نارنجی کا رس خون کا بہاؤ بڑھانے اور یادداشت میں مفید

ویب ڈیسک  ہفتہ 8 دسمبر 2018
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق نارنجی کا رس دماغی صلاحیت بڑھاتا ہے (فوٹو: فائل)

ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق نارنجی کا رس دماغی صلاحیت بڑھاتا ہے (فوٹو: فائل)

ہارورڈ: موسمِ سرما میں نارنجیاں ہر جگہ عام ملتی ہیں اور لوگ اس پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس لذیذ پھل کے دو اہم فوائد سامنے آئے ہیں جو اس کی اہمیت مزید بڑھاتے ہیں۔ اول وہ افراد جن کے ہاتھ پاؤں سن رہتے ہیں وہ ایک ماہ تک نارنجی کا رس پئیں تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہتی ہے اور دوم اس کا جوس ڈیمنشیا سمیت کئی امراض کو لاحق ہونے سے روکتا ہے۔

ماہرین نے مسلسل 20 سال تک 28 ہزار افراد کا جائزہ لیا جس میں پھل اور سبزیوں کے دماغی قوت اور صحت سے تعلق کی تصدیق کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کوئی مرد روزانہ اورنج جوس کے ایک چھوٹے گلاس پینے کو معمول بنالے تو اس سے حافظہ متاثر ہونے کا خدشہ 47 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

یادداشت میں رکاوٹ، سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں مشکلات اور دیگر کیفیات دماغی عارضے کی وجہ ہوسکتی ہیں جو آخر کار جان کا خطرہ بن جانے والے ڈیمنشیا بیماری کو بھی جنم دیتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں کروڑوں افراد اس مرض کے شکار ہیں۔ ڈیمنشیا کو یادداشت چرانے والا مرض بھی کہا جاتا ہے جس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔

اس تحقیق سے وابستہ مرکزی سائنس داں چانگ زینگ یوآن کہتے ہیں کہ نارنجی اور کینو کا رس، پھل اور سبزیوں کو طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو دماغ پر اس کے بہترین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے دو دہائیوں تک شرکا سے سوال نامے بھروائے اور یہ کام ہارورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے انجام دیا گیا۔

سروے کی ابتدا میں شرکا کی اوسط عمر 20 سال تھی اور انہیں پانچ گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں بعض گروپ میں شرکا کو روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقدار میں نارنجی کا جوس، پھل اور سبزیاں کھانے کی تلقین کی گئی۔ ماہرین کے مطابق پھل اور سبزیوں کی بجائے جن افراد نے روزانہ کی بنیاد پر جوس استعمال کیا ان کی یادداشت بہتر دیکھی گئی اور انہوں نے مختلف ٹیسٹ میں دوسروں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ نارنجی کا رس دماغی زوال اور یادداشت میں کمی کو روکنے میں بہت معاون ثابت ہوسکتا ہے ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ نارنجیوں میں موجود مختلف فلیوینوئڈز خون کی روانی کو بڑھاتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔