مکان مرمت سے ٹوٹ جاتے ہیں

سعد اللہ جان برق  جمعـء 7 دسمبر 2018
barq@email.com

[email protected]

ایکسپریس میگزین میں ایک نوجوان شاعر انعام کبیر کا ایک شعر پڑھا تو بیک وقت دو باتیں ہوئیں ۔ ایک تو وہی غالب ؔکا قول کہ :

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اور دوسرا خیال یہ آیا کہ اس شاعر کو کیا یہ ادراک ہے کہ وہ کیا کہہ گیا، اگر اسے یہ ادراک واقعی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک گزشتہ ستر سال میں جو لکھا گیا ہے جو بولا گیا ہے اور جو کیا گیا ہے اس کا نچوڑ یاخلاصہ یا ست نکال کر اس نے اس صدی کاسب سے بڑاسچ نہ صرف کھوجا ہے بلکہ بولا بھی ہے ۔ سنیے:

کبیر جب سبھی دیواریں خستہ ہو جائیں

تو پھر مکان ’’مرمت‘‘ سے ٹوٹ جاتے ہیں

یہی بات ہم نثر میں ایک عرصے سے بتانے کی کوشش کر رہے ہیں،کسی مکان کا اگر رنگ روغن خراب ہو جائے، پلستر اکھڑ جائے، فرش میں دراڑیں پڑجائیں یا چھت ٹپکنے لگے، یا آدھی دیوار بھی بیٹھ جائے تو اس کی مرمت ہو سکتی ہے بلکہ مرمت کاریگری سے کی جائے تو پہلے سے زیادہ مضبوط اور ’’نیا نویلا‘‘ بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن اگر اس کی چاروں دیواریں بھی دراڑ دراڑ ہوجائیں، فرش بھی دھنس جائے، چھت بھی لٹک جائے تو اس کی مرمت کیسے کی جا سکتی ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ مرمت کی ناکام کوشش میں (شعر کے مصداق ) ٹوٹ ہی جائے۔ بلکہ امکان ہے کہ مرمت کرنے والے بھی اس کی چھت یا دیواروں کی زد میں آکر دب جائیں، مر جائیں یا ٹوٹ پھوٹ جائیں ۔

ایسا ہی ایک مکان ہمارے سامنے بھی ہے۔ مرمت کرنے کے لیے ٹھیکیدار آجاتے ہیں۔ اپنا بل وصول کر لیتے ہیں اور مرمت کے  بجائے اسے کچھ اور ادھیڑ یا توڑ پھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ دوسرا ٹھیکیدار پہلے والے ٹھیکیدار کو بے ایمان اور چور کہہ کر نئے دعوے سے آتا ہے اور مرمت کے  بجائے اُلٹا اس مکان ہی سے کچھ لے کر مرتا ہے ۔

ہمیں یاد ہے ہمارا ایک فالتو کچا مکان ہوتا تھا ۔ اس میں پہاڑوں سے آنے والے کوچی اکثر آکر ایک سیزن کے لیے رہتے تھے ۔ کبھی ایک آتا دوسرے سیزن میں دوسرا آتا ۔ آخری کوچی خاندان نکلا تو سوچا کہ اس مکان کو ذرا اندر سے دیکھنا چاہیے ۔ کہ چھت کی کڑیاں یا شہتیر یا ستون وغیرہ تو گل سڑ نہیں گئے ۔ اندر گئے چھت کو دیکھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آخر یہ مکان کھڑا کیسے ہے ،بالوں کے اوپر جو لکڑیاں آڑی کرکے رکھی ہوئی تھیں، ان میں سے خال خال ہی بچی تھیں۔ وہ لوگ سردیوں میں یا ویسے ہی چولہا جھونکنے کے لیے چھت سے لکڑیاں نکال نکال کر جلاتے تھے ۔ اور اب مکان صرف کڑیوں پر کھڑا تھا ۔ اوپر کی مٹی اپنے آپ ٹھہری ہوئی تھی ورنہ نیچے سہارے کے لیے کچھ بھی نہ تھا ۔

ایسا ہی مکان ہم اپنے سامنے بھی دیکھ رہے ہیں بلکہ شاید اس سے بھی بُری حالت ہو کیونکہ یہاں وہاں سے مانگے تانگے کی لکڑیاں لا لا کر آخر کب تک اسے بلیاں دے دے کر کھڑا رکھا جا سکتا ہے جب کہ دیمک بھی بدستور ہے، اور لکڑیاں نکال کر ’’جلانے والے‘‘ بھی مکان کے اندر ہی ہیں اور دیواروں کے ساٹھ گڑھے کھود کھود کر ’’پانی‘‘ جمع کرنے والے بھی موجود ہیں بلکہ غضب کے اوپر غضب یہ کہ چھت پر کچھ اور بوجھ بھی چڑھا یا اور رکھا جا رہا ہے۔

ایک مرتبہ تو ایک معمار اعظم ، انجیئرجہاں ، قائد کالا نعام نے وہ بھی کیا ہوا ہے جو کسی ڈھے جانے والے مکان کے ساتھ آخر میں ہوتا ہے کہ آدھے مکان سے سب کچھ سمیٹ کر دوسرے آدھے حصے میں لگا دیا جاتا ہے اور باقی آدھے کا دیوار اٹھا کر ایک الگ کھنڈر کے طور پر رہنے دیا جاتا ہے۔

ہمیں علم نہیں کہ پاکستان کے یہ ’’پری چہرہ لوگ ‘‘ کیسے ہیں، ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے۔ کیا واقعی اس بات کا دور دور تک کوئی امکان ہے ؟ کہ کرپشن ختم ہو جائے گی ؟ کیسے ؟ ذرا سوچ کر بتائیے اور پھر کہیے کیسے؟

صرف ایک صورت ہے کہ کرپشن ختم کرنے کے لیے کہیں اور اتنے ہی بندے درآمد کیے جائیں جتنے اس وقت ’’مصروف‘‘ ہیں لیکن یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ اگر اٹھارہ کروڑ نہیں تو کم از کم نو کروڑ ایماندار تو درآمد کرنا ہوں گے اور پھر ان کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ ’’کان نمک‘‘ میں نمک نہیں ہوں گے۔

وہ کہانی تو ہم نے آپ کو سنائی تھی ناکہ بادشاہ نے اپنے زنانہ صفت شہزادے کو مردانہ بنانے کے لیے سو منتخب گبھرو نوجوانوں کے ساتھ رکھا کہ ان کی مردانہ صفات شہزادے میں بھی آجائیں لیکن ایک سال کے بعد جب بادشاہ معائنے کے لیے گیا تو سوکی سو نازنینیں لچک لچک اور مٹک مٹک کر تالیاں بجاتے ہوئے استقبال کو کھڑی تھیں ۔

ایک حقیقہ سن لیجیے۔ ایک زمانے میں ہم نے ہومیو پیتھک کلینک کھولا تھا۔ گاؤں کے لوگوں میں ہم تو ڈاکٹر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس لیے ایک رات لگ بھگ دو بجے دروازے پر دستک ہوئی، پتہ کیا تو ہمارا ایک رشتہ دار تھا جو کچھ لوگوں کی سفارش کے لیے آیا تھا۔ دروازہ کھولا تو چار پانچ آدمی ایک نوجوان کو سہارا دیے ہوئے تھے ۔

پتہ چلا کہ اس نوجوان کو سانپ نے کاٹا ہے۔ مقامی پیر صاحب نے ’’سانپ کا دم‘‘ کیا ہوا ہے، اس کی کوئی چنتا نہیں ہے لیکن اس کی انگلی سے خون ٹپک رہا ہے اسے کسی طرح روکنے کی کوشش کرو۔ ہم نے اپنا وتیرہ بنایا ہوا تھا کہ مریض میں ذرہ بھی کوئی خطرے والی بات ہوتی تو اسے سیدھا اسپتال کا راستہ بتا دیتے۔ اس مریض کا خون روکنے کے لیے بھی ہم نے کچھ مروجہ جتن کیے لیکن خون رک نہیں رہا تھا، آخر ہم نے ان کو بتا دیا کہ اس مریض کا خون ہی بگڑ چکا ہے، اسے سیدھا اسپتال پہنچاؤ۔

ان لوگوں میں بحث ہونے لگی کہ سانپ کو تو پیر صاحب نے دم کیا ہے ۔ خطرے کی کوئی بات نہیں صرف خون روکنا ہے۔ ہم نے انھیں تفصیل سے سمجھایا کہ پیر صاحب اور دم وم کو چھوڑ دو، زہر اس کے سارے بدن میں پھیل کر خون کو بگاڑ چکا ہے۔ اچھا ہوا مان گئے اورلڑکے کو لے گئے۔ کچھ روز بعد لڑکے کا باپ ہمارے پاس آکر بولا کہ میں عمر بھر آپ کا احسان نہیں بھولوں گا۔ اسپتال میں لڑکے کا سارا خون ہم سے چار بوتل خون لے کر بدل دیا گیا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ خون نہ بدلا جاتا تو صبح تک لڑکے کا مرنا یقینی تھا۔

کیا خیال ہے، یہ قصہ ہم نے آپ کو محض قصہ برائے قصہ سنایا ہے جی نہیں ہمارے سامنے اس وقت جو ’’مریض‘‘ ہے اسے ایک نہیں بلکہ بہت سارے سانپوں نے کاٹا ہے اس کی ’’رگوں‘‘ کا سارا خون ہی زہریلا ہو چکا ہے اوردنیا میں ایسا کوئی ڈاکٹر یا سپیرا نہیں جو اس کی رگوں میں دوڑنے والے اس سارے گندے اور زہریلے خون کو کسی ’’دم‘‘ سے صاف کرسکے۔ اس کا سارا خون بدلا جائے تو ٹھیک ورنہ بگڑا ہوا خون کبھی دوبارہ صاف نہیں ہوتا۔ یونہی اگر مگر کرنے سے کچھ بھی ہونے والا نہیں۔ مکان کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرنے کے بغیر مرمت کا کوئی فائدہ نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔