فلسطین سے کشمیر تک

زبیر رحمٰن  جمعـء 7 دسمبر 2018
zb0322-2284142@gmail.com

[email protected]

اسرائیل کا شام ، اردن ، عراق اورلبنان کے علاقوں پر قبضہ اور ہندوستان کا کشمیروں کی مرضی کے خلاف کشمیر پر قبضہ کوئی آج کا کھیل نہیں ہے،گو کہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی قبضے کو ختم کروایا ہے، جب سے یہ ریاستیں وجود میں آئی ہیں، یہ سلسلہ جاری اورساری ہے۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اسپین کی شاہی حکومت نے امریکا (جنوبی اورشمالی) پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے۔ لاکھوں انسانوں کا قتل کرکے ان کے وسائل پر قبضہ کیا۔

برطانیہ نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی مقامی آبادی کے لاکھوں لوگوں کا قتل عام کرکے وہاں یورپی اقوام کو بسایا۔ یہی کام اسرائیل میں ہوا ۔ سرزمین عرب پر دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر بسایا گیا ، مقامی آبادی پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔ ٹھیک یہی کام کشمیر میں ہو رہا ہے ۔کشمیر میں غیرکشمیریوں کو ہندوستان کی حکومت باہر سے لاکر بسا رہی ہے ۔ 1948میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد 1949میں اسلامی ملک ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کیا ۔

اس وقت دنیا کے 32 ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے جن میں 19مسلم ممالک ہیں ۔ فلسطین میں پی ایف ایل پی، ڈی ایف ایل پی اورکمیونسٹ پارٹی آف فلسطین بڑی موثر جماعت تھی مگر ان کے خلاف امریکی سی آئی اے نے ’’حماس‘‘ کو تشکیل دیا جس کے نتیجے میں امریکی سامراج کو فلسطین میں سازشیں کرنے کے مواقعے ملے۔ پہلے یہ نعرے لگ رہے تھے کہ’’ یاسر یاسر یاحبیب ، فتح فتح تل ابیب‘‘ اور آج مصر اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے ۔

دبئی میں جوڈو کی بین الاقوامی چمپین شپ کے کھیل کے دوران اسرائیلی وزیر ثقافت دبئی آئے اور دبئی میں اسرائیلی پرچم لہرایا گیا اور اسرائیلی ترانہ گایا گیا۔اسی طرح عرب امارات میں بھی پہلی بار اسرائیلی نمایندے آئے اور اسرائیل نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ۔ ادھر اومان (oman ) نے بھی اسرائیل سے باقاعدہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہارکیا ہے۔ نیتن یاہو اومان کے دارالخلافہ مسقط بھی آئے تھے۔ اسرائیلی طیارہ پاکستان آنے کی تصدیق اور تفصیل معروف اسرائیلی حارٹز haaretz نے شایع کیں ۔ پہلے تو اردن، مصر اور سعودی عرب وغیرہ کی سرزمین سے فلسطینی،اسرائیل کے خلاف گوریلا جنگ کرتے تھے۔ اب ان ملکوں نے فلسطینیوں پر اسلحہ لے کرچلنے پر پابندی لگا دی ہے جس کی وجہ سے وہ غلیل اور پتھروں سے کام لے رہے ہیں۔

ویسے بھی اسرائیلی وزیرخارجہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہم عرب کے سنی مسلمانوں کے ساتھ ہیں ، یہ اشارہ ایران کے خلاف تھا۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل کا دارالخلا فہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے خلاف بائیں بازوکی نو جماعتوں نے ( بشمول کمیونسٹ پارٹی) نے شدید احتجاج کیا ۔ انھوں نے دارالخلا فے کی منتقلی کے علاوہ فلسطینی اور عربوں کے علاقوں میں پانی، بجلی اور نکاسی آب کی بدترین صورتحال پر بھی احتجاج کیا ۔ تل ابیب میں مہنگائی اور غذائی قلت کے خلاف بائیں بازوکے اتحاد نے مظاہرے کیے اور ریلی نکالی۔کچھ عرصہ قبل اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کے حق میں 62 اور مخالفت میں 55 ووٹ پڑے جن میں 18اسمبلی ارکان کا تعلق بائیں بازو سے تھا ۔

حال ہی میں متعدد فلسطینیوں کی شہادت پر برطانیہ کے حزب اختلاف کے سوشلسٹ لیڈر جیمری کوربون نے شہداء کی قبر پر پھول کی چادر چڑھائی جس پر نیتن یاہو نے یہ بیان دیا تھاکہ دہشت گردوں کی قبر پر پھول کی چادر چڑھائی جا رہی ہے۔ اس کے جواب میں جیمری کوربون نے تل ابیب میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مسلمانوں اور یہودیوں کے مشترکہ احتجاج اور مظاہرے کی حمایت کا اعلان کیا، جب کہ فلسطینیوں کی شہادت پر عرب دنیا چپ ہے۔

ادھر ہندوستان کشمیریوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کر رہا ہے ۔ آئے دن کشمیری جاں بحق ہو رہے ہیں ۔کشمیرکی تاریخ فلسطین کی قدیم تاریخ سے مماثلت رکھتی ہے۔ 1832اور 1835میں کشمیرکے ریشم بنانے والے مزدوروں نے تاریخی ہڑتال کی اور پھرکشمیری کسانوں نے نا قابل مثال ہڑتال کی۔اس کی پاداش میں عظیم کسان رہنماؤں ملی خان، سبزعلی خان ، مسافرخان اور قلی خان سمیت ساتوں کسان رہنماؤں کو’’ منگ‘‘ نامی جگہ (موجودہ آ زاد کشمیر) پہ ایک زیتون کے درخت کی ٹہنی پر پاؤں میں کیل گاڑکر الٹا لٹکایا گیا تھا اور ان کی کھال اتاری گئی ۔ سلام ہے ان عظیم کسان رہنماؤں کو جنھوں نے جان دے دی لیکن حکمرانوں سے معافی نہیں مانگی۔کشمیرکی تاریخ درحقیقت طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے، اب بھی کشمیر میں جاگیرداری نہیں ہے۔

گزشتہ تین سال قبل کشمیری رہنما افضل گروکی برسی کے موقعے پرکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے منسلک طلبہ تنظیم نے تعزیتی جلسہ جواہر نہرو یونیورسٹی دہلی میں کروایا تھا ۔ جس پر طالب علم رہنما کنہیا کمارکوگرفتار بھی کرلیا گیا تھا ۔ جس کے رد عمل میں انڈیا کی گیارہ یونیورسٹیوں میں ہڑتالیں ہوئی تھیں ، پھرکشمیریوں پر انڈین حکومت کے مظالم کے خلاف ( مقبوضہ کشمیر) سری نگر میں 2016 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے دس ہزار لوگوں کی ریلی نکالی جس سے کمیونسٹ رہنما تارا گرامی نے خطاب بھی کیا تھا ۔

تارا گرامی ممبر آف لیجسلویٹو اسمبلی بھی ہیں ۔اس واقعے کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں الیکٹرونک اور پرنٹنگ میڈیا میں کوئی کوریج نہیں دی گئی تھی۔کشمیرکے نوجوان بے جگری اور بلاخوف اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیری نوجوان اپنے اتحاد اور جدوجہد کے بل بوتے پر یہ لڑائی جاری رکھیں گے اورکامیابی سے ہمکنار ہونگے ۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کوکسی ریاست کے سہارے یا ریاست کے لیے نہیں بلکہ کیٹالونیہ (اسپین) کی طرح اسٹیٹ لیس سوسائٹی کے لیے لڑائی لڑنی ہوگی ۔ فلسطینیوں کو اسرائیلی حکمرانوں اورکشمیریوں کو بھارتی ریاستی حکمرانوں سے نجات کے ساتھ ساتھ ایک خود مختار اور خود انحصار علاقے کے قیام کے لیے لڑائی جاری رکھنی ہوگی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔