پاک بھارت تجارت مکمل استعداد سے ہونی چاہیے

ایڈیٹوریل  جمعـء 7 دسمبر 2018
پالیسی بنانے والوں کو بھارت اور سری لنکا کی مثال سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ فوٹو:فائل

پالیسی بنانے والوں کو بھارت اور سری لنکا کی مثال سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ فوٹو:فائل

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں تجارت صرف2بلین ڈالر تک محدود ہے حالانکہ اس کی استعداد کم از کم 37بلین ڈالر کی ہے۔ ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین تجارت کا حجم اس وجہ سے بہت کم ہے کیونکہ دونوں ملکوں نے باہمی تجارت پر جو خواہ مخواہ کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ان کی وجہ سے تجارت کا حجم اس قدر کم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجارت کے فروغ کے لیے لازم ہے کہ دونوں ملک مصنوعی پابندیاں عائد کرنے کے بجائے آپس میں اعتماد سازی کو فروغ دیں۔

ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا حجم کم از کم موجودہ تجارت سے کئی گنا زیادہ ہونا چاہیے۔ ورلڈ بینک نے تجارت میں اتنی زیادہ کمی کی بعض وجوہات بھی بیان کی ہیں اس حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے سیمینار میں جو بدھ کو ورلڈ بینک کے مقامی آفس میں ہوا چوٹی کے ماہر اقتصادیات نے بھی خطاب کیا اور میڈیا کے سوالات کے جواب دیے۔

ممتاز عالمی ماہر اقتصادیات سنجے کتھوریا نے کہا کہ اعتماد سازی سے تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور دوسری طرف تجارت کے فروغ سے باہمی اعتماد سازی کو بھی فروغ ملتا ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ مسٹر کتھوریا کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں کرتارپور سرحد کا کھلنا پاکستان اور بھارت میں اعتماد سازی کے لیے بہت مدد گار ہو گا۔

انھوں نے کہا اس قسم کے اقدامات دونوں ملکوں میں اعتماد سازی میں اضافہ کریں گے جس سے تجارتی تعلقات کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ اولین اقدامات کے طور پر دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کو خصوصی مصنوعات کے سلسلے میں رعایتیں دینا ہونگی۔

کتھوریا نے کہا کہ پاکستان کی جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ فضائی رابطے بھی بہت کم ہیں۔ بھارت تو خیر واضح ہے مگر بھارت اور افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کی صرف چھ پروازیں ہفتے میں ہیں۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ صرف دس پروازیں ہفتہ وار ہیں مگر نیپال کے ساتھ صرف ایک پرواز ہے لیکن مالدیپ اور بھوٹان کے ساتھ ہفتے میں ایک پرواز بھی نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کی سری لنکا کے ساتھ ہفتہ وار 147پروازیں ہیں جس کے بعد بھارت کی بنگلہ دیش کے ساتھ پروازوں کا نمبر آتا ہے جو ہفتے میں 67پروازیں ہیں۔مالدیپ کے ساتھ71پروازیں فی ہفتہ اور نیپال کے ساتھ22پروازیں جب کہ افغانستان کے ساتھ22پروازیں اور بھوٹان کے ساتھ23پوازیں ہفتہ وار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجارت میں حساس اشیاء کی فہرست کو ختم کیا جانا چاہیے اور ایک ٹیرف کے بعد اضافی ٹیرف لگانے کا سلسلہ بھی ختم کر دیا جانا چاہیے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ(سافٹا) کے تحت ٹیرف کو ہٹانے کی ایک سے زیادہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ پالیسی بنانے والوں کو بھارت اور سری لنکا کی مثال سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور پاکستان کو کرتارپور کے ساتھ واہگہ اٹاری بارڈر سے بھی تجارت شروع کرنی چاہیے اور تجارت پر اخراجات میں تخفیف کے لیے راہداری کے اخراجات میں کمی کی جانی چاہیے۔

انھوں نے تجارتی مقاصد کے لیے کرنسی کے نرخوں کو مصنوعی طور پر گھٹانے بڑھانے کی بھی مخالفت کی اور کہا یہ نرخ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونے چاہئیں۔ ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر الانگو پیٹچا میتھو نے کہا کہ مقامی صنعت کے تقاضے پر کوئی ملک غیرضروری طور پر ٹیرف میں اضافہ کر دیتا ہے جس سے تجارت کا فروغ رک جاتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔