انسدادِ تجاوزات مہم: غریب کا جھونپڑا مسمار لیکن بلڈر مافیا پر مہربانیاں

رضوانہ قائد  جمعرات 6 دسمبر 2018
غریبوں کی جھگیاں اور دکانیں بڑی بے رحمی سے مسمار کی جارہی ہیں لیکن بلڈر مافیا کی کثیر المنزلہ عمارات کے خلاف حکومت اور سپریم کورٹ، دونوں بالکل معذور ہیں۔ (فوٹو: فائل)

غریبوں کی جھگیاں اور دکانیں بڑی بے رحمی سے مسمار کی جارہی ہیں لیکن بلڈر مافیا کی کثیر المنزلہ عمارات کے خلاف حکومت اور سپریم کورٹ، دونوں بالکل معذور ہیں۔ (فوٹو: فائل)

اس کی جنوری میں شادی ہے۔ تیاریاں بھی تقریباً مکمل ہیں۔ سب سے ضروری تیاری اور شادی کا اہم معاشرتی رکن جہیز ہے۔ کثیر العیال کنبے میں سفید پوشی کے پردے کے پیچھے ہونے والے اس کام کی اہمیت گھر والوں سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔ ایسے میں تجاوزات کی صفائی سے متعلق حکومت کا نوٹس ملتا ہے: ’’15 دن کے اندر گھر خالی کر دیا جائے۔ یہ پارک کی جگہ ہے اور عدالتی حکم کی رو سے اس پارک کو بحال کرنا ہے،‘‘ جبکہ گھر کی یہ زمین، مالک مکان نے خود خرید کر 20 برس قبل تعمیرات کی تھیں۔ گھر کے اصلی کاغذاتِ ملکیت بھی موجود ہیں مگر حکومت نہ ان کو خاطر میں لارہی ہے نہ اس گھر کے کوئی متبادل رقم وغیرہ دینے کو تیار ہے۔ یہ خاندان اپنے سامان اور بیٹی کے جہیز سمیت کیسے سائبان کا انتظام کرے؟ یہ کراچی کے حالیہ متاثرہ ایک سفید پوش مہذب خاندان کے مسائل کی ایک جھلک ہے۔

کراچی کی پرانی صورت کی بحالی کے عنوان سے سپریم کورٹ کے حکم پر انسدادِ تجاوزات آپریشن جاری ہے۔ اس حکم کے مطابق ’’سڑکوں، راستوں، پارکوں، برساتی نالوں اور سرکاری اراضی کو (غیر قانونی) تجاوزات سے پاک کرنا ہے۔‘‘ شہر کے بیشتر حصوں میں بلدیاتی اداروں کی مدد سے اس حکم پر مہماتی انداز میں عمل درآمد جاری ہے۔ جس میئر کے پاس تین سال سے شہر کے کچرے کی صفائی کے اختیارات نہ تھے، وہ تجاوزات کی صفائی کے اچانک حکم پر غیر معمولی فعال ہیں۔ میئر کراچی کے مطابق تریسٹھ (63) بازاروں میں نو ہزار (9,000) دکانیں گرانے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس مقصد کےلیے شہر میں انتباہی بینرز لگائے گئے اور متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیے گئے۔ راستوں کی کشادگی اور شہر کی پرانی (اصل) صورت کی بحالی کا یہ فیصلہ یقیناً خوش آئند ہے کہ کراچی کی بگڑی قسمت سنورنے کو ہے۔ لیکن اس کا کیا کیجیے کہ دوسری جانب حالات مستقبل کی اس خوب صورت تصویر کے حالیہ رٔخ کو بڑا بدصورت دکھا رہے ہیں۔

بغیر کسی پیشگی منصوبہ بندی یا متبادل کی فراہمی کے چند مقررہ دنوں کے نوٹس پر سات ہزار (7,000) کے قریب دکانیں گرائی جا چکی ہیں۔

شہر کے متاثرہ حصے ہنگامی صورتِ حال سے دوچار اور شہری سراپا احتجاج ہیں۔ ملک میں بےروزگاری کی شرح پہلے ہی چالیس فیصد ہے۔ حکام نے سوچا بھی ہے یہ اچانک روزگار سے محرومی، بے روزگاری کا تناسب کتنا بڑھا دے گی؟ چند گھنٹوں میں ملبے کا ڈھیر بننے والی ان چالیس پچاس لاکھ مالیت تک کی دکانوں کو ان کے سفید پوش مالکان نے کن مشکل حالات میں خریدا ہوگا؟ کون ابھی ان کی قیمت کا مقروض ہی ہو گا؟ کس نے گھر بیچ کر دکان خریدی ہو گی؟ کس نے قیمت کےلیے پیٹ کاٹ کر بچت کی ہوگی؟ پھر ایک دکان کا ایک مالک ہی نہیں، اس کے ملازمین، ان کے گھرانے… چولہے تو ٹھنڈے پڑے ہی، کوئی اپنے گھر کا واحد کفیل ہوگا، کسی کی بیٹی کی شادی سر پر ہو گی، کسی کے پیارے بیمار یا اسپتال میں ہوں گے، گھر کے ماہانہ یوٹیلیٹی بلز، کرائے، اسکول فیسیں… کیسی عجیب صورتِ حال ہے۔

ایسے میں کوئی اپنے عزیز سے مدد چاہے بھی تو کس منہ سے، کہ ایک کا کاروبار شہر کے ایک حصے میں ختم کردیا گیا تو دوسرے کی دکان شہر کے دوسرے حصے میں گرا دی گئی۔ غربت، ایمان کےلیے بھی خطرہ ہے۔

ایسے میں مجبور لوگ ملک دشمن عناصر کے آلۂ کار بنیں یا چوری ڈکیتی شروع کردیں تو کون اس کا ذمے دار ہوگا؟ شہر کی اصلاح کا ایک اچھا فیصلہ، درست منصوبہ بندی کے نہ ہونے اور ترجیحات کے عدم تعین کے باعث فساد کا سبب بن رہا ہے۔ اس قسم کے اصلاحی منصوبے کے ضمن میں ماضی میں قابلِ تقلید مثالیں موجود ہیں۔ نعمت ﷲ خان صاحب کے بلدیاتی دور میں جب پرانی سبزی منڈی کو ختم کرنا تھا تو پہلے نئی سبزی منڈی شہر سے باہر بنائی گئی۔ پٔرامن طریقے سے کاروبار منتقل کیے گئے۔ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کا منصوبہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ چودہ ہزار (14,000) مکانات موجود تھے۔ ان کی متبادل رہائش کےلیے لیاری ایکسپریس وے ہاؤسنگ سوسائٹی پہلے قائم کی گئی۔ گولیمار چورنگی سے لسبیلہ و گرومندر سڑک کی تعمیر کامنصوبہ تھا۔ متعلقہ افراد کو اعتماد میں لے کر تعاون کی درخواست کی گئی۔ لوگوں نے ازخود دکانیں پیچھے کیں اور سڑک تعمیر ہوئی۔ ان مثالوں میں اہم چیز: ایک تو لوگوں کا نقصان نہیں ہوا، دوسرے ان کےلیے متبادل کا قبل از وقت انتظام کیا گیا۔ جبکہ موجودہ صورتِ حال میں اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے۔ نتیجتاً شہریوں کا اشتعال اور غم و غصہ بھی فطری ہے۔

اس عدالتی حکم کا اہم پہلو جلدبازی میں انصاف کے تقاضوں کا پورا نہ کرنا بھی ہے۔ اگرچہ اس حکم کی مہماتی تعمیل سے لگ رہا ہے کہ پورا کراچی صاف ہوجائے گا لیکن عملاً ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ایک طرف غریبوں کی دکانیں گرانے میں اس تیزی سے کام لیا جارہا ہے کہ لیز اور قانونی دستاویزات کا لحاظ بھی نہیں رکھا جا رہا تو دوسری جانب امیروں کی ناجائز/ غیر قانونی تجاوزات سے نگاہیں بچائی جارہی ہیں۔ بلڈرز اور لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن کہیں نظر نہیں آرہا۔

بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے اور صائمہ بلڈرز کے تمام پروجیکٹس میں ایم این ایز، ایم پی ایز اور بیوروکرریٹس پارٹنر ہیں۔ چائنا کٹنگ میں صرف ایم کیو ایم ہی نہیں، تمام سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ سپراسٹورز چینز، منرل واٹر، آباد کی بلڈر مافیا… ان سب میں پی ٹی آئی تک کے بڑے لیڈر شامل ہیں۔

کراچی کے ایک علاقے (سوسائٹی) میں ہی اس کی کئی مثالیں موجود ہیں: شہیدِ ملت روڈ پر سراج الدولہ پارک، مبینہ طور پر قابض لینڈ مافیا کے ذریعے تجارتی مقاصد کےلیے استعمال ہورہا ہے۔ اسی روڈ پر قائم الرحمٰن ٹرسٹ، عوامی اسپتال کے لیے مختص سرکاری پلاٹ پر بنایا گیا ہے۔ سراج الدولہ روڈ پر موجود ڈاکٹر عائشہ ہیلتھ وژن ہاسپٹل، چیرٹی ہاسپٹل کےلیے مختص سرکاری پلاٹ پر بنایا گیا ہے۔ شبیر آباد میں تعلیمی مقصد کے لیے مختص سرکاری پلاٹ پر پرائیویٹ اسکول ’’ڈیل سول‘‘ قائم ہے۔

کیا انسدادِ تجاوزات مہم میں اس طرح غریبوں پر گرفت اور امیروں سے چشم پوشی ’’مدینے کی ریاست‘‘ کی بدنامی نہیں؟

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جس میئر کے پاس پچھلے تین سال سے کچرا اٹھانے کے اختیارات نہیں تھے، وہ عدالت کے حکم پر شہر ہی کو ملبے کا ڈھیر بنانے پر مستعد ہیں۔ پچھلے تیس پینتیس برسوں سے ان ہی میئر صاحب کی پارٹی بلدیاتی حکمران رہی، سپریم کورٹ بھی موجود تھا اور تجاوزات بھی موجود، بلکہ مزید قائم ہوتی رہیں۔ اب اچانک ہی سپریم کورٹ اور میئر کو ہوش آرہا ہے تو اس بابت بھی بیدار ہونے کی ضرورت ہے کہ ان تجاوزات کو کس نے وجود بخشا؟ اس سلسلے میں لیز دینے یا غیرقانونی کاغذات بنوانے اور بھتہ وصول کرنے والے سرکاری افسران کی تحقیق اور گرفت بھی ہونی چاہیے۔

اس ضمن میں ایک خدشہ آئی ایم ایف کی لٹکتی تلوار کے اندرونِ خانہ/ درپردہ وار کا بھی ہے۔ چونکہ یہاں کی دکانوں کی جگہیں اب نہایت قیمتی ہوگئی ہیں لہٰذا پرانے دکان داروں کو بےدخل کر کے بیرونی سرمایہ کاری کے نام پر یہ جگہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دی جائیں۔ آئی ایم ایف کے ایجنڈے سے وابستہ، اس خدشے کو ماضی کے ایک واقعے سے بھی ملتی ہے۔ یہ بات مشہور عام ہے کہ مصطفیٰ کمال کے دور میں صدر کی مارکیٹوں کو آگ لگوائی گئی تھی اوراس کے پیچھے بھی یہی مفاد سمجھا گیا تھا کہ یہاں کی جگہیں نہایت قیمتی ہو چکی ہیں لہٰذا اصل دکان داروں کو بےدخل کر کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہوٹل اور ریسٹورینٹ کھولے جائیں۔

آپریشن سے متعلق خدشات اور شہری احتجاج حکومت کے ایوانوں تک پہنچ چکے ہیں۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ غریبوں کی املاک مسمار ہونے کے بعد امیروں کی باری کی بات آئی تو حکومت کو کچھ ہوش آرہا ہے۔ خود تحریکِ انصاف کی جانب سے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی گئی اور چیف جسٹس سے اپنے ناظر کے ذریعے اس مہم کی مانیٹرنگ کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے بھی متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور روزگار کی بحالی کو اپنی ذمے داری قرار دیتے ہوئے متعلقہ ہدایات جاری کی ہیں۔ رہی اس تعاون اور بحالی پر عمل درآمد کی بات، تو وقت ہی بتائے گا کہ اس میں کس حد تک اخلاص و انصاف اور خدا خوفی و جواب دہی کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔

اس موقع پر مشرف دورِ حکومت کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کہ جب اسلام آباد میں اسی طرح کچی بستیوں کی جگہیں خالی کروائی جا رہی تھیں۔ ایک غریب بوڑھی عورت نے اپنا مکان چھوڑنے سے مکمل انکار کر دیا تھا کہ یہیں مرجاؤں گی لیکن اپنا گھر نہیں چھوڑوں گی۔ اس نے کچی بستیوں کے خلاف آپریشن کا حکم دینے والے افسر سے ملنے کی آخری خواہش ظاہر کی۔ متعلقہ افسر آیا۔

اسے دیکھ کر بوڑھی عورت نے ہاتھوں کو فضا میں بلند کرکے بددعا دی: ’’جس طرح تم لوگوں نے ہمیں دنیا میں برباد کیا ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمھارے ساتھیوں کو دنیا میں بھی برے انجام سے دوچار کرے۔‘‘ پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ افسر بھی نوکری چھوٹنے کے بعد مصیبت اور محتاجی کی زندگی گزار رہا ہے۔ پرویز مشرف بھی حکمرانی کے بعد نامعلوم بیماری کا شکار ہو کر بسترِ مرگ پر اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔

قصہ مختصر، زمینی حقائق چاہے کچھ بھی ہوں، حکمرانوں کے پیشِ نظر جواب دہی نہ رہی تو ان کو آج کا یہ عروج کل کے دنیا و آخرت کے زوال سے بچاسکے گا؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔