تہرے نظام کی ضرورت

محمد سعید آرائیں  پير 1 جولائ 2013

دنیا بھرکے ترقی یافتہ ممالک میں با اختیار بلدیاتی نظام موجود ہے۔ جہاں بلدیاتی اداروں کے با اختیار میئر منتخب ہوتے ہیں اور پولیس تک ان بلدیاتی اداروں کے کنٹرول میں ہوتی ہے اور وہ با اختیار بلدیاتی ادارے اپنے علاقے کی شہری حکومت کا درجہ رکھتے ہیں۔پاکستان میں بھی بلدیاتی اداروں کا نظام سرکاری طورپر لوکل گورنمنٹ انگلش میں اور اردو میں محکمہ بلدیات کہلاتا ہے اور چاروں صوبوں میں لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت میونسپل کارپوریشنز، میونسپل ٹاؤنز، تحصیل یونین کونسلیں، ضلع کونسلیں اور ضلع حکومتیں اب بھی موجود ہیں۔

سندھ میں عجیب مذاق ہے جہاں تعلقہ میونسپل کونسلیں موجود ہیں مگر وہ کالعدم ہونے کے باوجود کام کررہی ہیں۔ کراچی میں سرکاری طورپر ٹاؤن کونسلیں ختم کرکے انھیں ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنوں اورڈسٹرکٹ کونسل میں ضم کردیاگیاہے مگر بلدیاتی طورپر ٹاؤنز کے اختیارات ختم کرکے اب انھیں زونز کہاجاتاہے۔ بلوچستان، سندھ اور کے پی کے میں ضلعی نظام ختم کرکے وہاں جنرل ضیاء الحق دور کا 1979کا نظام بحال کردیاگیاہے جسے سپریم کورٹ غیر قانونی قرار دے چکی ہے مگر چل رہا ہے جب کہ پنجاب میں کمشنری نظام بحال کرکے وہاں ضلعی نظام برقرار رکھاگیا ہے جسے منتخب نمایندوں کے بجائے سرکاری ایڈمنسٹریٹروں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے 2001 میں ملک کو تین سطح کا نظام دیا تھا۔ وفاق میں وفاقی حکومت، صوبوں میں چار صوبائی حکومتیں اور اضلاع میں ضلعی اور بڑے اضلاع میں سٹی ڈسٹرکٹ حکومتیں قائم کی گئی تھیں اور یہ ضلع حکومتیں صوبوں کے محکمہ بلدیات کے کنٹرول میں برائے نام ایک حد تک تھیں اور وفاقی ادارے قومی تعمیر نو بیورو کے ایک حد تک ماتحت مگر مکمل با اختیار تھیں۔ ملک میں پہلی بار بیورو کریٹس کو نو منتخب ناظمین کے ماتحت ڈی سی او اور ٹی ایم او کی حیثیت میں رکھاگیاتھا۔ جن کی اکثریت ضلع نظام کی با اختیاری کے خلاف تھیں کیونکہ وہ پہلے کی طرح حکمران نہیں بلکہ ناظمین کے ماتحت کام کرنے پر مجبور تھے۔ جن اضلاع میں ڈی سی اوز نے ضلع ناظمین کے لیے مسائل پیدا کیے ان کا ناظمین نے تبادلہ کرا دیا۔

کیونکہ من مانی اور خود سری کے عادی ان اعلیٰ سرکاری افسروں کو با اختیار ناظم گوارا نہیں تھے اور وہ 1979کے بلدیاتی نظام کے حق میں تھے جہاں بلدیاتی ادارے افسروں کے ماتحت اور برائے نام با اختیار تھے اور کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر اپنے علاقوں کے بلدیاتی اداروں کے عملی سربراہ اور کنٹرولنگ اتھارٹی تھے۔ بیورو کریسی نے پہلے دن سے ہی جنرل پرویز کے تہرے نظام کو قبول نہیں کیا تھا اور جنرل پرویز نے پہلی بار عوام کے منتخب ناظمین کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے تھے۔ جنرل پرویز کے تین سطحی نظام سے ارکان اسمبلی بھی خوش نہیں تھے کیونکہ ضلع نظام کے پہلے چار سال میں 2002 میں منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو ماضی سے ملنے والے سالانہ ترقیاتی فنڈز ختم کردیے گئے تھے اور انھیں اسمبلی الاؤنس تک محدود رکھاگیاتھا جو اندھی کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔ جب کہ سالانہ فنڈز کے نام پر ارکان اسمبلی کو ہر سال کروڑوں روپے اپنے صوابدیدی اختیار کے ملتے تھے۔ حال ہی میں چیف جسٹس پاکستان نے ارکان اسمبلی کے اس فنڈ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

جنرل پرویز کے تین سطحی نظام three tier systemسے قبل ملک بھر کے بلدیاتی ادارے محدود اختیارات کے حامل تھے اور ان کے لیے وزیر بلدیاتی، وزیراعلیٰ جیسی اہمیت رکھتا تھا جس کے دورے میں میونسپل کمیٹیوں والے شہروں میں اس کا شاہانہ استقبال ہوتاتھا۔ خیر مقدمی بینرز لگائے جاتے تھے۔ دعوتیں ہوتی تھیں مگر ضلع حکومتوں میں وزیر بلدیات اور محکمہ بلدیات کی اہمیت ختم ہوگئی اور وزیر بلدیاتی کو کسی نظام کی شکایت ملنے پر صرف تحقیقات کرانے کا اختیار تھا اور وہ کسی ناظم کو برطرف نہیں کرسکتاتھا۔

جنرل پرویز نے ملک میں ضلع حکومتوں کے ذریعے جو تین سطح کا نظام قائم کیا اس سے صوبوں کی من مانیاں ختم ہوگئیں۔ صوبوں کو پہلے وفاق سے اختیارات نہ ملنے کی شکایات تھیں جب کہ ضلعی حکومتوں کو جب وفاق نے اختیارات دیے تو اس کی تکلیف بھی صوبائی حکومتوں، صوبائی وزیروں اور ارکان اسمبلی کو پہنچی اور انھوں نے ضلع حکومتوں کے با اختیار ہونے پر اعتراض کیا جس کی وجہ سے جنرل پرویز ہی کے دور میں2005کی ضلعی حکومتوں کے اختیارات کم کردیے گئے جب کہ ضرورت مزید اختیارات بڑھانے کی تھی مگر جنرل پرویز نے اپنے سیاسی مفاد کے خاطر ارکان اسمبلی کو خوش رکھنے کے لیے نہ صرف ضلع حکومتوں پر کچھ پابندیاں لگادیں بلکہ ان کے فنڈ بھی بحال کردیے۔

ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں قیام پاکستان سے آئینی طورپر قائم ہیں۔ جنرل پرویز نے مخصوص مدت کے لیے ضلع حکومتوں کو جو آئینی تحفظ دلایا تھا صوبائی حکومتوں نے اس کے ختم ہوتے ہی کمشنری نظام بحال کردیا اور ضلع نظام تباہ کرکے ان پر سرکاری افسر مسلط کردیے اورنام نہاد جمہوری حکومتوں نے5سالوں میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے کیونکہ جمہوریت کے دعویدار نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے خلاف تھے۔ جب کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہے مگر نام نہاد جمہوریت پرستوں نے عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا اور سالانہ فنڈز کھائے جاتے رہے۔

ارکان اسمبلی کو فراہم کیے جانے والے یہ فنڈ غیر قانونی ہی نہیں بلکہ ارکان اسمبلی کو نوازنے، سرکاری رشوت دینے اور بد عنوان بنانے کا ذریعہ ہیں جب کہ اس فنڈ پر صرف اور صرف بلدیاتی اداروں کا حق ہے جو عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے اصل ذمے دار ہیں۔ جب کہ ارکان اسمبلی کا کام سڑکیں، پارک، نالیاں بنوانا اور فراہمی ونکاسی آب نہیں صرف اور صرف قانون سازی ہے مگر ان کی توجہ قانون سازی پر کم اور فنڈز کے حصول پر زیادہ ہے۔ کیونکہ وہاں کرپشن ہی کرپشن ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ارکان اسمبلی کو فنڈ نہیں دینگے۔ دیکھیں کے پی کے میں عمل ہوتاہے یا نہیں۔ صوبائی حکومتیں ضلع نظام کے خلاف ہیں اور جو بلدیاتی نظام لانا چاہتی ہیں وہ مقامی حکومتوں کا نہیں جو با اختیار ہوتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے بھی ڈسٹرکٹ گورنرز کا نظام لانے کا اعلان کیاتھا۔ صوبوں کو بلدیاتی نظام کے حوالے کرکے ملک بھر کے بلدیاتی اداروں کو مفلوج کردیاگیا ہے جو اب ملازمین کو تنخواہیں دینے کے بھی قابل نہیں رہے ہیں جو آمریت میں ترقیاتی کام کرانے کا ریکارڈ قائم کررہے تھے مگر انھیں جمہوریت کی نظر لگ گئی۔ عوام کا زیادہ واسطہ بلدیاتی اداروں (مقامی حکومتوں) سے پڑتاہے جنھیں با اختیار ہونا چاہیے۔ زیادہ اختیارات ملنے سے صوبوں میں کرپشن بڑھی ہے اور وہ من مانی کرکے اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جو ملک کے لیے المیہ ہوگا جب کہ ضرورت ملک بھر میں ایک جیسے بلدیاتی نظام کی ہے مگر وہ محتاج نہیں با اختیار ہونا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔