 2018
پارٹی کے اندر یہ مضبوط تاثر موجود ہے کہ ارشد داد جہانگیر ترین گروپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

پارٹی کے اندر یہ مضبوط تاثر موجود ہے کہ ارشد داد جہانگیر ترین گروپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: عمران خان نے 2013 ء کا الیکشن ہارنے کے بعد اپنے کارکنوں اور رہنماوں کو متحرک اور پرجوش رکھنے کیلئے ایک بیانیہ تخلیق کیا اور وہ ہر پارٹی اجلاس اور جلسے بالخصوص 126 روزہ دھرنے کے ہر دن کارکنوں سے خطاب اور انفرادی ملاقاتوں میں کہا کرتے تھے کہ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی تو پارٹی کیلئے خون پسینہ ایک کرنے والے کارکنوں اور رہنماوں کو نظر انداز نہیں کریں گے اور ان کی صلاحیتوں سے حکومت میں فائدہ اٹھایا جائے گا۔

کپتان کی اسی ’’لال بتی‘‘ کے پیچھے پیچھے بھاگتے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں اور کارکنوں کو25 جولائی 2018 کی صبح تک یہ امید تھی کہ آج ان کی پارٹی الیکشن میں بھاری اکثریت لینے میں کامیاب ہو جائے گی اور کپتان حسب وعدہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے قیام کے بعد اپنے ایسے رہنماوں اور کارکنوں کو حکومتی عہدے دیں گے جنہوں نے برسوں تک پارٹی کیلئے مالی قربانیاں دی ہیں لیکن الیکشن میں سب سے پہلے تو ٹکٹوں کی تقسیم میں پارٹی کے حقیقی حقداروں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور ’’ہینڈ اوور‘‘ کیئے جانے والے الیکٹ ایبلز ٹکٹ لے اڑے اور الیکشن کے بعد حکومت سازی کیلئے اتحادیوں کی ضرورت نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔

حکومت کو 100 دن گزر چکے ہیں اور اس تمام عرصہ میں پارٹی کے کارکن اور رہنماوں کی بے چینی اور پریشانی میں سنگین حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر تحریک انصاف کے الیکشن ہارنے والے ٹکٹ ہولڈرز کی عجب حالت ہے کہ ان کے حلقے کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت تحریک انصاف کی ہے لہذا ٹکٹ ہولڈر کی بات سنی جاتی ہو گی، ووٹرز اپنے روزمرہ کے کام لیکر ٹکٹ ہولڈرز کے پاس پہنچتے ہیں اور بے چارہ ٹکٹ ہولڈر جب ان کاموں کیلئے متعلقہ وزیر کو تلاش کرتا ہے تو اسے مایوسی ہوتی ہے، بیوروکریسی ویسے ہی بڑی سیانی ہے،انہیں بھی احساس ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے پارٹی رہنماوں اور ٹکٹ ہولڈرز کو زیادہ لفٹ نہیں کروا رہی جبکہ وزراء بھی اپنی ذات میں مگن رہتے ہیں لہذا محکمانہ افسر بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز کو ٹرخا دیتے ہیں۔

ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ تو ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ والا معاملہ ہے کہ ایک جانب حکومت سے انہیں کوئی تعاون حاصل نہیں ہو رہا تو دوسری جانب اپنا حلقہ قائم رکھنے اور اس میں ووٹرز کو راضی رکھنے کیلئے ان کی خوشی غمی پر پیسے بھی لگانا پڑ رہے ہیں اور سماجی منصوبوں کیلئے بھی مالی مدد اپنی جیب سے دینا پڑتی ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت کی حکمت عملی (اگر کوئی ہے تو) کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی کہ ایسے وقت میں جب حکومت کی کارکردگی اور معاشی تباہی کی وجہ سے عام پاکستانی تحریک انصاف سے دور ہو رہا ہے، ایسے وقت میں تو عمران خان کو اپنے رہنماوں اور ٹکٹ ہولڈرز کی مدد سے عوام کو سمجھانے اور ساتھ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے لیکن پی ٹی آئی چیئرمین سب سے زیادہ نظر انداز ہی انہی لوگوں کو کر رہے ہیں، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومتی عہدوں پر سیاسی تقرریاں فوری کردی جاتیں تا کہ پارٹی کے اندر پایا جانے والا احساس محرومی بھی کم ہوتا اور نچلی سطح پر عوام کے ساتھ رابطہ بھی بہتر ہوجاتا لیکن سینکڑوں حکومتی عہدوں میں سے چند درجن پر ہی تعیناتیاں ہو پائی ہیں، وہ کسی میرٹ کی بجائے اقربا پروری کا نتیجہ ہیں کیونکہ وفاق اور پنجاب میں حکومتی عہدوں پر جن لوگوں کو ابھی تک تعینات کیا گیا ہے ان  میں سے زیادہ تر کے بارے میں مضبوط تاثر ہے کہ انہیں صلاحیت یا پارٹی ورک کی بجائے دھڑے بندی کی بنیاد پر تعینات کیا گیا ہے، تحریک انصاف کے حلقوں کے مطابق ابھی تک صرف چیئرمین پی ایچ اے لاہور کے عہدے پر یاسر گیلانی کی تقرری کو ہی میرٹ پر کہا جا سکتا ہے کیونکہ یاسر گیلانی ایک حقیقی کارکن رہا ہے اور اس نے ہمیشہ پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی جبکہ عام انتخابات میں اس کو ٹکٹ نہ دیکر زیادتی بھی کی گئی،اس کے علاوہ دیگر تقرریوں پر میرٹ کہیں دکھائی نہیں دیتاہے۔

چند روز قبل عمران خان نے حکومتی عہدوں پر تقرریوں کیلئے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ارشد داد کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن اس کمیٹی کے ارکان خود بھی پارٹی کے اندر متنازعہ ہیں لہذا ان کی سفارشات کو شاید پارٹی کے اکثریتی حلقے تسلیم نہیں کریں گے۔ارشد داد تحریک انصاف کے بانی کارکنوں میں شامل ہیں اور ان کا عمران خان کے ساتھ دیرینہ تعلق ہے لیکن  سیکرٹری جنرل بننے سے قبل وہ کبھی بھی تحریک انصاف کے افق پر روشن ستارہ بن کر چمکتے دکھائی نہیں دیئے تھے۔ارشد داد کے حوالے سے بھی پارٹی کے اندرکافی تحفظات پائے جاتے ہیں، پارٹی کے اندر یہ مضبوط تاثر موجود ہے کہ ارشد داد ،جہانگیر ترین ،عبدالعلیم خان اور ان جیسے بعض اہم رہنماوں کے خلاف ہیں اور مبینہ طور پر پارٹی کے اندر اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کو سیاسی طور پر مضبوط پارٹی بنانے میں جو کردار جہانگیر ترین نے نبھایا اس کا اعتراف نہ صرف خود عمران خان سر عام کرتے ہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور بیرونی سفارتی حلقے بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے عہدے پر جہانگیر ترین نے جو کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے، ارشد داد کو پارٹی کے صف اول کے رہنماوں کے ساتھ محاذ آرائی کی بجائے اپنی کارکردگی سے اپنی اہمیت بنانی اور منوانی چاہیئے، مخالفت اور دھڑے بندی کو استعمال کرنا خود ان کیلئے مشکلات پیدا کرے گا ۔ پارٹی حلقوں کے مطابق ارشد داد اس وقت یہ تاثر پیدا کرنا چاہ رہے ہیں کہ ضمنی الیکشن کے امیدواروں کے انتخاب سمیت حکومتی عہدوں پر تقرریوں کے حوالے سے ان کی رائے’’فیصلہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارشد داد کو بحیثیت سیکرٹری جنرل اپنی پارٹی کو درپیش چیلنجز سے نبٹنے کیلئے منفرد اقدامات تجویز کرنا چاہئیں اور یقینی طور پر وہ ایک تجربہ کار انسان ہیں اور اس چیلنج سے بخوبی نبٹ سکتے ہیں۔

تحریک انصاف کو اپنے ٹکٹ ہولڈرز اور پارٹی رہنماوں کو فوری طور پر آن بورڈ لینا چاہیئے اور اس مقصد کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا چاہئیں،اس وقت پارٹی کارکن اور رہنما’’لاوارث‘‘ محسوس کر رہے ہیں اور یہ مضبوط تاثر موجود ہے کہ الیکٹ ایبلز اور اتحادیوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کا’’حق‘‘ ہائی جیک کر لیا ہے۔ بہت حد تک یہ تاثر درست بھی ہے جیسا کہ جنوبی پنجاب میں شاہ محمود قریشی نے اپنے ’’قریبی‘‘ ساتھی عون عباس بپی کو تو وفاقی عہدہ دلوا دیا لیکن عمران خان کو جنوبی پنجاب میں پارٹی صدر اسحاق خاکوانی کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا خیال نہیں آیا ہے، یوں لگتا ہے کہ کپتان نیا پاکستان بناتے بناتے پرانے ساتھیوں کو بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما بریگیڈیئر(ر) اسلم گھمن ایک حساس خفیہ ایجنسی کے پنجاب میں سربراہ رہنے کے علاوہ ڈی جی اینٹی کرپشن کے عہدے پر گرانقدر خدمات سرانجام دے چکے ہیں لیکن آج پارٹی قیادت کو ان کا تجربہ نظر نہیں آرہا ہے، اسی طرح لاہور میں  ظہیر عباس کھوکھر، اعجاز ڈیال، مہر واجد عظیم، جمشید اقبال چیمہ، عبدالکریم کہلواڑ،منشا سندھو، آجاسم شریف،ملک زمان نصیب،خالد گجر جیسے PTI FACE ا ور ٹکٹ ہولڈر اپنے حلقوں میں ن لیگ کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی پارٹی کی سپورٹ کے منتظر ہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔