ابھی نہیں تو کبھی نہیں

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 7 دسمبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

کرپشن نے ملک کو تباہی کے کنارے پہنچادیا ہے، اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جن اشرافیائی اکابرین نے قومی دولت کو لوٹ کر ملک کنگال اور غریب طبقات کو بد حال کیا اور لوٹی ہوئی اربوں کی دولت کو ملکی کم اور بیرونی بینکوں میں زیادہ رکھا، بیرونی ملکوں میں اربوں کی جائیدادیں خریدیں، وہ لوگ فرما رہے ہیں کہ معاشی بحران کے ذمے دار موجودہ حکمران ہیں۔

ہر روز صبح سے شام تک ٹی وی اسکرین پر اخبارات کے صفحات پر ان کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ہمارے بھولے بادشاہ عوام کی سادگی کا عالم یہ ہے کہ کرپشن کے یہ قصے کہانیاں ایک دوسرے کو جلے دلوں سے سناتے تو ہیں لیکن انداز ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی اورکی لوٹ مار، کسی اور ملک اور عوام دشمنی کی داستانیں سنا رہے ہیں اور وہ خود ان اربوں کی لوٹی ہوئی دولت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، اس اربوں کھربوں کی کرپشن میں عوام کا کردار ایک قصہ گو جیسا ہو کر رہ گیا ہے۔ انھیں احساس ہی نہیں کہ لوٹی ہوئی اربوں روپوں کی قومی دولت کے وہ خود مالک ہیں جب تک کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس لوٹی ہوئی دولت کا مالک میں ہوں، اسے اپنی دولت حاصل کرنے کا احساس نہیں ہوتا۔

مشکل یہ ہے کہ ہمارا میڈیا اگر بہت زیادہ تیر مارتا ہے تو لوٹی ہوئی دولت کے فیگر یعنی اعداد و شمار شایع کر دیتا ہے۔ میڈیا یہ نہیں بتاتا کہ ہماری سیاسی اشرافیہ نے جو اربوں کھربوں کی دولت لوٹی ہے، اس کے مالک عوام ہیں اور اس ناجائز دولت کو عوام کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لینا عوام کا حق ہے۔ ہماری ہمیشہ فرش مخمل پر چلنے والی اور مخمل پر چل کر پاؤں جلنے کی شکایت کرنے والی اشرافیہ کو آج کل بکتر بند میں بھی سفر کرنا پڑ رہا ہے کہ ہماری انتظامیہ ان شہزادوں کے ہر طرح کے آرام کا خیال رکھتی ہے۔

ان نوابین وقت کو اربوں کی کرپشن کے الزامات کے باوجود جس اہتمام میں عزت و احترام سے لایا لے جایا جاتا ہے یہ دیکھ کر ہماری نظروں میں وہ مجبور اور غریب عوام بھر جاتے ہیں جو ہزار پانچ سو کی چوری، ہزار پانچ سوکی رشوت لینے کے جرم میں زنجیروں سے بندھے ایک عدالت سے دوسری عدالت پھرتے نظر آتے ہیں۔ قانون کے محافظ ان کے ہاتھ ایک دوسرے سے باندھے عدالتوں میں ادھر سے ادھر گھسیٹتے پڑتے ہیں۔ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں کہ اربوں کے ملزموں اور دو چار ہزار کے ملزموں کے درمیان اس زمین و آسمان کے فرق کی وجہ کیا ہے؟

پہلی بار ہمارے سیاسی نوابین کا احتساب ہو رہا ہے جب کسی مجرم کو کسی الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ کتنا ہی ڈھیٹ کیوں نہ ہو شرمندہ شرمندہ لگتا ہے لیکن ہماری سیاسی روایات کے مطابق الزامات کو رد کر کے انتقام لینے کا الزام لگایا جا سکتا ہے اور یہ جھوٹا پروپیگنڈا ہر محاذ پر اس شدت سے کیا جاتا ہے، سچ اور حق عوام کو مشکوک نظر آنے لگتے ہیں۔ اشرافیہ کا حال پٹاری میں بند سانپ کا سا ہے۔ ان ملکوں میں جہاں قانون اور انصاف کی عظمت کو تسلیم کیا جاتا ہے، ملزمان کے ساتھ کسی قسم کی تخصیص نہیں برتی جاتی لیکن آزاد ملکوں کے غلاموں میں ہر قدم پر تخصیص، ہر قدم پر امتیاز اشرافیہ کی خصوصیتی حیثیت کا اعلان بنا دیتا ہے۔

ہو سکتا ہے احتساب کرنے والے بڑی نیک نیتی سے احتساب کر رہے ہوں لیکن اگر وہ عام غریب ملزموں سے ان ارب پتیوں کا موازانہ کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ احتساب میں امتیازکار فرما ہے اور دورانِ احتساب جب امتیاز برتا جاتا ہے تو انصاف کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی سر پرستوں نے ہر بڑے سے بڑے مسئلے کا حل دریافت کر لیا ہے۔ ہمارے چیف جسٹس بڑی محنت سے احتساب کو کامیاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حقیقت سے اشرافیہ بھی واقف ہے کہ اگر ایک بار بے لاگ بلا امتیاز احتساب ہو گیا تو پھر اشرافیہ کو شاید عشروں تک اقتدار کا منہ دیکھنے کا موقع نہ ملے۔

اس حوالے سے ایک دلچسپ حقیقت کو اجاگر کرنا ضروری ہے کہ موقع پرست مڈل کلاس جو ہمیشہ اشرافیہ کے دستر خوان کے ارد گرد رہتی ہے، بہت بے چین ہے اور جمہوریت کا پرچم تھامے کرپٹ اور محصور اشرافیہ کو بچانے کی بھرپورکوشش کر رہی ہے ۔ اس بے حس مڈل کلاس کو جب بھی اشرافیہ  ابتلا میں نظر آتی ہے وہ فوری جمہوریت خطرے میں ہے کے نعرے لگاتی ہوئی اشرافیہ کی نمک حلالی کے لیے آگے آ جاتی ہے۔

پہلی بار اربوں روپوں کے ’’قومی لیڈروں‘‘ کو احتساب کا سامنا ہے۔ وہ اس نا گہانی حقیقت سے بچنے کے لیے ہر طرح کے داؤ پیچ استعمال کر رہے ہیں۔ عوام کو ہمدرد بنانے کے لیے اربوں کے خرچے سے مظلومیت کا پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ بڑے بڑے ایسے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کر رہی ہے جو مجرم کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیتے ہیں۔ اس ملک کے غریب مظلوم عوام کو یہ پہلا موقع ملا ہے کہ نسل در نسل عوام کی محنت کی کمائی کو جاگیر سمجھنے والے پہلی بار احتساب کی زد میں ہیں یہ مہربان اس حقیقت سے نکلنے کی ہر طرح کوشش کریںگے۔ اب ہمیشہ عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ عدلیہ کی پیش رفت کو رکنے نہ دیں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں والا معاملہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔