غلط سیاسی فیصلے

محمد سعید آرائیں  جمعـء 7 دسمبر 2018

وفاق اور خیبر پختون خوا کی طرح پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت اپنے پہلے سو روز مکمل کرکے چوتھے ماہ میں داخل ہوچکی ہے ۔ وفاق کی طرح پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو شاید اپنی غیر متوقع حکومت پر یقین نہیں آرہا۔ جہاں ان کی توجہ کارکردگی سے زیادہ الزام تراشیوں اور حکومتی فوائد کے حصول میں نظر آرہی ہے اور محسوس یہ ہورہا ہے کہ ملک بھرکی طرح پنجاب میں بھی تیزی سے غیر مقبولیت حاصل کرنے والی پنجاب حکومت کو نقصان مسلم لیگ (ن) سے زیادہ خود اپنوں کی قیادت کے غلط فیصلوں سے پہنچ رہا ہے۔

راقم کو نئے پاکستان کی حکومت میں دو ہفتے پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، ملتان کچھ چھوٹے شہروں اور اسلام آباد میں گذارنے اور لوگوں سے ملنے کا موقع ملا جن میں اکثریت پی ٹی آئی حکومتوں سے نالاں نظر آئی اور پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں اور حامیوں کو بھی مایوس اور پی ٹی آئی کی سیاست اور گروپنگ پر مطمئن نہیں دیکھا۔

لاہور سے پنجاب اسمبلی کے ایک اہم حلقے میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر شہری اور دیہی زیادہ بڑے حلقے پر مشتمل صوبائی نشست پر 25 جولائی اور بعد میں 14 اکتوبر کا ضمنی الیکشن لڑ کر دونوں بار شکست سے دوچار ہونے والے تحریکی امیدوار نے ایک ملاقات میں پنجاب میں ضمنی الیکشن میں اپنی جیتی ہوئی نشستیں ہارنے کا ذمے دار قیادت کے غلط فیصلوں اور باہمی گروپنگ کو قرار دیا ۔

اس تحریک کے صوبائی امیدوار نے اپنے حلقے میں ذاتی اثرورسوخ کے باعث 25 جولائی کے مقابلے میں 14 اکتوبر کو تقریباً سات ہزار ووٹ بھی زیادہ حاصل کیے مگر (ن) لیگ دونوں پر جیت گئی۔ حکومت میں آکر پی ٹی آئی رہنماؤں نے باہمی گروپنگ کے باعث ضمنی الیکشن میں اپنے ہی امیدواروں کی انتخابی مہم سے لاتعلقی اور اپنے پہلے اقتدارکے مزے لوٹنے اور خوشامدیوں میں گھرے رہنے کو ترجیح دی اور بعض حلقوں میں اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی اور ضمنی انتخابات میں نظر نہیں آئے۔

شکست خوردہ تحریک انصاف کے امیدوارکوگلہ تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کو اہم فیصلوں کے سلسلے میں مناسب وقت کا انتظار کرنا تھا اور ضمنی الیکشن کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے تھا اور غلط وقت پر درست اور نا مقبول فیصلوں سے گریزکرنا چاہیے تھا۔

ایک ملاقات میں سینئر صحافیوں کا موقف تھا کہ نئی حکومت کو بیک وقت اپنے خلاف کئی محاذ نہیں کھولنے چاہیے تھے اور اپنے وزیروں کو الزام تراشیوں متنازع معاملات میں بیان بازی کی بجائے تحمل کے مظاہرے کی ہدایت کرنی چاہیے تھی اور مہنگائی بڑھنے کے اقدامات سے گریزکرنا ضروری تھا جس کی وجہ سے عوام بدظن ہوئے۔

ایک ریلوے قلی نے شیخ رشید کے مقابلے میں خواجہ سعد رفیق کی ریلوے کارکردگی کو کہیں بہتر قرار دیا اور صرف قلیوں کی پرانی وردی کی بحالی کو سراہا اور بتایا کہ قلیوں کو ہر ریلوے اسٹیشن پرکمرے خواجہ سعد رفیق نے فراہم کیے تھے اور ہمیں نئے پاکستان اور غربت میں بھی ٹھیکیداروں کو ماہانہ رقم دینی پڑ رہی ہے جب کہ روزگار کم ہوتا جا رہا ہے۔

مظفرگڑھ پنجاب کا واحد ضلع ہے جہاں سے پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے جو تین امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اس کی وجہ بھی تحریک انصاف کی باہمی اور غلط انتخابی فیصلے بتائی گئی ہے۔ شاہ محمود قریشی اپنے وعدوں پر عمل کرا سکے نہ شیخ رشید احمد خان گڑھ جا کر بھی تحریک انصاف کو عوام راج پارٹی کے جمشید دستی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرانے میں ناکام رہے اور وہاں رات کو کامیاب ہونے والوں کو صبح ناکام قرار دیا گیا اور عوام راج پارٹی جھاڑو کے نشان پر چھ لاکھ ووٹ لے کر بھی کوئی نشست حاصل نہ کرسکی البتہ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کے دو صاحبزادے باہمی طور پر متحد ہو کر پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ٹکٹوں پر طویل شکستوں کے بعد قومی اور پنجاب اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے مگر غلط گوشوارے اور جعلی ڈگری کی تلوار ابھی تک لٹک رہی ہے۔

راولپنڈی میں نثار علی خان کے تکبر اور رعونت کی وجہ سے غلام سرور خان اور اٹک میں میجر طاہرصادق دو دو نشستوں پر کامیاب پی ٹی آئی کے ٹکٹوں پر ہوئے تھے مگر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی اپنی ہی دونوں نشستیں قیادت کے غلط فیصلوں کے بعد دوبارہ اس لیے حاصل نہ کرسکی کہ عمران خان نے طاہر صادق کے بیٹے یا داماد کو ٹکٹ اس بنیاد پر نہیں دیا کہ ایک ہی خاندان میں دو نشستیں چلی جائیں گی مگر یہ اصول راولپنڈی میں شیخ رشید کے بھتیجے اور غلام سرور خان کے بیٹے پر نہیں لگایا گیا اور سینیٹر کا ٹکٹ اپنی دیرینہ ورکر کا اعلان کرکے بعد میں جہانگیر ترین کی ہمشیرہ کو دے کر قیادت نے خود اپنا اصول چھوڑ دیا مگر حکومت میں آکر اپنے دوستوں کو نوازنا نہیں بھولی۔

پنجاب میں پی ٹی آئی سے اتحاد کا سب سے زیادہ فائدہ (ق) لیگ کے چوہدریوں اور شیخ رشید نے اٹھایا اور اپنے صاحبزادے اور قریبی عزیزوں کو ضمنی الیکشن میں ضرورکامیاب کرا لیا اور ان کی خاندانی سیاست برقرار رہی۔ پنجاب اسمبلی میں حکومتی اکثریت بتدریج کم ہو رہی ہے کیونکہ آنے والے آزاد امیدواروں کو وزارتیں نہیں ملیں جب کہ وفاق میں ایک دو نشستوں کے حلیفوں کو وزارتیں دی گئیں۔ وزیراعظم عمران خان یوٹرن لینے کو کامیاب لیڈرکی ضرورت قرار دے چکے ہیں مگر پنجاب اور وفاق میں ان سے بعد میں الحاق کرنے والوں نے اگر غلط پالیسیوں پر یوٹرن لے لیا تو وفاق اور پنجاب حکومتیں جا بھی سکتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔