جنوبی پنجاب کو وزارت اعلیٰ دینا کافی نہیں!

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 7 دسمبر 2018
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

سنا ہے صوبہ جنوبی پنجاب بنانے کا معاملہ سرد خانے میں پھینکنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، سنا ہے اس حوالے سے حکومتی اراکین میں اختلافات طول پکڑ گئے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت صوبہ جنوبی پنجاب سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہتی ہے، کیونکہ اسے علم ہو چکا ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے وزیر اعظم سے جب سوال پوچھا گیاکہ اگر آپ نے جنوبی پنجاب صوبہ بنایا تو اکثریت نہ ہونے کے باعث وسطی پنجاب میں حکومت ختم ہو جائے گی۔ تو وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے ہم وقت سے پہلے انتخابات کرا دیں۔وزیر اعظم نے یہ بات یقیناً مزاح میں کہی ہوگی مگر اس بات سے اُن حلقوں میں بے چینی ضرور پیدا ہوئی ہے جنہوں نے اس آس میں حکومت کو ووٹ دیے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر جنوبی پنجاب صوبہ بنائے گی۔

جنوبی پنجاب کے قیام سے پسماندہ اضلاع میں  احساس محرومی کا خاتمہ ہو سکتا تھا مگر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی بار بار قائم ہونے والی حکومتوں نے نعرے تو بہت لگائے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اب یہی حال تحریک انصاف کی حکومت کا ہے کہ اُس میں موجود متعدد اراکین کو ’’پورا پنجاب‘‘ ہی چاہیے، اگر اس حوالے سے تحریک انصاف کی نیت بدل گئی ہے تو ایک اور یوٹرن ہوگا۔ تحریک انصاف کے منشور میں یہ بات واضع ہے کہ وہ ہر صورت جنوبی صوبہ پنجاب بنا ئے گی۔ اب اگر وہ ایسا کرنے سے کترا رہی ہے تو یقینا یہ اُس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

قوم کو سب یاد ہے کہ الیکشن سے پہلے انھی رہنماؤں نے اعلانات کیے تھے کہ چونکہ صوبہ پنجاب وطن عزیز کی آبادی ملک کی تقریباََ 62%آبادی پر محیط ہے۔جب کہ دیگر چھوٹے صوبوں کی آبادی تقریبا 38%ہے جس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں چھوٹے صوبوں کی آواز دب جانے کا تاثر پایا جاتا ہے۔اس لیے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا ضروری ہے۔ جنوبی پنجاب کے طلبا اور طالبات میں ٹیلنٹ موجود ہے مگر  جدید سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے مقابلے کے امتحانات میں انھیں مشکلات پیش آتی ہیں۔

اسی طرح یہاں کے کسان اور محنت کش لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے لاہور تک سفر کرتے ہیں۔جنوبی پنجاب کے صوبہ بننے سے صوبائی دارالحکومت قریب تر ہونے سے تمام صوبائی ،سرکاری محکمہ جات سے متعلق مسائل احسن طریقے سے حل ہوںگے اور دور دراز کے سفر سے نجات مل جائے گی۔ قابل اور ذہین طلبا و طالبات کو اعلیٰ سرکاری نوکری کی سہولت میسر آجائے گی جس سے بیروزگاری میں خاتمے میں مدد ملے گی وغیرہ وغیرہ لیکن اب الیکشن جیت جانے کے بعد کوئی رہنما ایسی بات نہیں کر رہا۔

تحریک انصاف پنجاب میں جیت جنوبی پنجاب میں جیت سے ہی تعبیر کی جاتی ہے۔ آئینی لحاظ سے نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پھر سینیٹ و قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ووٹ ضروری ہے۔چونکہ تحریک انصاف کو پنجاب اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ یہ مقصد تینوں بڑی پارٹیوں کی حمایت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یعنی پی ٹی آئی کے لیے اپنے منشور کے اس اہم نقطے پر عمل درآمد کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی کابینہ نے اپنے پہلے اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے اپوزیشن کی دوبڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ نوازاور پیپلز پارٹی سے بات چیت کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے۔

ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی حمایت میں بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ صوبائی اسمبلی میں قرادادیں بھی منظور کراچکی ہے۔ رواں سال پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپریل میں ملتان کے قریب پارٹی کی ممبر سازی مہم کے دوران کہا تھا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنائیں گے۔ رواں سال گزشتہ حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے سے پہلے جنوبی  سے مسلم لیگ نواز کے رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ پارٹی برسراقتدار آکر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے صوبے کے قیام کا منصوبہ شامل کرے گی۔ گزشتہ سال ستمبر میں اسمال فارمرز تنظیم نے مطالبہ کیا کہ 14 اضلاع پر مشتمل انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنانے کا اعلان کیا جائے۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے موجودہ الیکشن کے فوری بعد ہی ملتان میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مل کر صوبی جنوبی پنجاب بنائیں گے۔

صدر فاروق احمد لغاری، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی وغیرہ ہمیشہ اقتدار میں رہے ہیں۔ اس کے باوجود جنوبی پنجاب کی شکایات کا مداوہ نہیں ہو سکا ۔ افسوس تو یہ ہے کہ مجھ سمیت پنجاب کی 90فیصد آبادی کو یہ یقین تھا کہ اب جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومی دور ہو جائے گی، لیکن جنوبی پنجاب کو فقط ایک وزارت اعلیٰ دے کر ٹرخا دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بات نعرے سے آگے نہیں بڑھی۔گزشتہ برسوں کے دوران اس مطالبہ کی ہیئت تبدیل ہو گئی۔ وہ یہ کہ جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ بنایا جائے یا دو۔اگر ایک صوبہ بنایا جائے تو کون کون سے اضلاع اس میں شامل ہوں؟ اگر دو بنائے جائیں تو کون کونسے علاقوں پر مشتمل ہو؟ صوبے کی بنیادیں سیاسی (یعنی محرومیوں کا احساس وغیرہ )اور ثقافتی ہوں یا انتظامی؟

تحریک انصاف کو یہ سوچنا ہو گا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بننے میں کون کون لوگ رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں ۔ عام تاثر یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے غریب عام لوگوں اور کسانوں کا استحصال کرنے والے وڈیرے اور شوگر مافیا ، بوقت ضرورت وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں جگہ ڈھونڈ نے کے لیے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے کارڈ کو استعمال کرتے ہیں اور اقتدار میں حصہ ملنے کے بعد یہ مطالبہ بھول جاتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ مثال خسرو بختیار کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی چھوڑنے والے بعض اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پر فٹ آتی ہے۔ اورجنوبی پنجاب کے اہل فکرو نظر حضرات کاان پر الزام ہے کہ انھوں نے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کا کیس خراب کیا۔ دو کے بجائے ایک نئے صوبے (خواہ وہ بہاولپور ہو یا جنوبی پنجاب ) کی با ت کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ایک صوبہ بنے یا دو، یہاں کے لوگوں کا مکمل اتفاق ضروری ہے۔

ایک صوبہ بنانے کی صورت میں اتفاق رائے بنتا نظر نہیں آتا۔اس لیے کہ بہاولپور والے اپنا صوبہ اور جنوبی پنجاب والے اپنا صوبہ چاہ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ بہاولپور بھی جنوبی پنجاب کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ بہاولپور قیام پاکستان کے وقت الگ ریاست تھی۔ریاست کو پچاس کے عشرے میں مغربی پاکستان کا حصہ بنایا گیا اور بہاولپور کی الگ شناخت ختم کردی گئی۔

خیر اسے انتظامی یونٹ بنایا جائے، مزید 2صوبے بنائیں جائیں یا ایک ، مگر یہ بات واضح اور حقائق پر مبنی ہونی چاہیے ، اگر ٹال مٹول کا یہی سلسلہ رہا تو شہباز حکومت اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق نہیں رہے گا، لہٰذاجنوبی پنجاب کو محض وزارت اعلیٰ دینا کافی نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔