ڈزنی ورلڈ

جاوید چوہدری  پير 1 جولائ 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

فلوریڈا امریکا کی ریاست ہے اور آرلینڈو اس کا شہر‘ یہ شہر‘ شہر کم اور جادونگری زیادہ ہے‘ اس کا درجہ حرارت پینتیس سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے‘ سورج صبح کے وقت ہی تپنا شروع ہو جاتا ہے‘ آرلینڈو شہر کیونکہ ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہے چنانچہ دھوپ براہ راست جلانے لگتی ہے‘ یہ سوئیوں کی طرح آپ کی جلد میں اترنے لگتی ہے‘ آپ ہیٹ اور سن بلاک کے بغیر باہر نہیں نکل سکتے لیکن اس کے باوجود شہر میں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے‘ شامیں اور راتیں انتہائی خوش گوار ہوتی ہیں‘ آپ کو گرمیوں کے دنوں میں اس شہر میں پوری دنیا اور پورے امریکا کے لوگ ملتے ہیں۔

لوگ یہاں کیوں آتے ہیں؟ یہ میں آپ کو اگلی سطروں میں عرض کروں گا‘ سرے دست میں آپ کو آرلینڈو کے بارے میں بتاتا چلوں‘ یہ سنگترے اور بلیو بیری کا شہر ہے‘ آپ شہر سے باہر نکلیں تو آپ کو سنگتروں اور بلیو بیری کے سیکڑوں باغ ملتے ہیں‘ یہ شہر ’’اورنج انڈسٹری‘‘ کہلاتا تھا‘ سنگترے کے باغوں میں اب کمی ہو گئی ہے لیکن یہ اس کے باوجود اب بھی ’’اورنج سٹی‘‘ کہلاتا ہے‘ یہ کھلا شہر ہے‘ آپ کو ایک افق سے دوسرے افق تک وسعت اور کھلا پن محسوس ہوتا ہے‘ شہر پر جب بادل اترتے ہیں تو منظر انتہائی خوبصورت ہوتا ہے‘ آبادی پھیلی ہوئی ہے‘ مکان دور دور ہیں لہٰذا آپ کو تنگی یا رش کا احساس نہیں ہوتا‘ لوگ صفائی پسند ہیں‘ آپ کو شہر کے کسی حصے میں گندگی نظر نہیں آتی‘ گرمی کی وجہ سے ہر عمارت میں سوئمنگ پول ہے اور لوگ اس میں نہاتے دکھائی دیتے ہیں‘ ہر عمارتی بلاک کا کلب ہے جس میں سوئمنگ پول‘ جم‘ پلے ایریا اور چھوٹی سی دکان ہوتی ہے۔

شہر کی انتظامیہ نے گرمی کا زور توڑنے اور خوبصورتی میں اضافے کے لیے مصنوعی جھیلیں بنا رکھی ہیں‘ ہر عمارتی بلاک تعمیر کے دوران مٹی کھودتا ہے اور اس گڑھے کو جھیل بننے دیتا ہے چنانچہ ہر عمارتی بلاک میں چھوٹی سی جھیل ہے‘ یہ جھیلیں بارش کے پانی سے بھرتی ہیں‘ ان کی وجہ سے درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے‘ خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے‘ سبزہ بھی اگتا ہے اور زیر زمین پانی کا لیول بھی مینٹین رہتا ہے‘ آرلینڈو شہر میں دو ہزار ایسی چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں اور ان کی نسبت سے اگر اسے جھیلوں کا شہر کہا جائے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔

یہ شہر ماضی میں کسی فوجی افسر کے نام پر جرجین ہوتا تھا لیکن پھر کسی غلطی کی وجہ سے اس کے سارے فوجی اعزاز واپس لے لیے گئے‘ لوگوں نے محسوس کیا اگر ہمارے شہر کا نام جرجین رہے گا تو ہماری نسلیں پوری زندگی وضاحت کرتی رہیں گی چنانچہ انھوں نے شہر کا نام بدل دیا۔ آرلینڈو کا لفظ شیکسپیئر کے ڈرامے ’’ ایز یو لائیک‘‘ سے لیا گیا ہے اور یوں یہ شہر آر لینڈو ہو گیا‘ امریکی اسے اوٹاؤن بھی کہتے ہیں۔

آرلینڈو دنیا میں تفریح کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے‘ یہ تفریح کا ویٹی کن سٹی یا دارالحکومت بھی کہلاتا ہے‘ اس شہر میں ڈزنی لینڈ کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا تفریحی پارک ہے‘ یہ پارک کارٹون کریکٹر میکی ماؤس کے خالق والٹ ڈزنی نے بنوایا‘ یہ پچیس ہزار ایکڑ پر محیط ایک ماڈرن جادونگری ہے‘ ڈزنی ورلڈ کے لیے اس جگہ کے انتخاب کی چار بڑی وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ اس کا موسم ہے‘ آرلینڈو گرم خطہ ہے اور گوری قومیں گرمیوں میں گرم جگہوں کی تلاش میں رہتی ہیں چنانچہ یہ جگہ پورے امریکا کو ’’سوٹ‘‘ کرتی تھی‘ دو‘ یہ امریکا کا وسطی مقام ہے‘ امریکی شمال‘ جنوب اور مشرق اور مغرب سے بڑی آسانی سے یہاں آ سکتے تھے‘ تیسری وجہ فلوریڈا میں زمین کی خریدوفروخت پر ٹیکس نہیں تھا چنانچہ والٹ ڈزنی نے بڑی آسانی سے ہزاروں ایکڑ زمین خرید لی اور چوتھی وجہ ‘ یہ شہر سمندر کے قریب ہے‘ آرلینڈو سے ساڑھے تین گھنٹے کی ڈرائیو پر امریکا کی سب سے اچھی بیچ میامی موجود ہے۔

امریکی عوام گرمیوں میں ساحلوں کی تلاش میں رہتی ہے چنانچہ یہ شہر ’’ ٹو ان ون‘‘ ثابت ہوا‘ ڈزنی ورلڈ چار پارکوں کا مجموعہ ہے‘ میجک کنگڈم‘ اینیمل کنگڈم‘ ایپ کوٹ اور ہالی ووڈ اسٹوڈیوز۔ میجک کنگڈم میں درجنوں جھولے اور رائیڈز ہیں‘ ہر رائیڈ دل دہلا دیتی ہے اور ہر شو انسان کی توجہ کھینچ لیتا ہے‘ اینیمل کنگڈم ایک طویل جنگل ہے‘ یہ جنگل بنیادی طور پر سفاری اور چڑیا گھر ہے‘ آپ کو فلک بوس درختوں کے درمیان دنیا کے تمام چھوٹے بڑے جانور ملتے ہیں‘ آپ کو جنگل سفاری پری بھی لے جایا جاتا ہے اور انتہائی برق رفتار’’ رائیڈ‘‘ کے ذریعے ’’ ماؤنٹ ایورسٹ‘‘ پر بھی۔ ایپ کوٹ جدید ترین رائیڈز اور شوز کا مجموعہ ہے‘ اس پارک میں ایک طویل جھیل بھی ہے‘ اس جھیل کے گرد دنیا کی بڑی بڑی سولائزیشنز کے محلے بنے ہیں‘ ان محلوں میں ریستوران‘ شاپنگ سینٹرز اور کافی ہاؤسز ہیں‘ شام کے وقت اس جھیل کے گرد چکر لگانا زندگی کا خوبصورت ترین تجربہ ہے‘ ہالی ووڈ اسٹوڈیوز فلموں کی دنیا ہے‘ اس کے مختلف اسٹوڈیوز میں ہالی ووڈ کی بڑی فلموں اور شوز کی میکنگ دکھائی جاتی ہے‘ ڈزنی ورلڈ میں ان کے علاوہ واٹر پارکس بھی ہیں جن میں پانی کے کھیل کھیلے جاتے ہیں‘ ان پارکس میں دریا بھی ہیں‘ جھیلیں بھی‘ فوارے بھی اور موسیقی اور روشنیوں کی آبشاریں بھی‘ ڈزنی ورلڈ کو پوری طرح دیکھنے کے لیے کم از کم دس دن چاہئیں کیونکہ ہر چیز آپ کی توجہ کھینچ لیتی ہے اور آپ گھنٹوں اس کے سحر میں گم رہتے ہیں۔

میں بچوں کے ساتھ آرلینڈو آیا ہوں‘ ہم صبح آٹھ بجے ڈزنی ورلڈ کے لیے نکل جاتے ہیں اور رات گیارہ بجے آتش بازش کے شو کے بعد واپس آتے ہیں‘ ڈزنی کے ہر پارک میں آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور ہجوم یہ تماشا دیکھ کر پاگل ہو جاتا ہے‘ آرلینڈو دنیا کی سب سے بڑی تفریحی منزل ہے‘ ہر سال یہاں چھ کروڑ لوگ آتے ہیں‘ ڈزنی ورلڈ ہر سال چھ سے آٹھ ارب ڈالر کماتی ہے‘ روزانہ دو کروڑ ڈالر کے ٹکٹ فروخت ہوتے ہیں اور روزانہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ لوگ ان پارکس کی وزٹ کرتے ہیں‘ لوگوں کے اس رش کی وجہ سے شہر میں ایک ہزار ہوٹل‘ ایک لاکھ 13 ہزار کمرے‘ 26 ہزار ویکیشن ہاؤسز اور 16 ہزار عارضی ویکیشن ہاؤسز ہیں‘ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

شہر میں پانچ ہزار ایک سو 80 ریستوران ہیں‘ ڈزنی ورلڈ کے ملازمین کی تعداد 62 ہزار ہے‘ اس میں روزانہ کتنے کپڑے دھلتے ہیں؟ آپ اگر روز ایک ٹب کپڑے دھوئیں اور 68 سال تک دھوتے رہیں تو یہ ڈزنی ورلڈ کے ایک دن کے کپڑوں کے برابر ہوں گے‘ ڈزنی ورلڈ میں 272 بسیں چلتی ہیں‘ روزانہ تیس ہزار گاڑیاں آتی ہیں‘ یہ کمپنی دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ پارکنگ کی مالک بھی ہے‘ دنیا میں سب سے زیادہ کوک اور پانی ان پارکس میں پیا جاتا ہے‘ دنیا کا سب سے بڑا پرائیوٹ ڈیٹا ہاؤس ڈزنی ورلڈ کے پاس ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ قہقہے‘ مسکراہٹیں اور حیرت سے بھری ہوئی چیخیں اس جگہ سنی اور سنائی جاتی ہیں‘ آرلینڈو دنیا کا سب سے بڑا تفریحی پارک بن چکا ہے‘ اس میں اس قسم کی 95 اٹریکشنز ہیں‘ آپ اگر یہ سب دیکھنا چاہیں تو آپ کو 67 دن اور ساڑھے آٹھ گھنٹے درکار ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ اگر وسائل دے‘ آپ کی ٹانگوں میں جان ہو اور آپ کو اولاد کی نعمت نصیب ہوئی ہو تو آپ کو زندگی میں کم از کم ایک بار آرلینڈو ضرور جانا چاہیے اور آپ کو ڈزنی ورلڈ بھی دیکھنی چاہیے کیونکہ ورلڈ‘ ڈزنی ورلڈ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی‘ آپ اس کی سیر کے بغیر انسانی عقل کے کمالات‘ انسان کی جدت سازی‘ سائنس کے عروج اور انجینئرنگ کی معراج کو نہیں سمجھ سکتے‘ ڈزنی ورلڈ میں سیکڑوں تھیٹرز‘ رائیڈز اور شوز ہیں اور آپ ہر شو کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ یہ سب سے اعلیٰ تھا لیکن آپ اگلا شو شروع ہوتے ہی پچھلا بھول جاتے ہیں اور یہ ڈزنی ورلڈ کا کمال ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔