نامزدگی فارم اور حلف نامہ، مشاورت نہ کرنے پرتوہین عدالت کی درخواست

اسٹاف رپورٹر  منگل 2 جولائ 2013
 عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم اور حلف نامے میں ترمیم کے بغیرانتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے . فوٹو: فائل

عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم اور حلف نامے میں ترمیم کے بغیرانتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے . فوٹو: فائل

کراچی:  سندھ ہائیکورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کے نامزدگی فارم اور حلف نامے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت نہ کرنے پر توہین عدالت کے الزام پر مبنی درخواست پرمدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

حاجی گل احمد کی جانب سے دائرکردہ توہین عدالت کی درخواست میں چیف الیکشن کمیشن فخروالدین جی ابراہیم ، چیئرمین سینیٹ اوراسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی 2 اور قومی اسمبلی کی 16نشستوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان کیا ہے، قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی 3تا 9جولائی جمع کرائے جارہے ہیں۔

اس ضمن میں سندھ ہائیکورٹ واضح حکم دے چکی ہے کہ نامزدگی فارم اوراراکین اسمبلی کے حلف کی تیاری کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کی جائے اورکونسل کی سفارشات کی روشنی میں نامزدگی فارم اورحلف نامہ تیارکیا جائے مگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فارم اور حلف نامے میں ترمیم کے بغیرانتخابات کا اعلان کردیا گیا ہے جوکہ توہین عدالت کے مترادف ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔