ریاست مدینہ بناتے بناتے

جاوید چوہدری  جمعـء 7 دسمبر 2018
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

آپ کسی دن سنگا پور اور پاکستان کا موازنہ کریں آپ حیران رہ جائیں گے‘ پاکستان کا رقبہ پونے نو لاکھ مربع کلو میٹر اور سنگا پور صرف722مربع کلو میٹر پر محیط ہے‘ ہم فوجی لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہیں اور سنگا پور میں صرف 22 ہزار ریگولرفوجی ہیں‘ ہم دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت ہیں اور سنگا پور جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہے اور ہم آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک ہیں اور سنگا پور133ویںنمبر پر آتا ہے لیکن آپ دوسری طرف دیکھیے‘ پاکستان کا جی ڈی پی 304بلین ڈالر اور سنگا پور کا 555 بلین ڈالر ہے۔

ہماری فی کس اوسط آمدنی 1629ڈالر جب کہ سنگا پور کی 61ہزار 766  ڈالر ہے‘ ہمارے ملک میں انفلیشن (افراط زر) 6.5 فیصد جب کہ سنگا پور میں اعشاریہ 4فیصد ہے (آدھ فیصد سے بھی کم)‘ ہماری آدھی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جب کہ سنگا پور میں کوئی شخص خط غربت سے نیچے نہیں‘ ہمارے ملک کے چھ فیصد لوگ بے روزگار ہیں جب کہ سنگا پور میں صرف دواعشاریہ ایک فیصد لوگ جاب لیس ہیں‘ ہم ایمانداری کے انڈیکس میں 180ملکوں میں117نمبر پر آتے ہیں جب کہ سنگا پور دنیا کا ساتواں ایماندار ترین ملک ہے۔

پاکستان کے فارن ریزروز 14بلین ڈالرز ہیں جب کہ سنگا پور کے پاس 280 بلین ڈالر کے ریزروز ہیں‘ ہم 21 کروڑ لوگ مل کر صرف 24بلین ڈالر کی مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں جب کہ 57لاکھ کی آبادی کے ملک سنگا پور کی برآمدات 330 بلین ڈالر ہیں اور ہم جوہری طاقت اور دنیا کا پانچواںبڑا ملک ہونے کے باوجود عدم استحکام کا شکار ہیں جب کہ سنگا پور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا113واںاور رقبے کے لحاظ سے 176واںملک ہونے کے باوجود دنیا کے مستحکم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

آپ نے کبھی سوچا کیوں؟ ہم اس کا کریڈٹ ہمیشہ لی کو آن یو کو دیتے ہیں‘ یہ کریڈٹ درست بھی ہے‘ واقعی یہ وہ شخص تھا جس نے بدبودار جزیرے کو دنیا کا کامیاب اور ترقی یافتہ ترین ملک بنایا لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں لی کو آن یو چند اصولوں اور چند تکنیکس کا مجموعہ تھا‘ اگر یہ اصول‘ اگر یہ تکنیکس نہ ہوتیں تو لی کوآن یو بھی آپ اور میری طرح ایک عام انسان ہوتا‘ یہ بھی پیدا ہوتا‘ بڑا ہوتا‘ بچے پیدا کرتا اور کھانس کھانس کر مر جاتا لہٰذا لی کوآن یو اتنا اہم نہیں تھا جتنی اہم اس کی تکنیکس اور اس کے اصول تھے‘ میں سمجھتا ہوں ہمارے لیڈروں میں سے جو بھی لی کو آن یو کے اصول اور تکنیکس اپنا لے گا وہ لی کوآن یو بن جائے گا اور وہ اس ملک کو سنگا پور بنا دے گا چنانچہ ہمیں کسی لی کوآن یو کا انتظار کرنے کے بجائے صرف اور صرف اس کی تکنیکس اور اصولوں پر توجہ دینی چاہیے اور لی کوآن یو کی تکنیکس میں دو تکنیکس بہت اہم تھیں‘ پہلی تکنیک آبادی تھی اور دوسری تکنیک اسکل یعنی مہارت تھی۔

لی کوآن یو نے آج سے پچاس سال پہلے بھانپ لیا تھا سروسزانڈسٹری اکیسویں صدی کی سب سے بڑی انڈسٹری ہو گی چنانچہ اس نے اپنے لوگوں کو سروسز کی ٹریننگ دینا شروع کر دی اور آج سنگا پور کی ایکسپورٹس میں سروسز کابہت بڑا حصہ ہے‘ یہ چھوٹا سا ملک دنیا کو آج سروسز کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کی الیکٹرانکس‘ آلات‘ فارما سوٹیکلز اور کمپیوٹر پارٹس بھی فراہم کر تا ہے‘ لی کو آن یو کی دوسری تکنیک آبادی تھی‘ سنگا پور نے 1957ء میں آزادی حاصل کی‘ 1960ء تک اس کی آبادی 17 لاکھ تھی‘ آج 58سال بعد یہ آبادی صرف57 لاکھ ہے‘ آپ اس کے مقابلے میں پاکستان کو دیکھیے۔

پاکستان کی آبادی 1960ء میں ساڑھے چار کروڑ تھی(مشرقی اور مغربی دونوں حصے شامل ہیں) ‘ہماری آبادی1975ء میں 6 کروڑ 67 لاکھ(صرف مغربی پاکستان) ہو گئی لیکن آج ہم 21 کروڑ ہیں‘ کراچی شہر کی آبادی 1946ء میں صرف دو لاکھ تھی‘ یہ آج دو کروڑلوگوں کا شہر ہے اور 1947ء میںلاہور سات لاکھ لوگوں کا شہر تھا‘ آج اس کی آبادی سوا کروڑ ہے چنانچہ ہم اگر اپنے باقی تمام گناہ اور تمام غلطیاں فراموش بھی کر دیں تو بھی ہمیں آبادی اور بے ہنری کی سزا ضرور ملنی چاہیے اور ہم یہ سزا بھگت رہے ہیں‘ ہم اگر آج بھی لی کوآن یو کی صرف دو تکنیکس اٹھا لیں‘ ہم صرف ان پر عمل شروع کر دیں تو کل کا پاکستان آج کے پاکستان سے ہزار گنا بہتر ہو گا اور وہ تکنیکس آبادی اور ہنر ہے۔

ہم آج فیصلہ کر لیں ہم کسی بھی قیمت پر آبادی میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے‘ ملک میں کوئی بھی شخص شادی کے پانچ سال تک بچہ پیدا نہیں کرے گا‘ شادی سے پہلے میڈیکل ٹیسٹ اورفیملی پلاننگ کی ٹریننگ لازمی ہو گی‘ ملک کا کوئی نکاح خواں میڈیکل سرٹیفکیٹ کے بغیر نکاح نہیں پڑھائے گا‘ وہ اگر نکاح پڑھادے گا تو یہ نکاح رجسٹرڈ نہیں ہوگا اور ریاست اس وقت تک جوڑے کو میاں بیوی تسلیم نہیں کرے گی جب تک وہ میڈیکل ٹیسٹ اور فیملی پلاننگ کی ٹریننگ کا سرٹیفکیٹ جمع نہیں کراتا۔

ملک بھر میں ہر زچگی اسپتال یا بنیادی مرکز صحت میں ہو گی اور بچہ پیدائش کے فوراً بعد رجسٹر ہو گا‘ حکومت حاملہ خواتین اور ماؤں کے لیے کورس بھی لازمی قرار دے دے‘ ہم اس ضمن میں بنگلہ دیش اور ایران کا ماڈل بھی لے سکتے ہیں‘ بنگلہ دیش اور ایران نے علماء کرام اور امام مسجدوں کو فیملی پلاننگ میں شامل کیا‘ ملک کے ہر امام کو فیملی پلاننگ کا ملازم بنا دیا گیا چنانچہ آج بنگلہ دیش اور ایران دونوں کی آبادی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

ہم بھی ملک کی تمام مساجد کے اماموں کو ٹریننگ دیں اور انھیں فیملی پلاننگ سے وظائف دینا شروع کر دیں‘ ہم اسی طرح ہائی اسکول اور کالج کے سلیبس میں فیملی پلاننگ‘ ماحولیات اور جسمانی صفائی کے مضامین بھی شامل کر دیں اور اساتذہ کو بھی وظائف دینا شروع کر دیں‘ اس سے بھی ’’اویئرنیس‘‘میں اضافہ ہو گا‘ ہم اس کے بعد فیصلہ کر لیں ہمارے ملک میں آج کے بعد کوئی شخص بے ہنر نہیں ہو گا‘ وزیراعظم سے لے کر عام شخص تک ملک کا ہر وہ شہری جس کی جیب میں پاکستانی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ہوگا وہ جرمنی کی طرح کوئی نہ کوئی جسمانی ہنر ضرور جانتا ہو گا‘ جرمنی کا ہر شہری ہنر مند ہے‘ اینجلا مرکل چانسلر بھی ہیں اور ساتھ ہی نائی بھی۔

امریکا کے ہر گھر میں ٹول کٹ ہوتی ہے اور آدھی سے زائد آبادی اپنے گھر خود بنا لیتی ہے‘ پورے یورپ‘ پورے امریکا اور فارایسٹ کے تمام ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ اپنی برف خود صاف کرتے اور اپنی گھاس خود کاٹتے ہیں جب کہ آپ پاکستان میں سروے کروا لیں پاکستان کے ننانوے فیصد لوگ گھاس تک کاٹنے کے اہل نہیں ہوں گے چنانچہ ہمیں اپنی تعلیم کو علم کے ساتھ ساتھ ہنر پر شفٹ کرنا ہوگا‘ ہمارے اسکولوں اور کالجوں کی آدھی تعلیم تھیوری اور آدھی ہنر پر مشتمل ہونی چاہیے۔

ہم لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں‘ ہم قدرتی لحاظ سے شارپ بھی ہیں‘ حکومت فیصلہ کر لے ہم دو سیکٹرز میں پوری دنیا کو ہیومن ریسورس فراہم کریں گے‘اول سیکیورٹی اوردوم آئی ٹی‘آپ یقین کیجیے ہم بہت جلد اپنے قدموں پر کھڑے ہو جائیں گے‘ آپ جسمانی لحاظ سے فٹ لوگوں کو فوج کے حوالے کر دیں‘ یہ انھیں فوجی ٹریننگ دیں اور حکومت انھیں سیکیورٹی گارڈز بنا کر یو این آرمی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دے دے‘ ہماری آبادی کارآمد ہو جائے گی‘ میں اس ضمن میں فجی کی مثال دیتا ہوں‘ فجی کے لوگ جسمانی لحاظ سے مضبوط ہیں چنانچہ برطانیہ نے فجی کے جوانوں کے لیے اپنی فوج کے دروازے کھول رکھے ہیں‘آپ کو آدھی برطانوی فوج فجین ملے گی۔

افریقہ کے تین ملک عرب‘ یورپ اور امریکی ملکوں کو سیکیورٹی گارڈز اور باؤنسرز فراہم کرتے ہیں‘ہم بڑی آسانی سے یہ مارکیٹ حاصل کر سکتے ہیں‘ ہم بھی سیکیورٹی اکیڈمیز بنائیں اور نوجوانوں کو باہر بھجوادیں‘ ہمارے بچے اسی طرح قدرتی طور پر آئی ٹی کوبھی سمجھتے ہیں‘ ہم آدھے کالجوں کو آئی ٹی انسٹیٹیوٹس میں تبدیل کر دیں اور دنیا کو آئی ٹی کا سستا ٹیلنٹ دینا شروع کر دیں‘ آپ یقین کریں پاکستان خوشحال بھی ہو جائے گا اور تبدیل بھی چنانچہ ہم اگر صرف بے ہنری اور آبادی دو شعبوں کو کنٹرول کر لیں تو ہم بڑی حد تک اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بدھ 5 دسمبر کو بہت اچھا قدم اٹھایا‘ اسلام آبادمیں آبادی کے کنٹرول پر سمپوزیم کیا اور وزیراعظم‘ چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور پوری وفاقی کابینہ کو اکٹھا بٹھا دیا‘ مجھے یقین ہے یہ پالیسی اب قومی پالیسی بن جائے گی اور ریاست اس پر دل و جان سے عمل کرے گی‘ میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے آپ یہ سلسلہ تھوڑا سا آگے بڑھا دیں‘ آپ جاتے جاتے ملک کے گیارہ بڑے مسئلوں پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا بٹھا ئیں اور دس سال کے لیے قومی پالیسیاں بنا دیں‘ آپ آرمی چیف‘ ملک کی تینوں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں‘ وزیراعظم‘ وزراء اعلیٰ اور ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو بٹھائیں اور معیشت‘ ڈویلپمنٹ‘ جمہوریت‘ انصاف‘ قانون‘ مذہب‘ تعلیم‘ روزگار‘ صحت‘ پانی اور فارن پالیسی پر ملک کے لیے دس سال کا روڈ میپ تیار کروا دیں اور فیصلہ کر دیں ملک کا کوئی ادارہ اب اس پالیسی کو نہیں چھیڑ ے گا۔

آپ ریاست کو اس ایجنڈے کی تکمیل کا ہدف بھی دے دیں اور اگر ممکن ہو توآپ عمران خان کی سربراہی میں ایک نیشنل گورنمنٹ بھی بنا دیں‘ کیوں؟ کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے یہ ملک اب نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا‘ ہم جتنی دیر کریں گے یہ مریض اتنا موت کے قریب ہوتاچلا جائے گالہٰذا ہمیں جذبات سے نکل کر اب پریکٹیکل قدم اٹھانا ہوں گے‘ ہمیں ریاست مدینہ سے پہلے اس ریاست کو ریاست بنانا ہوگا اور یہ دس بیس سال کے حتمی روڈمیپ کے بغیر ممکن نہیں اور یہ روڈ میپ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی میٹنگ کے سوا نہیں بن سکے گا اور نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا‘ہم نے اگر آج یہ قدم نہ اٹھایا تو تاریخ ہمارے بارے میں بآواز بلند کہے گی‘ یہ وہ لوگ تھے جو ریاست کو ریاست مدینہ بناتے بناتے ریاست ہی سے محروم ہو گئے‘ قائداعظم اول نے لندن سے آ کر ملک بنایا اور قائداعظم ثانی ملک توڑ کر لندن چلا گیا۔

کیا ہم یہ چاہتے ہیں!۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔