کہانی سو دنوں کی

انیس باقر  جمعـء 7 دسمبر 2018
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ 100 دنوں کی اہمیت کا سہرا اس صدی کے فلسفی، ریاضی دان اور علوم سیاسیات کی شہرۂ آفاق جنگوں کی عملی طور پر مخالفت کرنے والی شخصیت برٹرینڈرسل ہیں۔ جو فروری 1970ء میں ارض ذی حیات سے 97 سال کی عمر میں رخصت ہوئے۔ 1903ء میں کیمبرج سے بی اے کرنے والی اس شخصیت کو دریائے علوم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سائنس اور آرٹس پر بلا امتیاز ان کو کلی دسترس تھی۔

برٹرینڈ رسل نے 1950ء میں نوبل انعام بھی حاصل کیا اور جیل کی ہوا بھی کھائی جو برطانوی حکومت نے ان کو کھلائی، کیونکہ ان کا جھکاؤ بہت سے سیاسی موقف میں سوویت یونین سے قریب تر تھا۔ بہر صورت یہ موقع برٹرینڈ رسل کی کتب بینی کا نہیں بلکہ ان کی ایک تصنیف ’’فرسٹ ہنڈریڈ ڈیزبک‘‘ (First 100 Days Book) نے دنیا کے سماجی علوم پر حرف زنی کی اور ایسا لگتا ہے کہ ان کی اس تصنیف کے بعد ہی 100 دنوں کو سماجی راہوں کے یقین کا پیمانہ قرار دیا گیا۔ ذرا غور فرمایے اداروں میں ملازمت کے لیے 100 دنوں کی نوکری کے دوران کارکردگی کا جائزہ ملکی پالیسیوں کا جائزہ اور انسانی برتاؤ اور دیگر مسائل کے حل پر نگاہ دوڑانا وغیرہ وغیرہ، یہ سب برٹرینڈ رسل کی ہی ایجاد ہے۔

برٹرینڈ رسل سرسری اس جہان سے نہ گزرے اسی لیے انھوں نے جہانِ دیگر کی تلاش جاری رکھی۔ غالباً موجودہ  پاکستانی حکومت نے اسی پیمانے کو اپنی کارکردگی کا پیمانہ بنایا تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ فی الوقت پاکستان میں دو قسم کی لابی (Lobby) یعنی حکمرانوں کی اقسام موجود ہیں۔ ایک وہ جو پرویز مشرف کے فکری عمل کے راہ رو ہیں، جب کہ دوسرے جنرل ضیا الحق کے۔ جنرل ضیا الحق کے فکری ساتھی مسٹر نواز شریف ہیں جو قدامت پرستی اور مختصر جدت پسندی کا امتزاج ہیں۔ لہٰذا جو لوگ بھی حکومت میں منتخب ہوکر آئے کوئی بھی دانشوری کے ٹولے سے تعلق نہ رکھتا تھا۔

یہ لوگ کسی انقلاب یا نئے پاکستان کے تصور سے آشنا نہ تھے کیونکہ جنرل ضیا الحق نے سیاست میں قدم رکھتے ہی اسٹوڈنٹس یونین کو ریزہ ریزہ کردیا اور زر کو سیاست کی بنیاد بنادیا، لہٰذا مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو سیاست سے باہر نکال دیا، اس پر سب متفق ہوگئے۔ دوئم ایم کیو ایم جو غریب اور مڈل کلاس کی نمایندہ تھی اس نے اصول پسندی کی سیاست نہ کی۔ لہٰذا پاکستان سے تبدیلی کی آواز لگانے والا ہر اول دستہ مایوس ہوکے بیٹھ گیا۔ اب صرف تقریری اور تحریری دستہ ہے جو خود علم اٹھانے سے ڈرتا ہے۔ قربانی کی آتما سے محروم سیاستداں ہیں، عوامی مشکلات اور علوم کی پیاس سے لوگ محروم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ عوام کی بنیادی ضروریات پر تحریکیں چلانے والے عدم کو چل دیے۔ اب مذہب کے نام پر سیاست ہو رہی ہے۔

کراچی شہر جو ویت نام پیٹرس لوممبا اور 3 سالہ بی اے بی ایس کی ڈگری کورس کی مخالفت کرنے والی قوت تھی اس کو دھڑے بندی اور زبان کی تقسیم پر ڈال دیا گیا۔ لہٰذا اب یہاں عوام ریزہ ریزہ ہوچکے ہیں۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب ٹرام پٹہ لیاری اور لالوکھیت سے انسانی ضروریات پر مظاہرے ہوتے تھے کیونکہ بھوک اور افلاس کا نہ کوئی رنگ ہوتا ہے نہ فرقہ۔ ان کا اتحاد لازمی تھا، سو نابود ہوگیا ہے۔ یہ جو آج قوم پر قرض ہے یہ سب انھی لیڈروں کا کمال ہے جب بیرونی دنیا سے قرض نہیں ملا تو پاکستانی عوام کی رگوں سے خون نکالا جا رہاہے اور ان غریب عوام کے لیے 50 لاکھ گھر بنانے کا عزم ہے تو یہ رقم کون دے گا۔ اگر آیندہ 5 برس میں ڈیم نہ بنا تو ملک زراعت سے بھی محروم ہوتا جائے گا۔

الیکٹرانک میڈیا پر نام نہاد معیشت داں آتے ہیں۔ جو اپنے معاشی منصوبوں سے حکومت کو آگاہ کرتے ہیں مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ صرف قرض کی قسط دینے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔ رقم کہاں سے آئے گی؟ ان مکانوں کی تیاری کون کرے گا؟ ان کی ابتدائی رقم کیا ہوگی۔ مکان کی قیمت کیا ہوگی۔ مالکانہ حقوق کی شرائط کیا ہوںگی وغیرہ وغیرہ جب کہ 100 دنوں کی صورتحال تو یہ ہے کہ گیس کی قیمت ہی 100 سے ضرب کرگئی ہے بجلی کی قیمت بڑھنے کو ہے مجموعی طور پر ملازمت پیشہ لوگوں کی تنخواہ مہنگائی کی بنا پر 25 فی صد کم ہوگئی ہے۔

اخباری ملازمین کے بعض اداروں میں ایک ایک دو دو ماہ تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ دیگر اداروں کے احوال بھی اچھے نہیں ۔ خارجہ حکمت عملی بہت کمزور ہے۔ چین پر تکیہ کر رکھا ہے چین 1970ء میں اس کی آبادی ایک ارب سے زیادہ تھی اب ان کی آبادی 25 کروڑ کم ہوگئی ہے، یہ ان کی فیملی پلاننگ اور دوسری منصوبہ بندی کا کھلا ثبوت ہے جب کہ 1970ء میں پاکستان کی مشترکہ آبادی یعنی مشرقی پاکستان کی 7 کروڑ اور مغربی پاکستان کی 5 کروڑ تھی مگر یہاں کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے بیروزگاری اور بوگس مردم شماری نے عوام کو مشکلات میں مبتلا کردیا ہے اور خارجہ پالیسی میں کوئی بھی ہمارا ہمنوا نہیں۔ ماسوائے سعودی عرب کے جن کی دفاعی پالیسی کا پاکستان اہم ستون ہے، جب کہ سعودی خارجہ پالیسی بھی خشوگی کی موت کے بعد نازک مرحلے سے گزر رہی ہے اور یمن جنگ بھی بدنامی کا باعث بن چکی ہے۔

لہٰذا پاکستان موجودہ الیکشن جیتنے والوں کی عقل پر یقین نہیں کرسکتا ان میں سے ان ہی لوگوں کے پیروکار ہیں جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو دھوکا دیا  اور جنرل ضیا الحق کے خفیہ طور پر ساتھی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب معراج محمد خان ، بیگم بھٹو کے پاس گئے کہ ہم تحریک کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹوکو باہر لائیںگے خواہ کتنا بھی جانی نقصان ہو تو انھوں نے فرمایا کہ ہم چند دنوں میں بتائیں گے۔

اگلے ہفتے معراج محمد خان پھر محترمہ نصرت بھٹو کے پاس گئے تو انھوں نے بتایاکہ عبدالحفیظ پیرزادہ کہہ رہے ہیں کہ ہم قانون کے ذریعے ان کو بچالیںگے۔ تو پھر کیا ہوا تاریخ شاہد ہے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے زمین کی تقسیم کی پالیسی بنائی سو وہ بھی انھی جاگیرداروں نے ناکام بنادی لہٰذا الیکشن جیتنے والے کبھی بھی عوام کے حقوق کے ضامن نہیں اور نہ یہ اپنے لیڈروں کے محافظ ہوسکتے ہیں مگر یقینا ان میں کچھ مخلص بھی ہیں مگر ان کو کون پہچانے یہ تو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی شکل میں ہیں۔

لہٰذا میری وزیراعظم سے یہ استدعا ہے کہ وہ 100 لوگوں کی ایک کمیٹی تشکیل دیں جن کو نہ لیڈری، نام و نمود اور نہ پیسے کمانے کا شوق ہو البتہ علم و فضل اور اپنے شعبے کے ماہر ہوں نہ اس کمیٹی والوں کو کوئی وظیفہ ملے بس کرایہ کی مد میں رقم اور یہی داخلہ اور خارجہ مجالس کے اصول وضع کریں تو عظیم فلسفی برٹرنڈرسل کے اصولوں کی روشنی میں ملک اپنا قدم بڑھاسکے گا اور 100 کے عدد کا صحیح استعمال نکیتا خروشیف ملک کو بحران سے نکال سکے گا۔ روس کے سابق وزیراعظم اور چین کے سابق وزیراعظم تن سیاؤ پنگ نے برٹرینڈرسل سے خاصا استفادہ کیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔