خود کو بدلو

قمر عباس نقوی  جمعـء 7 دسمبر 2018

میرے دیرینہ دوست ندیم حیدر نقوی ایک منجھے ہوئے سابقہ بینکارکے علاوہ ’’بزم مزاح پاکستان ‘‘ کے روح رواں بھی ہیں۔ دوستی وہ بھی محبت کے ساتھ نبھانے والے مشفق اور دانشورانہ خوبیوں کے مالک ہیں۔ حالیہ ایک مختصر سی ملاقات میں مجھ سے ایک سوال کر بیٹھے ، اس سوال نے مجھے مجبورکیا کہ اسی اہم عوامی نقطے کو اپنے کالم کا مو ضوع بناؤں ۔کہنے لگے ’’ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نیازی کا انتخابی نعرہ اورعوامی منشور ’’ تبدیلی ‘‘ ہے۔ مانا کہ ذاتی حیثیت میں خانصاحب کرپشن فری مخلص انقلابی انسان ہیں۔

ماضی کے تجربات کی رو سے تبدیلی کے واضح مثبت اثرات اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے شیرینی ثمرات ہمیشہ نچلی سطح سے اس وقت نمایاں ہوتے ہیں جب ہمارا عام آدمی سیاسی اور اخلاقی شعور رکھتا ہو، جب کہ ہمارے عوام میں اس قسم کے جراثیم ہی نہیں پائے جاتے تو ایسے میں تبدیلی کیسے ممکن ہوسکتی ہے‘‘ یہ تو تھا موصوف کا فکری استدلال پر مبنی اصولی موقف۔

بہرحال ! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسے عوام ہونگے، ویسے ہی ہم پر حکمران مسلط ہونا یقینی امر ہوگا۔اس وقت عام آدمی کی معاشی حالت تو ویسے ہی خراب ہے، سونے پہ سہاگہ یہ کہ اخلاقی حالت بھی کچھ اچھی نہیں کہی جاسکتی۔ کہتے ہیں کہ دوسرے کو سہولت دو گے تو اللہ تعالی کی پاک ذات آپ کو غیب سے سہولت فراہم کرے گا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ گاڑی چلاتے وقت ہمیں اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ لوگوں کی اخلاقی بد حالی کی گواہی سڑک پر چلتا ہوا ٹریفک نظام دیتا ہے ، سڑک ہر خاص وعام کی آمد ورفت کا ایک ایسا اہم ذریعہ ہے، جہاں صحیح معنوں میں لوگوں کے اخلاقی شعورکا پتہ چلتا ہے۔

ترقی یافتہ اقوام میں گاڑی کا ہارن بجانا نہ صرف قانونی جرم ہے بلکہ سب سے زیادہ اخلاقی گناہ سمجھا جاتا ہے۔ وہا ں ہارن یا ہوٹرکا استعمال صرف ایمبولینس کرتی ہے اور وہ بھی حسب ضرورت، بلاوجہ نہیں۔ کچھ ممالک میں ایمبولینس کے آگے پولیس کی گاڑی ریڈ لایٹوں سے جلتے ہوئے ہوٹرکے ساتھ حرکت میں ہوتی ہیں۔ ہارن بجانا نہ صرف ارد گرد کے ماحول کو بری طرح متاثرکرتا ہے بلکہ اپنے ہمسفرکی تضحیک اور تکلیف کا سبب بھی بنتا ہے ۔ ہارن بجانا انسانوں کی جہالت نہیں بلکہ حیوانی عمل ہے۔

یہ سب باتیں اس لیے لکھنی پڑ رہی ہیں کہ حال ہی میں حسب معمول دوسرے عالمی دنوں کی طرح ٹریفک کے حادثات کا عالمی دن بھی منایا گیا اور اس ضمن میں وطن عزیزکی اسٹیبلشمنٹ کی اہم رکن تنخواہ دار اور مراعات یافتہ بیوروکریسی بھی حرکت میں آ گئی اور یوں ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی اور روز بروز ٹریفک حادثات میں جانوں کا ضیاع کے مد نظر کراچی پولیس کے DIG Traffic نے میئرکراچی کی مدعیت میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے کچھ عملی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ موٹر سائیکل سوار پر ہیلمیٹ کی پابندی ، مخالف سمت یا No Entry سے ڈرائیونگ کرنا، بغیر ڈرائیونگ لا ئسنس کے گاڑی چلانا ، نوعمر بچوں کا گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کرنے کی ممانعت، مقررہ حد رفتار سے زیادہ موٹر سائیکل چلاناجیسے گھمبیر معاملات کا نوٹس لیا گیا ہے۔ یقینا اٹھائے جانے والے اقدام قابل ستائش اور قابل تحسین ہیں۔

حضور والا ! ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی فہرست کا تعین اور دائرہ کار ان چند بے ضابطگیوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا یہ وہ رعایا ہے جو ہر چھوٹی بات کو ڈنڈے کے زور پر سمجھ پاتی ہے۔ مزے کی بات دیکھیے کہ محکمے میں موجود کالی بھیڑیں یعنی سڑک پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار ایسے قانون شکنوں کو پکڑتی ضرور ہے مگر جائے وقوع پر مک مکا کے تحت پچاس یا سو رو پے وصول کرکے ان کو چھوڑ دیتی ہے،کچھ اس کا بھی سد باب کرنے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر دوران ڈرائیونگ موبائل پر باتیں کرنا، جب کہ یہ عمل موٹر سائیکل پر تو بہت ہی خطرناک ہوتا ہے۔ مضر صحت کاربن دھواں چھوڑتی ہوئی سڑکو ں پر رواں دواں گاڑیاں، چلتی گاڑیوں سے پان یا گٹکا کی پچکاری مارنا، موٹر سائیکلوں پر سائیڈ گلاس کا نصب نہ ہونا اور انڈیکیٹرکا فقدان ہمیں کیا درس دیتا ہے۔ موٹرسائیکلوں پر لگے فل اسٹینڈ کی بجائے سائیڈ اسٹینڈ کا غلط استعمال ، پردہ داری کے تحت گاڑیوںپر کالے شیشے، نمبر پلیٹوں پر لکھا ہوا  AFR 2017 یعنی ایکسائز کے محکمے سے بغیر رجسٹریشن شدہ گاڑیاں آزادانہ سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں۔ ہمیں اپنی گاڑی کی رفتار کے حساب سے سڑک کی کونسی لین پر چلنا ہے، مڑتے وقت یا راستہ بدلتے ہوئے ہمیں کن باتوں کا خیا ل رکھنا ہے، ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ یہ تو رہی شہر کی تجارتی اور کمرشل علاقوں کے مین شاہراہوںکی حالت زار ۔

ذرا آپ رہائشی علاقوں کی طرف ایک نظر دوڑائیں تو آپ کو خوش قسمتی سے ہی ایسا کوئی علاقہ ملے گا، جہاں تیز رفتاری کو روکنے کے لیے چندکلومیٹرکے فاصلے پر قبر نما اسپیڈ بریکر (اچھلو)موجود نہ ہوں۔ ٹریفک حادثات کا ماضی کا ریکارڈ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ حادثات اور ان سے ہونے والی قیمتی جانوں کا ضیاع ان ہی اسپیڈ بریکروں کی وجہ سے ہوئے ہیں ۔

حد تو یہ ہوگئی ہے کہ رہائشی علاقوں میں بھی تیز رفتاری کے ساتھ ہارن کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ باوثوق ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ انھی قانونی اور اخلاقی بے ضابطگیوں کے مدنظر حکومت پنجاب نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کو پابندکیا ہے کہ کسی گاڑی کی مجاز ڈرائیونگ لائسنس کے بغیرگاڑی کی رجسٹریشن نہ کرے۔ بات ڈرائیونگ لائسنس تک ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ ڈرائیونگ لائسنس کے متمنی امیدوارکوکم ازکم ایک ہفتہ یا اس سے زائد عرصہ common sense کا استعمال کرتے ہوئے ماہرانہ تربیت اخلاقیات Ettiques & Manners کے ساتھ دینا لازم قرار دیا جانا چاہیے۔

سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ میں شدت کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ریاست کی طرف سے ناقص پالیسیوں کا نفاذ ہے۔ منتخب حکومتیں عوامی سفری سہولتوںکی فراہمی میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ آمد ورفت کے لیے معقول اور بروقت ، سستی آرام دہ سفری سہولیات کی آسان شرائط پر فراہمی شہری مقامی بلدیاتی حکومتوں کی اولین منصبی ذمے داری ہے۔ اسی لیے لوگوں نے اپنی سہولت کے لیے چائینہ سے برآمد شدہ موٹر سائیکل جوکہ چالیس ہزار کی رینج میں ماہانہ اقساط پر مل جاتی ہیں ، حاصل کرلیتے ہیں۔ ادھر سڑکوں پرکثرت سے گاڑیوں کے بے ربط بہاؤ نے پارکنگ کے مسائل بھی پیدا کردیے ہیں۔

معاشی حالات تو خان صاحب بہتر بنا دیں گے مگر بگڑا ہوا اخلاق ، منفی خیالات، لالچ، حرص، جھوٹ اور دھوکا دہی کون درست کرے گا؟ افسوس اس بات کا بھی ہے ان دونوں عوامل میں تعلیم کوئی موثر کردار ادا نہیں کر پا رہی کیونکہ تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کا شدید فقدان ہے، جب کہ ملک کے عوام کی اکثریت کے اندر جوکرپشن ، سماجی ومعاشرتی برائیاں سرایت کرگئی ہیں جو بلاشبہ پورے کے پورے معاشرے کو دیمک کی طرح کچھ تو چاٹ چکی ہیں اور جو باقی رہ گئی ہیں وہ بھی مزے سے چاٹ رہی ہیں اور اس کے علاج کے سدباب کا راستہ بھی نہیں مل پا رہا ۔ ایسے حالات میں خانصاحب کے پاس کون سی ایسی گیدڑ سنگھی ہے جو پل بھر میں بگڑی ہوئی عوام کو تبدیل کردیں گے۔

قبل از وقت قیاس آرائیاں نہیں کی جاسکتیں کیونکہ فی الحال تو نو منتخب وزیراعظم کی تمام تر توجہ اور ترجیحات ملک کو مالی بحران سے نکالنا ہے ۔ قوم اچھے انسانوں کی جماعت کے مجموعے کا نام ہے، ہم نے اب تک اپنے آپ کو محض صرف ایک کلمہ گو مسلمان (حاجی اور نمازی) ہی ثابت کیا ہے ۔ اچھے انسان کی حیثیت میں نہیں، اسی لیے ہمارا شمار ’’قوم ‘‘کی فہرست میں شامل نہیں۔ خود کو بدلنے کی ہمیں بے حد ضرورت ہے جو بلاشبہ اچھے معاشرے کی تشکیل کا ضامن ہوگا ۔یقین جانیے اگر ہم نے اپنی بگڑی ہوئی سوچ اور بری عادات سے چھٹکارا حاصل کر لیا تو ہمیں دنیا کی کو ئی طاقت شکست دے ہی نہیں سکتی ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔