ایک ہی انڈا وہ بھی گندا

توقیر چغتائی  جمعـء 7 دسمبر 2018

مختلف سیاسی اور سماجی مسائل کے ساتھ ہمارے معاشرے میں اس سوال نے ایک بار پھر شدت سے جنم لیا ہے کہ پہلے مرغی آئی تھی یا انڈا؟ شیخ صاحب کا کہنا کہ اس سوال سے بہت عرصہ قبل جب یہ مثل مشہور ہوئی تھی کہ ’’ایک ہی انڈا وہ بھی گندا ‘‘ توجواب خود بخود سامنے آ گیا تھا کہ انڈے سے پہلے دنیا میں مرغی کا وجود موجود تھا۔ گندے انڈے سے نہ چوزا نکل سکتا ہے اور نہ مرغیوں کی افزائش نسل ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ لوگ اب تک اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں تو مہنگائی کی وجہ سے ان کی سٹی گم ہو گئی ہے یا ڈالر کی اڑان دیکھ کر وہ سٹھیا گئے ہیں۔

صدیوں پہلے گندے اور صاف انڈے کو پرکھنے کے لیے انھیں پانی میں ڈال دیا جاتا تھا۔ جو ڈوب جاتے وہ صاف ہوتے اور جو تیرنے لگتے انھیں گندے انڈے قرار دے دیا جاتا ۔ شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ گندے انڈے کے اندر موجود چوزے کی ابتدائی شکل کو دنیا میں آنے اور جگہ جگہ گندگی پھیلانے کی جلدی ہوتی ہے اس لیے انڈا اس کی بے تابی کو برداشت نہ کرتے ہوئے سطح آب پر آجاتا ہے، لیکن صاف انڈا صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی تہہ تک ہی محدود رہتا ہے اور اُس میں پرورش پانے والا چوزہ وقت آنے پر ہی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی سیاست دان برسوں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاست کی تہہ میں بیٹھا رہے اور مناسب وقت دیکھتے ہی ابھرکر میڈیا کے سامنے آجائے ۔ ویسے انڈا گندا ہو یا صاف اس کا موازنہ سیاست یا دانوں سے کرنا اس لیے زیادتی ہے کہ دونوں حالتوں میںانڈے کے کئی طبی اور غذائی فوائد پائے جاتے ہیں۔

پچھلے دنوں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مختلف علاقوں سے سات لاکھ انڈے جمع کیے اور انھیں تلف کردیا لیکن یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے بعد پورا صوبہ گندے انڈوں سے پاک ہوگیا۔ یہ آپریشن شہری علاقوں تک محدود تھا اگر دیہی علاقوں میں بھی آپریشن کیا جاتا تو تعداد مزیدکئی لاکھ تک پہنچ جاتی۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ دیسی اور ولایتی یعنی فارمی مرغیوں سے ہوتی ہوئی انڈوں اور چوزوں کی تجارت تک جا پہنچتی ہے۔ ہمارے ملک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نئی صنعتیں اورکارخانے لگانے کے بجائے بنی بنائی فیکٹریوں کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان کی چمنی سے نکلنے والے دھوئیں سے ایسی عمارتوں کونقصان نہ پہنچے جن کا تعلق ہماری تاریخ و ثقافت سے ہے۔ صرف یہی نہیں ان میں سے بہت ساری عمارتوں کے اندرونی حصوں کو سیاحوں کی نظر بد سے بچانے کے لیے سخت پہرہ بھی لگایا جاتا ہے۔ تاریخی قلعے اور عمارتیں دیکھنے کے ایک خواہش مند نے جب شیخ صاحب سے اٹک کا قلعہ دیکھنے کی فرمائش کی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ خواہش تب پوری ہو سکتی جب آپ حکومت پر شب خون مارنے کے بجائے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچیں یا آپ پر’’ لیلیٰ مجنوں‘‘ اور’’حاتم طائی‘‘ جیسے مشہور زمانہ قصے لکھنے اور سننے کے بجائے ملکی صورت حال پر کالم ، نظمیں اورافسانے لکھنے کا الزام ہو۔

جلسے جلوسوں اور دھرنوں کے درمیان مخالفین پرگندے انڈے برسانا ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے، مگر اس ثقافت کو اس وقت سخت دھچکہ لگا جب وزیر اعظم عمران خان کو یہ احساس ہوا کہ دھرنوں اور جلوسوں سے ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ انھوں نے مستقبل میں ہونے والے دھرنوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا جسے پذیرائی بھی نصیب ہوئی۔ شیخ صاحب کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے یہ بات پچھلی حکومت کے دور میں ہونے والے طویل دھرنوں کے دوران اس لیے نہیں کی کہ وہ پرانے پاکستان کا زمانا تھا اور معیشت بھی خوب پھل پھول رہی تھی مگر اب نیا پاکستان وجود میں آچکا ہے جسے ادھار لے کر رنگ و روغن کیا جا رہا ہے۔ تجاوزات ختم کی جا رہی ہیں،گلیاں کھلی کی جا رہی ہیں، فٹ پاتھوں سے ٹھیلے ہٹا کر انھیں چوڑا کیا جا رہا ہے تاکہ آپریشن کے دوران بے گھر اور بے روزگار افراد ان پر آسانی سے رات بسر کر سکیں۔

کچھ عاقبت نا اندیش سرکاری غیظ و غضب کی پرواہ کیے بغیر انڈے اور مرغی کو ملک کی معاشی صورتحال سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر جس طرح اول فول بک رہے ہیں وہ انھیں مستقبل میں ملک دشمن عناصر کی صف میں نہ سہی حکومت دشمنوں کی صف میں ضرور کھڑا کرسکتا ہے ۔ بہت ساروں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ اس حرکت کی گنجائش پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے جتنی چابک دستی سے ختم کی گئی ہے بالکل اسی طرح سوشل میڈیا کو بھی اس سے پاک کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔

شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان کے فرمان کے عین مطابق ہمیں پاکستان میں بنی اشیا ء خریدنا چاہیے۔ لیکن بازار میں ایسی کوئی چیزنظر نہیںآتی جسے خرید کر وطن سے محبت کا اظہار کیا جا سکے۔ نہ موبائل فون ، نہ گاڑی ، نہ ٹرک، نہ چنگ چی اور نہ ہی دوا دارو ، تیل کنگھی اور سوئی دھاگہ ۔ سب کچھ موجودہوتا تو صدرر محترم کو دیار غیر میں بنا فون پکڑے غیر ملکی کارخانے میں تیار ہونے والی کار میں بیٹھ کر باہر سے منگوائے گئے مائیکرو فون کے سامنے ایسا بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں اگر ہم الیکٹرونک اور ٹرانسپورٹ سے جڑی اشیا ء میں خود کفیل نہیں تو نہ سہی انڈوں اور مرغیوں کے بل بوتے پر تو غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرسکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انھیں گندا ہونے سے کیسے بچایا جائے ؟

جس طرح ملک میں صنعتکاری کا شعبہ تباہ ہوا بالکل اسی طرح دیسی مرغیوں کی نسل کو بھی نقصان پہنچا۔ ہمارے ہاں اب فارم کی مرغیاں ہی دستیاب ہیں مگر ان میں اتنا حوصلہ نہیں کہ تیئس دن تک انڈوں پر بیٹھ کر اپنا وقت ضایع کریں جسے دیکھتے ہوئے مرغیوں کے کاروبار سے وابستہ کچھ افراد ولایتی مرغیوں کے پروں پر رنگ لگا کر بازار میں لے آئے ہیں جو گھر لے جانے کے بعد نخرے تو دیسی مرغیوں سے بھی زیادہ کرتی ہیں، مگر انڈے دینے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ مستقبل میں اس شعبے کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک الگ وزارت یعنی ’’ وزارت ککڑیاں‘‘ کی بھی اشد ضرورت ہے جو جعلی مرغیاں فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارورائی کرسکے۔

یاد رہے کہ مرغیوں کا کاروبار صرف ایک شعبے تک محدود نہیں ۔انڈے ، چوزے اورگوشت کا کاروبار تواپنی جگہ مگر مرغیاں بیمار بھی ہوتی ہیں جنھیں تلف کرنے کے بجائے ہوٹلوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اب ایسا نہیں ہوگا بلکہ مرغیوںکے علاج معالجے کے لیے نوجوانوں کو ٹیکے لگانے کا ہنر بھی سکھایا جائے گا جس سے بے روزگاری میں مزید کمی آئے گی۔

کہا جارہا ہے کہ بل گیٹس نے افریقہ سے غربت کو ختم کرنے کے لیے ایک لاکھ مرغیاں تقسیم کی تھیں۔ مرغیاں تو ختم ہو گئیں ، مگر غربت اسی طرح محو رقص رہی، اگر بل گیٹس ایک لاکھ مرغیوں کے بجائے دس ہزار کمپیوٹر عطیہ کردیتے تو شاید حالات مختلف ہوتے اس لیے کہ ان کا تعلق مرغ بانی سے نہیں بلکہ مائیکرو سافٹ کی دنیا سے ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔