کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر قبضہ برقرار، نو آبادکار منصوبہ بھی نہ بنا

سید اشرف علی  جمعـء 7 دسمبر 2018
 کراچی سرکلر ریلوے کا ٹریک 43.2کلومیٹر پر محیط ہے جس میں پاکستان ریلوے کی مین لائن اور سرکلر ریلوے کا ٹریک، پلیٹ فارم اور 24اسٹیشن شامل ہیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی سرکلر ریلوے کا ٹریک 43.2کلومیٹر پر محیط ہے جس میں پاکستان ریلوے کی مین لائن اور سرکلر ریلوے کا ٹریک، پلیٹ فارم اور 24اسٹیشن شامل ہیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی: سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود پاکستان ریلوے اور کراچی انتظامیہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

پاکستان ریلوے کے حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان ریلوے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں کراچی انتظامیہ کی جانب سے نقص امن کے پیش نظر سیکورٹی فراہم کرنی ہے جو ابھی تک نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ آپریشن التوا کا شکار ہے تاہم انھوں نے کہا کہ کمشنر کراچی سے بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ 10 دسمبر سے یہ آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ اور شہری انتظامیہ کے متعلقہ افسران کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی اراضی سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے 2سال سے کوششیں کی جاری ہیں تاہم متاثرین کے لیے نوآبادکار منصوبہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام مہم رائیگاں ثابت ہوئی ہیں۔

جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کی سروے رپورٹ 2013کے مطابق سرکلر ریلوے کے احیاکے لیے 4.653 خاندان متاثر ہوں گے، جن کی نوآبادکاری کیلیے سندھ حکومت نے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جس کی وجہ سے شہری انتظامیہ رہائشی گھروں کو منہدم کرنے سے ہچکچا رہی ہے، شہری انتظامیہ کو اندیشہ ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی رہائشی اراضی پر اگر انہدامی کارروائی کی گئی تو عوام کی جانب سے بڑا سخت ردعمل آئے گا۔

واضح رہے کہ فروری 2017 میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی زیر نگرانی الٰہ دین پارک اور سفاری پارک کے پاس کراچی سرکلر ریلوے کی اراضی خالی کرانے کے لیے جب آپریشن کیا گیا تو وہاں کے رہائشیوں نے پرتشدد احتجاج کیا جس کی وجہ سے یہ آپریشن ناکام ہوگیا،دیگر اضلاع میں بھی انسداد تجاوزات مہم میں جزوی کامیابی ہوئی اور بعدازاں یہ مہم سیاسی دباؤ کے باعث روک دی گئی۔

کراچی سرکلرریلوے 43.2کلومیٹر پر محیط ہے جس میں پاکستان ریلوے کی مین لائن اور سرکلر ریلوے کا ٹریک، پلیٹ فارم اور 24اسٹیشن شامل ہیں، ان کے اطراف تجاوزات کی بھرمار ہے، چیف سیکریٹری سندھ نے اپریل 2018ء میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے متاثرین کی ری سیٹلمنٹ کیلئے ایک نگراں کمیٹی اور ایک ٹاسک فورس قائم کردی گئی تھی،ٹاسک فورس کے سربراہ کمشنر کراچی ہیں جبکہ نگراں کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات ہیں۔ ان دونوں کمیٹیوں کا سات ماہ کے دوران صرف ایک ہی اجلاس منعقد ہوا جو بے نتیجہ ثابت ہوا۔

متعلقہ افسران کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے وفاق وسندھ حکومت کی عدم دلچسپی اور سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا ہے ،یہ منصوبہ 13سال سے تاخیر کا شکار ہے، وفاقی حکومت نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے 2005ء میں کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے یو ٹی سی ) قائم کی، اس ادارے نے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی(جائیکا) کے مالی تعاون سے منصوبے کی فزیبیلیٹی کیلیے کام شروع کیا ، 2013ء تک جائیکا نے اپنے فنڈز سے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور متاثرین کی نوآبادکاری کیلیے فزیبیلٹی مکمل کی۔

اس موقع پر جاپان حکومت نے آسان شرائط پر قرضہ دینے پر رضامندی کا اظہار بھی کیا جس میں سرکلر ریلوے کے احیاء اور متاثرین کی ری سیٹلمنٹ منصوبے شامل تھے،جائیکا کا اصرار تھا کہ سرکلرے ریلوے کے متاثرین کی نوآبادکاری کا منصوبہ جائیکا کی زیر نگرانی بین الاقوامی بنیادوں اور انسانی اصولوں پر کیا جائے گا تاکہ متاثرین کو ایک بہتر معیار زندگی فراہم کیا جائے لیکن سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ نوآبادکار منصوبہ سندھ حکومت کی زیر نگرانی ہوگا البتہ فنڈز جائیکا کو فراہم کرنے ہوں گے،سندھ حکومت نوآبادکار منصوبے کے ذریعے اپنی روایت کے مطابق بے قاعدگی اور کرپشن کے چکر میں تھی جس کا بلاآخر نقصان متاثرین کو ہونا تھا جس کی وجہ سے جائیکا نے سندھ حکومت کی یہ تجویز رد کردی۔

بعدازاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی درخواست پر 2016ء میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے چینی حکومت سے بات چیت کرکے KCRمنصوبے کو سی پیک سے منسلک کردیا اور یہ منصوبہ سندھ حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس ضمن میں کئی اجلاس اسوقت کے وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق اور وزیراعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام میں ہوئے لیکن اصل معاملہ جوں کا توں ہی رہا یعنی وفاقی حکومت نے نہ تو سرکلر ریلوے کی اراضی اور نہ ہی کراچی اربن ٹرانسپورٹ کارپوریشن سندھ حکومت کے حوالے کیا،علاوہ ازیں چین و پاکستان حکومت کا حتمی معاہدہ بھی طے نہیں پایا جاسکا ۔

واضح رہے کہ جنوری 2018 میں سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس کراچی میں وزارت ریلوے کے اعلیٰ حکام سے ہوا جس میں کراچی سرکلر ریلوے کی اراضی سے تجاوزات کے خاتمے ، متاثرین کی نوآبادکاری اور زمین کی اراضی پر جنگلوں کی تنصیب اور دیگر امور طے پائے گئے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وزارت ریلوے کراچی سرکلر ریلوے کی اراضی سندھ حکومت کے حوالے کریگی اور سندھ حکومت اس کے عوض اتنی ہی مالیت کی اراضی ریلوے کو سندھ میں کسی دوسرے مقام پر الاٹ کریگی، فیصلوں پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔