بچوں کے مسائل آپ کی سوچ سے زیادہ سنگین ہیں

ثنا اکبر  جمعـء 7 دسمبر 2018
ہمارے جاگیردار نہیں چاہتے کہ رعایا تعلیم حاصل کرے؛ کیونکہ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوگئی تو انہیں بھاری نقصان ہوگا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہمارے جاگیردار نہیں چاہتے کہ رعایا تعلیم حاصل کرے؛ کیونکہ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوگئی تو انہیں بھاری نقصان ہوگا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ دنوں ’’میں اپنے بچوں کو کھانا کھلاؤں یا تعلیم دلاؤں‘‘ کے عنوان سے انسانی حقوق کی تنظیم ’’ہیومین رائٹس واچ‘‘ نے 111 صفحات پر مشتمل تحقیقی رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ پاکستانی بچیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں کمی پر ایسی مایوس کن صورتحال کی تصویر کشی کررہی ہے جس کا ہر پہلو اصلاح طلب ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں جن میں بڑی تعداد بچیوں کی ہے۔ پرائمری اسکول جانے والی عمر کی 32 فیصد بچیاں اسکول سے باہر ہیں اور نویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے طالبات کی تعداد 13 فیصد رہ جاتی ہے۔

اسکول نہ جا نے کی کئی وجوہ میں نمایاں ترین اسکولوں کی تعداد میں کمی، مہنگی تعلیم، سرکاری اسکولوں میں فرنیچر، بجلی، پانی اور اساتذہ کی کمی یا غیر تربیت یافتہ اساتذہ کی بھرتی، طلباء پر تشدد، زبان کا مسئلہ، بچیوں کے ساتھ جنسی تفریق اور غربت قابل ذکر ہیں۔

حکومتی تخمینے کے مطابق 29.5 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ بڑھتی غربت و مہنگائی کے باعث جہاں گداگری میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں غریب خاندانوں میں ایک طرف بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرکے انہیں گھریلو کام کاج پر مامور کیا جاتا ہے تو دوسری جا نب حصول تعلیم کے شوقین بچے کھیتوں اور فیکٹریوں میں محنت کرنے پر مجبور ہیں۔

فیکٹریوں کے غیر محفوظ ماحول میں انہیں نہ صرف جنسی تشدد کا نشانہ بننےکا خدشہ لاحق ہوتا ہے بلکہ انتہائی کٹھن حالات میں روزانہ دس دس گھنٹے سے زائد کام بھی کرنا پڑتا ہے؛ اور اگر ان کا واسطہ کیمیائی مادوں سے پڑتا ہے تو طبّی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گرمیوں کی تپتی دھوپ، سردیوں کی ٹھٹھرتی صبحوں اور بعض اوقات راتوں میں کھیتوں کو سیراب کرنے کا کام کرنے والے بچے فصلوں پر چھڑکی جا نے والی زہریلی دواؤں کے باعث جلد ہی متعدد بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ خوشحال گھرانوں میں کام کرنے والے غریب بچے اور بچیاں غذائی قلت کا شکار ہیں۔ کام کے نظام الاوقات مقرر نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوں کو اوسطاً 9 گھنٹے سونے کو ملتے ہیں جبکہ 7 سال سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو یومیہ کم از کم 9 سے 12 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہ بچے برائے نام معاوضوں پر طویل گھنٹوں تک روزانہ کام کرتے ہیں؛ اور اگر انہیں معاوضہ ملتا بھی ہے تو ان کے والدین یا وارث آکر لے جاتے ہیں۔

جن حالات میں یہ بچے کام کرتے، جس طرح کے استحصال سے گزرتے اور جیسے لوگوں کا سامنا کرتے ہیں، وہ سب کچھ ان کی شخصیت اور رویوں کی مثبت انداز میں تعمیر کے بجائے منفی طور پر تخریب کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لیے یہ بچے بالخصوص توجہ کے طالب ہیں کیونکہ آگے چل کر یہی رویّے اور مزاج، معاشرے میں ان کے کردار کی صورت میں اچھے برے نتائج کا ذریعہ بنتے ہیں۔

ایسے خوش قسمت بچے جنہیں اسکول جانے کا موقع مل جاتا ہے، وہ اساتذہ کی جانب سے زیادتیوں کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ رٹا اور نقل کا رواج عام ہونے کی وجہ سے پروفیشنلز کا فقدان ہے۔ سیاسی یا سفارشی وابستگی کی بنیاد پر ایسے اساتذہ کا تقرر جن کی مصروفیات میں تعلیم و تدریس سرے سے شامل ہی نہیں، بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔

اس حقیقت کا ثبوت، اس بات سے بہ آسانی ملتا ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اردو یا انگریزی میں درخواست لکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسی پسماندگی جرائم اور کرپشن کو فروغ دیتی ہے۔

ایوانِ صنعت و تجا رت کے قائم مقام صدر جاوید اقبال چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کام کر نے کےلیے جدید ٹیکنالوجی کی تربیت سے آراستہ، ہنرمند افرادی قوت موجود نہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ گزشتہ 70 برس کے دوران ہمارے حکمرانوں نے شعبۂ تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی اور نہ ہی شہریوں کو ہنرمند بنایا؛ کیونکہ ہماری اشرافیہ کو تعلیم یافتہ اورٹیکنالوجی سے آراستہ افراد کی ضرورت نہیں۔

اس کے برعکس ہمارے قبائلی سردار اور جاگیردار یہ نہیں چاہتے کہ ان کی رعایا تعلیم حاصل کرے؛ کیونکہ اگر یہ تعلیم یافتہ ہوگئی تو اس سے انہیں بھاری نقصان ہوگا۔ پاکستان کے مقابلے میں کئی عشروں بعد آزاد ہونے والے ممالک میں خواندگی کی شرح پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔ اس ضمن میں سنگاپور اور چین بہترین مثالیں ہیں۔ 1965 میں جب سنگاپور نے ملائیشیا سے آزادی حا صل کی تو ایشیا کا غریب ترین ملک تھا۔ آج اس کے تعلیمی نظام کو ستائش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

اس کے طالب علم ’’آرگنائزیشن فار اکنامکس اینڈ ڈیویلپمنٹ‘‘ کے تحت ہونے والے امتحانات میں اعلی درجہ لیتے ہیں۔ اسی طرح چین، جسے بیسویں صدی کے نصف اوّل تک ساری دنیا ’’افیمچی قوم‘‘ کے نام سے جانتی تھی، آج دنیا کی سپر پاور میں شمار ہوتا ہے۔

اس بات کا اندازہ فی الفور تو نہیں لگایا جاسکتا کہ تعلیمی حوالے سے ناانصافی اور محرومی کے شکار کئی ملین بچوں کو ان کے جائز حقوق ملنے میں ابھی مزید کتنے برس لگیں گے، مگر قلیل وقت میں تعلیمی اداروں کو لائق اسا تذہ فراہم کرنے، اداروں کی ضروریات پوری کرنے، سستی تعلیم فراہم کرنے اور غربت میں کمی کی حتی المقدور کوشش تو کی جاسکتی ہے، کیونکہ لائق اساتذہ کی وجہ سے بچوں کی بنیاد مضبوط کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی سرمائے (ہیومن کیپیٹل) کو برباد ہونے سے بچانے کےلیے تکنیکی تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ انہیں صنف اور طبقے سے قطع نظر، ان کی صلاحیتوں کے مطابق، تعلیم و ہنر سے آراستہ و پیراستہ ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں؛ کیونکہ جب قوموں کے پڑھے لکھے، باشعور لوگ نوکری کے ہاتھوں سمجھوتہ کرلیں تو ملک سے انصاف ختم ہوجاتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ثنا اکبر

ثنا اکبر

بلاگر نے بین الاقوامی تعلقات میں جامعہ کراچی سے ماسٹرز کیا ہوا ہے اور آج کل یو بی ایل میں فنڈ مینیجر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اردو ادب، فن خطابت اور ٖصحافت سے گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔