سانحہ صفورا کو 4 سال ہوگئے ملزمان کو پھانسی نہیں ہوئی، ڈی آئی جی ایسٹ

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 7 دسمبر 2018
چیف جسٹس کراچی میں بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی پر نظر ثانی کریں، چیئرمین آباد، تقریب سے خطاب۔ فوٹو : آن لائن

چیف جسٹس کراچی میں بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی پر نظر ثانی کریں، چیئرمین آباد، تقریب سے خطاب۔ فوٹو : آن لائن

 کراچی:  ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی نے کہا ہے کہ ماتحت عدالتوں میں پروسیڈنگ سسٹم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، سانحہ صفورا کو چار سال ہوگئے تاہم ملزمان کو پھانسی نہیں ہوئی۔

آباد ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عامر فاروقی نے کہا کہ متعلقہ سرکاری محکموں کی دستاویزات اراضی پر قبضے کے تنازعات کا باعث ہیں۔ اگر متعلقہ محکمے شہر کی تمام اراضی کا نظام کمپیوٹرائز کرلیں تو لینڈ گریبنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ سرکاری محکموں کے جانب سے ایک ہی پلاٹ کے مالکانہ حقوق کی دستاویزات فراہم کرنے سے لینڈ مافیا کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

ڈی آئی جی ایسٹ نے آباد سے استدعا کی کہ سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر زمینوں کے ریکارڈ کمپیٹرائز کرانے میں اپنا کردار ادا کریں جس سے قبضہ مافیا کو لگام دی جاسکے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہاکہ کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی سے تعمیراتی شعبہ بحران کاشکار ہے،600 تعمیراتی منصوبے رکے ہوئے ہیں جس سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری رک گئی جس کے نتیجے میں 5 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار سے استدعا ہے کہ ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے بلند عمارتوں کی تعمیر پر عائد پابندی پر نظر ثانی کریں۔

لا اینڈ آرڈر کمیٹی کے کنوینر آصف سم سم نے کہا کہ 2014 سے قبل کا وقت کراچی کے بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے سخت دور تھا لیکن اس وقت بھی پولیس نے آباد ممبران کو تحفظ دینے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

آخر میں آباد کے وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیا نے ڈی آئی جی ایسٹ اور تمام پولیس افسران کی جانب سے آباد سے اظہار یکجہتی کرنے پر تشکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کراچی میں امن قائم کرنے پر سندھ پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔