یقین مزید پختہ ہوگیا ہے کہ ولی عہد ہی خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں، امریکی سینیٹرز

ویب ڈیسک  بدھ 5 دسمبر 2018
صحافی خاشقجی کے قتل پر حکومت سعودی عرب پر مزید دباؤ بڑھائے، امریکی سینیٹرز کا مطالبہ

صحافی خاشقجی کے قتل پر حکومت سعودی عرب پر مزید دباؤ بڑھائے، امریکی سینیٹرز کا مطالبہ

 واشنگٹن: امریکی سینیٹرز نے کہا ہے کہ صحافی خاشقجی کے قتل میں ولی عہد کے ملوث نہ ہونے کے امکانات صفر ہیں جس پر امریکا کو سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی تفتیشی ادارے سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل نے امریکی سینیٹرز کے گروپ کو بند کمرے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق اہم بریفنگ دی۔

بند کمرہ بریفنگ کے بعد امریکی سینیٹر لنڈزی گراہم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بریفنگ کے بعد اُن کا یقین مزید پختہ ہو گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے ناقد صحافی کے قتل میں ملوث تھے اور سب کچھ ان کی رضامندی اور ہدایت پر ہوا۔

ریپبلکن سینیٹر بوب کارکر کا کہنا تھا کہ بریفنگ کے بعد اُن کے ذہن میں ذرہ برابر بھی شک نہیں رہا کہ ولی عہد صحافی کے قتل میں ملوث نہیں، اگر ولی عہد کے خلاف انکوائری بیٹھے تو انہیں مجرم ثابت کرنے میں 30 منٹ بھی نہیں لگیں گے۔

ڈیمو کریٹک سینیٹرز بوب مینڈوز نے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے کہ خاشقجی قتل کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ سخت برتاؤ روا رکھا جائے اور قتل کے ذمہ داروں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام تر عالمی قوانین بروئے کار لائے جائیں۔

جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کا کہنا تھا کہ سعودی شاہی خاندان جنون میں مبتلا ہیں اور ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں جس کا انجام بہت بھیانک ہوگا۔ یہ کھیل روکنا ہوگا۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں شاہی خاندان کے سخت ناقد جلاوطن سعودی صحافی جمال خاشقجی کو بیدردی سے قتل کردیا گیا تھا اور تاحال صحافی کے لاش سے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔