مرغی، گرم انڈے اور ماسی فقیراں

سید امجد حسین بخاری  جمعرات 6 دسمبر 2018
بعض لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ دیسی انڈوں اور مرغیوں سے معیشت کو کیسے سہارا دیا جا سکتا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

بعض لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ دیسی انڈوں اور مرغیوں سے معیشت کو کیسے سہارا دیا جا سکتا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ہمار ے محلے کا شمار گاؤں کے پڑھے لکھے علاقوں میں ہوتا ہے۔ ہم گھر والوں سے ہر گھر کی کامیابی کی داستان بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں۔ چاچو شیدے کا بڑا بیٹا ایم بی اے کرکے بڑے بینک میں ملازم ہے، رشیداں خالہ کا بیٹا ولایت سے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرکے آیا ہے، اسی طرح ہر گھر کی ایک الگ داستان ہے، لیکن بچپن سے ہی میرے لیے ماسی فقیراں کی کہانی خاصی متاثرکن محسوس ہوئی۔ گھر کا ہر فرد، محلے کا ہر پیر و جواں ہمیں ماسی فقیراں کی کہانی سناتا تھا۔ ماسی فقیراں کی کہانی سب سے پہلے امی نے سنائی۔

امی بتاتی ہیں کہ ماسی فقیراں نے اپنی مرغیوں کے انڈے بیچ بیچ کر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پالا پوسا، بڑا کیا اور اچھی تعلیم و تربیت دی۔ کبھی بھی امی کی اور محلے والوں کی باتوں کا یقین نہیں آیا۔ پہلی بات تو یہ تھی کہ ہمارا محلے اور علاقے میں ڈیری مصنوعات بیچنے کا رجحان نہیں، جس کو جب بھی ضرورت ہو وہ دوسرے گھر سے منگوا لیتا ہے۔ اس لیے میرے لیے اس کہانی پر یقین کرنا مشکل تھا۔ دوسری بات جو مجھے کھٹکتی تھی وہ یہ کہ جب ماسی فقیراں انڈے بیچا کرتی تھیں، تب تو ایک روپے میں دو انڈے آتے ہوں گے، اس وقت انہوں نے یہ کیسے کیا ہوگا۔

لیکن جوں جوں عمر میں پختگی آتی گئی، گھر والوں اور بزرگوں کی باتوں پر یقین کامل آتا آگیا۔ ساتھ ہی ساتھ ماسی فقیراں کا قد میری نظر میں مزید بلند ہوتا گیا۔

آج ایک دہائی گزرنے کے بعد مجھے ماسی فقیراں کی یاد آئی۔ حالانکہ ان کے بعد گاؤں اور پورے علاقے میں کئی خواتین کی کامیابی کی داستانیں سنیں، لیکن ماسی فقیراں میرے دماغ پر چھائی رہیں۔ رفتہ رفتہ ماسی فقیراں میرے دل ودماغ سے کہیں محو ہوگئیں تھیں۔ لیکن گذشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان کے بیان کے بعد مجھے دوبارہ ماسی فقیراں کی یاد آئی۔ ان کی کامیابی کی داستان میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی۔ ماسی فقیراں کا ایک بیٹا ان دنوں ڈپٹی کمشنر، دوسرا محکمہ تعلیم میں اٹھارہویں گریڈ کا افسر، جبکہ تینوں بیٹیاں سینئر ٹیچرز ہیں اور اپنا اپنا گھر بھی بسا چکی ہیں۔ بیٹے بھی اب خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر ماسی فقیراں اس چھوٹے سے بزنس کو چھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیتیں، تو ان کی تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کی پرورش کون کرتا؟ کون انہیں اعلیٰ تعلیم دلواتا؟ اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو آج ان کی اولاد کا شمار محلے کے ناپسندیدہ ترین افراد میں ہوتا۔

وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ بیان کو جہاں ملک بھر کے سیاستدان اور سوشل میڈیا مفکرین مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں،، وہیں مجھے ایک امید کی کرن نظر آرہی ہے۔ کتنی ہی خواتین مواقع نہ ملنے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتیں۔ کتنی ہی عورتیں مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔ انہیں دور دور تک کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

کچھ احباب اعتراض کر رہے ہیں کہ دیسی انڈوں اور مرغیوں سے معیشت کو کیسے سہارا دیا جا سکتا ہے۔ کیسے کاروبار پھیل سکتے ہیں، تو جناب اعلیٰ، ہر کاروبار کا آغاز صفر سے ہوتا ہے۔ اپنی پہلی پرواز سے خوفزدہ پرندے جب تک اڑنے کی ہمت نہیں کریں گے وہ ساری زندگی گھونسلے میں ہی گزار دیں گے۔

اس وقت پاکستان میں ڈیری فارمنگ کےلیے سازگار ماحول ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ڈیری مصنوعات میسر نہیں ہیں۔ خالص دودھ دہی اور مکھن کی تلاش تقریباً ناممکن ہے۔ مرغیاں اور جانور پالنے کا ذاتی تجربہ ہے، گاؤں کی خواتین میں اگر مرغیاں تقسیم کی جائیں تو اس سے جہاں گاؤں کا معیار زندگی بہتر ہوگا، وہیں ملک میں صحت بخش اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق انڈے بھی دستیاب ہوں گے۔

گھر میں چھے مرغیاں پالنے کےلیے تین مربع فٹ جگہ درکار ہوتی ہے۔ جبکہ یہ مرغیاں یومیہ بیس روپے کی فیڈ کھاتی ہیں۔ اسی طرح گاؤں میں اکثر مرغیوں کو دن کے اوقات میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، جو خود ہی مختلف اقسام کا دانا دنکا بھی چن لیتی ہیں۔ یہی بیس روپے کا اناج کھانے والی مرغیاں اگر روزانہ اوسطاً چار مرغیاں انڈے دیں تو ساٹھ روپے میں انڈے فروخت ہوتے ہیں۔ یعنی چھے مرغیاں روزانہ کے چالیس روپے دے رہی ہیں۔ اسی طرح چوزوں کی پیدوار بھی خاصی منافع بخش ہے۔ کیوں کہ اس وقت دیسی مرغ آٹھ سو روپے فی کلو سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے۔

یہ تخمینہ عموماً شیخ چلی کے سپنوں جیسا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ عمل گاؤں کی عورتوں پر کتنے گہرے اثرات مرتب کرے گا، اس کا فیصلہ گاؤں کے رہنے والے بخوبی کرسکتے ہیں۔ جبکہ سیاستدانوں اور عام عوام کو اس کی سمجھ کافی دیر سے آئے گی۔ میں وزیر اعظم کی سیاسی جماعت کا حامی ہوں اور نہ ہی ان کے سیاسی نقطہ نظر سے اتفاق کرتا ہوں۔ لیکن جو بات قابل عمل ہے، جو کم خرچ اور بالا نشین ہے، ان پر عمل درآمد ہونا لازمی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان فیصلوں کے فوری نتائج حاصل نہیں ہوتے، یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں ساٹھ روپے کے انڈے کوئی انقلاب نہیں لے آئیں گے، لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہر عمارت کی بنیاد ایک چھوٹی سی اینٹ سے کھڑی کی جاتی ہے۔ اور کوئی بھی عمارت بنیادوں کے بغیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔

ماضی کی حکومتوں نے گھریلو صنعتوں پر توجہ نہیں دی، جس کی وجہ سے گھریلو صنعت کے فروغ کی بات دیوانے کے خواب جیسی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں تہران جانا ہوا، وہاں کے بازاروں میں دستکاریوں کے ایسے ایسے نمونے دیکھے کے دل عش عش کر اٹھا۔ لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں زر مبادلہ کا بہترین ذریعہ گھریلو صنعت کاری کہیں نظر نہیں آتی۔ کوئی بھی ماسی فقیراں اٹھتی ہے تو اس کے ہاتھ کاٹنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی خواتین جو صلاحیتوں میں دنیا بھر کی خواتین سے کئی ہاتھ آگے ہیں، مواقع نہ ملنے کے باعث اپنے ارمانوں کیساتھ اپنی صلاحیتوں کو بھی دفن کردیتی ہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا مرغیوں کے حوالے سے اعلان جہاں خواتین کو با اختیار بنانے کی جانب ایک قدم ہے، وہیں گھریلو صنعت کی بحالی کا سنگ بنیاد بھی ہے۔ وزیر اعظم اگر اس وقت گھریلو صنعت کی جانب توجہ دیں تو ملکی معیشت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہو سکتی ہے۔ ایران پر دنیا بھر کی حکومتوں کا دباؤ ہے، لیکن کئی ممالک کی بہترین مارکیٹس میں ایرانی دستکاری کے نمونے نظرآتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اپوزیشن اور سوشل میڈیائی مفکرین کی باتوں پر دل دکھانے کی بجائے عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کےلیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ جو میری رائے میں گھریلو صنعتوں کے فروغ کے بغیر ممکن نہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سید امجد حسین بخاری

سید امجد حسین بخاری

لکھاری نے جامعہ پنجاب سے جرنلزم میں ایم ایس ای کیا۔ بچپن سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ آج کل قومی اخبارات میں ’’جلتی کتابیں‘‘ کے نام سے تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔