جعلی ڈگری کیس؛ پی آئی اے اورسول ایوی ایشن کے سربراہان طلب

ویب ڈیسک  جمعـء 7 دسمبر 2018
جعلی ڈگری والے پائلٹس کے لائسنس معطل کر دیئے ہیں، سول ایوی ایشن حکام

جعلی ڈگری والے پائلٹس کے لائسنس معطل کر دیئے ہیں، سول ایوی ایشن حکام

 اسلام آباد: جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے سربراہان کوطلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں پائلٹس اور ائیرلائن عملے کی جعلی ڈگریوں کے کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران پی آئی اے نے جعلی ڈگریوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی آئی اے میں 498 پائلٹس ہیں، 12 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں، جعلی ڈگری ہولڈرزکے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی جارہی ہے، 1864 کریوممبران میں سے 73 کی ڈگری جعلی نکلیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پی آئی اے اورسول ایوی ایشن نے جعلی ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں کئے، ایک سال پہلے عدالت نے نوٹس لیا تھا، جس پراٹارنی جنرل نے کہا کہ 146 کریوممبران کی ڈگریاں تصدیق کے مرحلے میں ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈگری جعلی ہے تو انکوائری کس بات کی۔

سول ایوی ایشن حکام کا کہنا تھا کہ پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے، جعلی ڈگری والے پائلٹس کے لائسنس معطل کر دیئے ہیں جب کہ  پی آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ جن کے خلاف کارروائی کریں وہ حکم امنتاعی لے لیتے ہیں، اب حکم امتناعی کے حوالے سے جائزہ لیں گے۔

سپریم کورٹ نے پی آئی اے اورسول ایوی ایشن کے سربراہان اور جعلی ڈگری ہولڈرز کا تمام ریکارڈ بھی ماتحت عدالتوں سے طلب کر لیا جب کہ ڈگریوں کی تصدیق نہ کرنے والی یونیورسٹیوں کے سربراہان بھی طلب کرلیے گئے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔