عابد کا نام عابد الحق ہوتا تو کھیل جاتا

سلیم خالق  جمعـء 7 دسمبر 2018
کب تک ایسے ہی باصلاحیت کرکٹرز کے ساتھ  نا انصافیاں ہوتی رہیں گی . فوٹو : فائل

کب تک ایسے ہی باصلاحیت کرکٹرز کے ساتھ نا انصافیاں ہوتی رہیں گی . فوٹو : فائل

’’ تم انضمام کے خلاف لکھ کر اپنا وقت ہی ضائع کرتے ہو اسے کسی صحافی یا سوشل میڈیا پر تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ جو فیصلہ کرنا چاہے کر گذرتا ہے‘‘

کچھ عرصے قبل چیف سلیکٹر کی ایک خود ساختہ قریبی شخصیت نے مجھ سے یہ کہا تھا، بات سچ بھی ہے، انھوں نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت بھی کیا، وہ اپنے دور کپتانی میں بھی کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اب سلیکشن کے وقت بھی ایسا ہی کرتے ہیں البتہ اب انھیں سیاسی داؤ پیچ آ گئے ہیں، ٹیم جیتے تو انعام لینے کیلیے دوڑے دوڑے چلے جاتے ہیں، ہارے تو الزام کپتان اور کوچ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

کسی کھلاڑی کو مسلسل نظرانداز کریں تو میڈیا کے مخصوص حصے کی جانب سے کبھی کسی پر فکسنگ تو کسی کی فٹنس پر سوال اٹھا دیے جاتے ہیں تاکہ تنقید کا اثر زائل کیا جا سکے، سلیکشن کمیٹی میں انضمام الحق کے سوا صرف توصیف احمد کو ہی لوگ تھوڑا بہت جانتے ہیں، بیچارے وسیم حیدر اور وجاہت اﷲ واسطی تو بالکل ہی لوپروفائل ہیں، اب ایک بچہ بھی بتا سکتا ہے کہ ایسی سلیکشن کمیٹی بنانے کا مقصد ون مین شو تھا، یہ تینوں اتنی ہمت نہیں رکھتے کہ اپنے چیف کے سامنے آواز اٹھا سکیں لہذا وہ من مانی کرتے رہتے ہیں۔

باقی سلیکٹرز کو صرف ہر ماہ پی سی بی کی جانب سے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والی رقم سے ہی دلچسپی ہوتی ہے، اس رویے نے کئی باصلاحیت کرکٹرز کے کیریئر تباہ کردیے، اب اس میں نیا اضافہ سعد علی اور عابد علی کا ہو رہا ہے، عابد نے اے ٹیم کی جانب سے رنز کے ڈھیر لگائے تو قائد اعظم ٹرافی کے فائنل سے کئی روز قبل ہی وطن واپس بلا لیا گیا کہ مزید نمایاں نہ ہو جائیں، امام الحق نیوزی لینڈ سے سیریز میں بدترین ناکامی کا شکار ہوئے مگر جنوبی افریقہ سے سیریز کے اسکواڈ میں بھی شامل ہو گئے۔

عابد کا نام دور دور تک نہیں ہے، ان کا سر نیم الحق ہوتا تو شاید منتخب ہو جاتے، اس سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ بھتیجے کی محبت میں چیف سلیکٹر نے جان بوجھ کر نوجوان بیٹسمین کے کیریئر سے کھلواڑ کیا، ہوم سیریز میں بدترین شکست کے بعد بجائے غلطیوں سے سبق سیکھنے کے مزید غلط فیصلے کر دیے گئے، گزشتہ کچھ عرصے سے انضمام الحق کی قومی ٹیم کے ساتھ دلچسپی بھی کم ہوگئی ہے، وہ پی ایس ایل فرنچائز سے لاکھوں روپے لے کر کئی شہروں میں ’’ٹیلنٹ کی تلاش‘‘ کرتے رہے مگر پاکستان ٹیم کیلیے ان کی نظر اپنے گھر سے آگے نہ گئی۔

خوش قسمتی سے ٹیم چند میچز جیت گئی تو سلیکشن کمیٹی کریڈٹ لینے آگے آتی رہی اب سب غائب ہیں، نجم سیٹھی کی جگہ اب احسان مانی چیئرمین بن چکے، ایم ڈی وسیم خان کا بھی تقرر کردیا گیا، دیگر شعبوں میں بھی تبدیلیاں آنے والی ہیں تو سلیکشن کمیٹی میں بھی ایسا ہونا چاہیے، اب دیگر سابق کرکٹرز کو مواقع دیں، ارکان ایسے تو رکھیں تو چیف سے کسی بات پر بحث کرنے کی ہمت بھی رکھیں، اب جنوبی افریقہ کا مشکل دورہ سامنے ہے۔

کیویز سے سیریز میں کارکردگی کو ذہن میں رکھیں تو کامیابی کی امید کم ہی لگتی ہے، ہم یو اے ای کی اسپن وکٹوں پر یاسر شاہ کی تین میچز میں 29 وکٹوں کی کارکردگی کے باوجود نہ جیت سکے تو جنوبی افریقہ کی تیز پچز پر کیا ہوگا؟ حفیظ نے ریٹائرمنٹ کا بالکل درست فیصلہ کیا، ڈیل اسٹین ویسے ہی ان کے پیچھے پڑے رہتے تھے، دیگر پیسرز بھی ان کو مشکلات میں ڈالتے، دنیا بھر میں یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی کھلاڑی بہترین فارم میں ہو تو اسے موقع دیتے ہیں ہمارے ملک میں اس کے بالکل الٹ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عابد علی کو قائد اعظم ٹرافی فائنل کے نام پر وطن بھیجا گیا انھوں نے اس میں بھی سنچری بنا دی، اب تو کوئی جواز ہی باقی نہیں رہا تھا، کب تک ایسے ہی باصلاحیت کرکٹرز کے ساتھ  نا انصافیاں ہوتی رہیں گی، اس سیریز میں ناقص کارکردگی سے ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں، ٹیم اب ٹیسٹ رینکنگ میں پھر ساتویں نمبر پر آگئی، اس کی وجوہات تو جاننے کی کوشش کریں؟ یقیناً سرفراز احمد کی کپتانی اچھی نہیں رہی لیکن ان سمیت دیگر بیٹسمین کیوں یو اے ای کی پچز پر بڑا اسکور نہ کر سکے یہ بھی تو پتا کرنا چاہیے۔

سینئرز کی کارکردگی میں تسلسل کیوں نہیں تھا؟ ایک، ایک سنچری بنا کر کیوں بیٹ خاموش ہو گئے، یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے، دراصل مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہماری بیٹنگ میں اب پہلے جیسا دم خم نہیں رہا، اظہر اور اسد اسکور کر تو رہے ہیں مگر کارکردگی میں سابق عظیم بیٹسمینوں جیسا تسلسل نہیں، حقیقی آل راؤنڈرز کی بھی شدید قلت ہے، یاسر شاہ 40 وکٹیں بھی لے جائیں بیٹسمین جب تک رنز نہ بنائیں ہم کیسے جیتیں گے، پہلے تو دیار غیر میں بیٹنگ لائن ناکام ہوتی تھی اب تو یو اے ای کی پچز پر بھی نہیں کھیلا جا رہا، حد سے زیادہ دفاعی اپروچ سے بھی نقصان ہو رہا ہے۔

سرفراز کی کپتانی ٹیسٹ میں اچھی نہیں ہے مگر ہم نے کیا کسی متبادل قائد کو تیار کیا؟ اظہر علی کے ساتھ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اب شاید ہی دوبارہ کبھی کپتان بنیں، اسد شفیق غیراعلانیہ نائب کپتان تو ہیں مگر خود ان کی کارکردگی میں بھی تسلسل نظر نہیں آتا، بورڈ کو چاہیے کہ کرکٹ کمیٹی کو سب سے پہلا ٹاسک ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی میں زوال کے اسباب کا جائزہ لینے کا سونپے، اس سے سفارشات لیں پھر ان کی روشنی میں بہتری کے اقدامات کریں۔

سلیکشن کمیٹی میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے، آپ پی ایس ایل کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کھلائیں گے اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ٹاپ پرفارمرز چانس کے منتظر ہی رہیں گے تو جیت کا سوچنا فضول ہے، اگر کارکردگی کا معیار بلند کرنا ہے تو کئی بڑے فیصلے کرنے ہوں گے، دیکھتے ہیں مانی صاحب ایسا کرتے ہیں یا اب دورۂ جنوبی افریقہ میں کسی تباہی کا انتظار کریں گے، فیصلہ انہی کے ہاتھ میں ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔