دہشت گردی کے واقعات

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  پير 1 جولائ 2013
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

کسی کو انکار نہیں کہ شرک کے بعد قتل اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسلام میں کسی بیگناہ کا قتل کتنا بڑا ظلم اور گناہ ہے ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے۔ ایک قاری نے لکھا ہے کہ ابو عبداﷲ کی شخصیت محدث اور مفسر کی تھی مگر عیسائیوں کے متعلق حقارت دل میں آگئی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جانتے بوجھتے بے جان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں۔

یہ تکبر اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں آیا۔ چنانچہ جب حج پر جارہے تھے تو راستے میں ایک عیسائی لڑکی پر نظر پڑگئی اور دل میں اس لڑکی کا عشق بیٹھ گیا۔ قافلہ حج پر چلاگیا مگر آپ وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اس لڑکی کے گھر پہنچ گئے اور پھر شادی کا پیغام دے دیا۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ پہلے عیسائی ہوجاؤ پھر شادی کی بات کرنا۔ آپ عیسائی ہوگئے۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ ایک سال سور چراؤ پھر شادی کراؤںگا۔ آپ نے حامی بھرلی۔ آپ جس عصا سے ٹیک لگاکر خطبہ پڑھتے تھے اس سے سور چرانے لگے۔ پورا ایک سال گزرگیا۔ آپ کے پاس ابو بکر شبلی آئے۔ حال پوچھا اور کہا آپ توحافظ قرآن تھے یہ کیا ہوا؟ کوئی آیت یاد ہے؟ جواب میں ابو عبداﷲ نے کہا، سب بھول گیا بس ایک آیت یاد ہے کہ جو ایمان چھوڑ کر کفر خرید بیٹھا بہت بڑا گمراہ ہوگیا۔

ابو بکر شبلی نے پھر پوچھا کہ آپ تو حافظ الحدیث تھے، کوئی حدیث یاد ہے؟ آپ نے جواب دیا، صرف ایک حدیث یاد ہے کہ جو اسلام چھوڑ دے اسے قتل کردیا جائے۔ اس کے بعد آپ بہت روئے، اﷲ تعالیٰ نے آپ کا رونا پسند کر لیا اور واپس ایمان پر لوٹ آئے۔ دوبارہ ملاقات ہوئی تو ابوبکر شبلی نے پوچھا کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا ایمان مجھے واپس کردیا۔ مجھے عیسائیوں کو حقیر سمجھنے کی سزا دی گئی تھی۔

مندرجہ بالا واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ جس دین میں ایک محدث اور مفسر کی پکڑ محض اس بات پر ہوجائے کہ وہ کسی دوسرے مذہب کو حقیر سمجھے اور تکبر و گھمنڈ کرے، اس دین کی تعلیمات میں یہ بات بھلا کیسے شامل ہوسکتی ہے کہ غیر مسلموں کو بلاوجہ موت کے گھات اتار دیا جائے۔ المیہ تو یہی ہے کہ غیر مسلم تو دور کی بات ہم اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو، معصوم بچوں کو بھی نہیں بخش رہے اور اسلام کا نعرہ لگا کر قتل کررہے ہیں۔ بلاشبہ ایسا کرنے والے اسلامی تعلیمات سے دور ہیں اور اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔

اسلام کے ایسے جید اور مجاہد لوگ کہ جن سے اﷲ تعالیٰ راضی ہوگیا اور وہ دنیا پر چھاگئے بلکہ تاریخ کو بھی حیران کرگئے، جانوروں کو بھی ناحق قتل نہیں کرتے تھے، عقبہ بن نافعؓ کا تاریخی واقعہ دیکھ لیجیے کیا ہوا؟

آپؓ انیس صحابیوں کے ساتھ تیونس میں پہنچے، یہاں قیروان کا شہر بنانا تھا۔ آپؓ نے جنگل میں پڑاؤ ڈالا اور ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے۔ ٹیلے پر چڑھ کر آپؓ نے بلند آواز میں اعلان کیا کہ ہم اﷲ کے رسولؐ کے غلام ہیں، تمام موذی جانور تین دن کے اندر اندر جنگل خالی کردیں، تین دن بعد جو ملے گا اسے قتل کردیا جائے گا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان تین دنوں میں جنگل سے تمام خطرناک جانور شیر، چیتے، ہاتھی، سانپ اور بھیڑیے وغیرہ بھاگ گئے اور یوں 40 مربع میل پر پھیلا ہوا جنگل ان وحشی درندوں سے پاک ہوگیا اور نیا شہر آباد ہوگیا۔

یہاں دو باتوں کا علم ہوتا ہے ایک یہ ہے کہ عقبہ بن نافعؓ اور ان کے ساتھی جو جنگل میں جانوروں کو بھاگ جانے کا مشورہ دے رہے تھے وہ کسی طور جانوروں کو بھی ہلاک کرنے کے حق میں نہ تھے۔ حالانکہ یہ وحشی درندے ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے اور ان کی ہلاکت کا باعث بھی بن سکتے تھے۔ دوسری بات یہ ظاہر ہوئی کہ یہ تمام لوگ اﷲ کے احکامات پر اس قدر عمل کرتے تھے اور اﷲ ان سے اس قدر راضی تھا کہ ان کی زبان میں وہ تاثیر آگئی کہ جنگل کے جانور بھی سمجھ گئے اور اپنی جان بچاکر بھاگ نکلے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ جو لوگ اﷲ کے اتنے نزدیک ہوں وہ جانوروں کو بھی قتل کرنا درست نہ سمجھتے ہوں اور وارننگ دے کر انھیں بھاگنے کا راستہ دے رہے ہوں تو بھلا آج اﷲ کے دین کے نام پر کوئی انسانوں کو اور وہ بھی بے قصور انسانوں کو کیسے ہلاک کرسکتا ہے؟ آج اگر کوئی اﷲ کے دین کا نعرہ لگا کر بے قصور لوگوں کو قتل کرے تو یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ واقعی مسلمان ہے اور اسلامی تعلیمات سے واقف ہے۔ ایسے لوگ اسلام دشمن عناصر کے ایجنٹ تو ہوسکتے ہیں مگر مسلمان نہیں۔ اس بات کا ثبوت حال ہی میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کا قتل بھی ہے کہ جہاں قتل کے لیے کوئی ٹرینڈ شخص تو جاسکتا ہے عام شخص یا عام اسلامی تنظیم کا مجاہد نہیں جاسکتا۔ حالات و واقعات کھل کر بول رہے ہیں کہ ان سازشوں میں ملک دشمن اور اسلام دشمن شامل ہیں جنھیں اعلیٰ پیمانے پر ہر قسم کی مدد ملتی ہے۔

اس حملے کی ذمے داری قبول کرنیوالوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈرون حملوں کے ردعمل کے طور پر کی گئی ہے۔ ان کا یہ جواز کس قدر درست ہے اس بارے میں افغانستان میں امریکی فوجیوں سے برسر پیکار ملا عمر کا وہ بیان کافی ہے جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ جس کسی کو جہاد کرنا ہو وہ افغانستان آکر امریکی فوجیوں کے خلاف ہمارے ساتھ جہاد کرے، بیگناہوں کو بازاروں اور پبلک مقامات پر یوں دہشتگردی، بم دھماکوں میں ہلاک کرنا درست نہیں ملا عمر کا بیان ایک سے زائد مرتبہ ذرایع ابلاغ پر آچکا ہے۔ نہ جانے یہ کون سے جہادی ہیں جو یوں بے گناہ انسانوں کو قتل کررہے ہیں۔ سیاحوں کے قتل پر جس طرح پاکستان کی ساکھ کو اور مسلمانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے وہ نہایت قابل افسوس ہے۔

تادم تحریر کراچی شہر میں ایک جسٹس کے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا ہے جس میں کم از کم 9 اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ گویا مقننہ اور عام افراد کے بعد اب عدلیہ بھی نشانے پر۔پوری لیاری میں رات دن فائرنگ ہورہی ہے، لوگون کے کاروبار برباد ہوگئے، بیگناہ مارے جارہے ہیں،آخر کیوں۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ ملک گیر دہشتگردی کی کارروائیاں صرف ردعمل کے واقعات نہیں بلکہ ان میں بیرونی پاکستان مخالف قوتوں کا ہاتھ ہے۔ اس تجزیے سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم سچ کو سچ کہنے اور ہر غلط عمل کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان بیرونی سازشوں کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو اس دلیری سے پاکستان میں غیر اعلانیہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان تصورات کو اور تعلیمات کو بھی درست انداز میں لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے جو اسلام ہمیں فراہم کرتا ہے۔ غلط تصورات یا ان کی غلط تشریح کے باعث دہشت گردی کے لیے نو عمر اور کم پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد باآسانی دستیاب ہوجاتی ہے۔ اس پہلو کو بھی خصوصی طور پر ذہن میں رکھنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔