پی ٹی ایم وہ حد عبور نہ کرے کہ ہمیں رٹ قائم کرنی پڑے، ترجمان پاک فوج

ویب ڈیسک  جمعرات 6 دسمبر 2018
بھارت پہلے خود سیکولر بنے پھر ہمیں بھاشن دے، میجرجنرل آصف غفور فوٹو:ایکسپریس

بھارت پہلے خود سیکولر بنے پھر ہمیں بھاشن دے، میجرجنرل آصف غفور فوٹو:ایکسپریس

 راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو خبردار کیا ہے کہ وہ حد عبور نہ کرے کہ ریاست کو زور لگانا پڑے اور اپنی رٹ قائم کرنی پڑے۔

راول پنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی فوج جان بوجھ کر پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے اور رواں سال اس نے 2593 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں 55 شہری شہید اور 300 زخمی ہیں اور یہ تاریخ میں شہریوں کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

کرتارپور

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کرتارپور کے معاملے پر بھارت نے منفی پراپیگنڈا کیا، یہ راہداری صرف ون وے ہوگی جس کے کھلنے سے 4 ہزار بھارتی یاتری روزانہ پاکستان آسکیں گے اور اسی راستے سے اسی روز واپس جائیں گے، لیکن پاکستان کی جانب سے کوئی اس راستے سے بھارت نہیں جا سکتا۔

پشتون تحفظ موومنٹ

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ اب تک ہلکا ہاتھ رکھا ہے، ان کے تین مطالبات چوکیوں میں کمی، بارودی سرنگوں کا خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی ہم نے ان کے کہنے سے پہلے ہی پورے کردیے تھے، لیکن وہ ان مطالبات سے بہت آگے چلے گئی ہے، اگرچہ زبان سے انہوں نے غلط باتیں کی ہیں لیکن ابھی تک تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا، اب پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرے جہاں ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنا پڑے اور زور لگا کر قابو کرنا پڑے، یہ لوگ اس طرف جارہے ہیں جہاں ہمیں اپنا اختیار استعمال کرنا پڑے گا۔

بھارتی آرمی چیف کا بیان

بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کو سیکولر بننے کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستانی اسلام کے نام پر بنا ہے، بھارت پہلے خود تو سیکولر بنے پھر ہمیں بھاشن دے، 20 کروڑ مسلمانوں کی وہاں کیا حالت ہے، بابری مسجد میں کیا ہوا، بھارتی آرمی چیف کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کیسا ملک بنے، بھارت سیکولر جمہوریہ ہے تو پہلے خود تو سیکولر بن جائے، ہمیں ایسا ہی برداشت کرے جیسے ہم ہیں۔

فوج میں احتساب

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دو سال کے دوران 400 فوجی افسروں کے خلاف کارروائی ہوئی اور سزا دی گئی، ایک فوجی افسر کو دس ہزار کی کرپشن پر فارغ کرکے گھر بھجوادیا گیا، ہماری پہلی خواہش ہوتی ہے غلطی نہ ہو، کرپشن ہو یا چھٹی لیے بغیر جانے پر بھی سزا ہوتی ہے، سزا پانے والوں میں ہر رینک کا افسر شامل ہے، انہیں جیل بھی بھیجا گیا، سروس سے برطرفی اور جیل کی حد تک بھی پاک افواج میں سزا ہوتی ہے۔

اہم موڑ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیشہ کہا جاتا رہا ہے کہ 70 سال سے پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے، لیکن اب نازک دور سے چلتے ہوئے ہم اہم موڑ پر آگئے ہیں، اب یا تو آگے نازک وقت نہیں ہے، یا پھر نازک سے بھی زیادہ خراب وقت ہے، ہم نے جنگی لڑ لیں آدھا ملک گنوا دیا اور ایٹمی قوت بھی بن گئے، بھارت کے ساتھ کئی جنگیں ہوئی کشمیر کا معاملہ بھی حل نہ ہوا، ملک کے کتنے نازک دور آئے اور اس کے ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوچنا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہماری فالٹ لائنس میں معیشت، کمزور گورننس، عدالتی و تعلیمی نظام، مذہب و فرقہ ورانہ اشتعال انگیزی شامل ہیں، ہم خود اس میں پڑے اور دشمن نے اس سے فائدہ اٹھایا، آج ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، آج کی پاکستانی فوج گزرے ہوئے کل کی فوج نہیں ہے، لیکن پچھلے 70 سال کے مدو جزر میں رہیں گے تو آگے نہیں جاسکتے، ملک کو ایک ایک اینٹ لگاکر دوبارہ بنا رہے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ملک میں ترقی ہورہی ہے، معیشت سنبھل گئی ہے، بہتر کام ہورہے ہیں تو اسے ریورس کیوں کررہے ہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہے ایسا ہی رہنا ہے یا کامیابیوں، ناکامیوں کے رولر کوسٹر پر بیٹھ کر چلتے رہیں گے، آگے چلنے کے لیے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا اور حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

میڈیا کا کردار

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اگر ریاست کے تین ستون مضبوط ہوجائیں اور میڈیا دھچکے لگاتا رہے تو عمارت کو نقصان ہوگا، میڈیا صرف 6 مہینے ملک کی اچھی اچھی چیزیں دکھائے پھر دیکھیں پاکستان کہاں پہنچتا ہے، کسی زمانے میں پی ٹی وی پر سڑک پار کرنے کا طریقہ دکھایا جاتا تھا، آپ عوام میں شعور اجاگر کریں اور بتائیں کہ ملک میں کیا بہتر ہوگیا۔

آرمی چیف کا پیغام

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ آرمی چیف نے کہا کہ کوئی شخص ادارے سے اور کوئی ادارہ ملک سے بڑا نہیں ہونا چاہیے، ملک کو ایک ایک اینٹ لگاکر دوبارہ بنا رہے ہیں، جہاں آئین کے مطابق قانون کی بالادستی ہو، طاقت کے استعمال کا استحقاق ریاست کے پاس ہو، جس کے لیے کوئی شخص ادارے سے اور کوئی ادارہ ملک سے بہتر نہ ہو۔

لاپتہ افراد

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لاپتہ پاکستانی ہمیں بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا اہلخانہ کو ہے، 2010 میں 7 ہزار لاپتہ افراد کے کیسز تھے جن میں سے 4 ہزار حل ہوچکے ہیں اور 3 ہزار باقی ہیں جن پر کام ہورہا ہے، فوجی عدالتوں میں لاپتہ افراد کے 90 فیصد کیسزحل ہوچکے، بہتری کی طرف جانے کے لیے جنگ کے نقصانات کو بھولنا پڑتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی ہوگئی ہے، آئندہ ہم کسی اور کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑیں گے، ملک کے اندرونی خطرات سے نمٹ کر معاملات ٹھیک کرنا چاہیے، کوئی بھی جنگ آپریشن سے ختم نہیں ہوتی، آپریشن کے بعد ترقی کی ضرورت ہوتی ہے، فوج نے سویلین اداروں سے مل کر فاٹا اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے کیے ہیں۔

بلوچستان

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کیلیے حکمت عملی تبدیل کی ہے، پچھلے تین سال میں 2200 فراری قومی دھارے میں شامل ہوئے اور ہتھیار ڈال دیے ہیں، صوبے میں  امن وامان کی صورتحال ماضی سے بہتر ہے۔

کراچی

شہر قائد کے بارے میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کراچی میں 99 فیصد جرائم میں کمی آئی ہے اور رینجرز نے 9سال سے قربانیاں دے کر امن بحال کیا، شہر میں کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوچکی ہیں اور سرمایہ کاری آ رہی ہے۔

افغان سرحد

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ افغان بارڈر پر ہم نے اپنی جانب سے بہت بہتری کرلی ہے، سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں، 2611 کلومیٹر پر باڑ لگاچکے ہیں۔

ردالفساد

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں، پورے ملک میں 44 بڑے آپریشن ہوئے ہیں، پورے ملک سے 32 ہزار ناجائز اسلحہ پکڑا، کوئی بھی جنگ صرف آپریشن سے ختم نہیں ہوتی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔