وہ بات ای میل میں کہاں

زاہدہ حنا  منگل 2 جولائ 2013
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ایک وہ زمانہ تھا جب انسان قریبی بستی کو کسی نوعیت کا پیغام دینے کے لیے آگ جلا کر دھوئیں کا سہارا لیتا تھا، کبھی کبوتر پیغام رساں بنا اورکبھی بادشاہوں نے اپنے پیغامات کو پہنچانے کے لیے صبا رفتارگھوڑوں اور ان کو دوڑانے والے باکمال شہسواروں کا سہارا لیا۔ شیر شاہ سوری نے ڈاک کا شاندار نظام رائج کیا جس کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں۔

اگر دنیا کی مذہبی کتابوں کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں طوفان نوح کا ذکر ’’عہد نامۂ قدیم‘‘ میں ملتا ہے جس میں سیلاب عظیم کے اترنے کی خبر لانے کے لیے کشتیٔ نوح سے کبوتر اڑایا گیا تھا جو کئی دنوں بعد اپنی چونچ میں زیتون کی ایک سبز کونپل لے کر واپس آیا تھا ۔یہ اس بات کی نشانی تھی کہ پہاڑوں کی بلند ترین چوٹیوں سے سیلاب اتر گیا ہے اور ان پر زیتون کی سرسبز شاخیں لہرا رہی ہیں۔اسی طرح نامہ بری کی خدمات بادشاہ سلیمان کا بھیجا ہوا ہُد ہُد بھی انجام دیتا دکھائی ہے ۔ جہاں تک ہماری اساطیری کہانیوں ، داستانوں اور مثنویوں کا تعلق ہے تو اس میں بھی ہمیں کئی اصلی اور خیالی پرندے نامہ بری کرتے نظر آتے ہیں۔

زمانہ بدلا اور اس کے ساتھ ہی نامہ بری کے انداز بدلے گئے۔ ان میں تیز رفتار نامہ بری کا طریقہ ’’ٹیلی گرام‘‘ تھا جسے برصغیر والے ’’تار‘‘ کے نام سے جانتے تھے۔ اخباروں میں جب یہ خبر نظر سے گزری کہ ’تار‘ کا بستر بھی لپٹ رہا ہے تو دل کو دھکا لگا۔ وہ جو ہماری زندگیوں میں خوشی کی خبر دینے اور کسی عزیز رشتے دار کے جان سے گزر جانے کا صدمۂ جانکاہ ہم تک پہنچانے کے کام پر مامور تھا۔وہ جس کی ہیبت ہم سب پر طاری رہتی تھی، اس کو بھی ڈیڑھ صدی بعد موت آگئی۔ موت صرف انسانوں کو ہی نہیں، کائنات میں ہر ذی روح ، جمادات، نباتات ، حیوانات سب ہی کو آنی ہے۔

سیارے اور ستارے مررہے ہیں۔ پہاڑ اور دریا مررہے ہیں، ٹیلی گرام کی بھلا کیا مجال تھی کہ وہ ابد تک زندہ رہتا۔ ’’ٹیلی گرام‘‘ جسے ہم ’تار‘ کہتے تھے، وہ امریکا کے ایک موجد سیموئیل مورس کی ایجاد ہے۔ اس نے 1837 میں تار برقی کو اپنے نام سے پیٹنٹ کرایا اور 11جولائی 1838 کو ایک پیغام تار کے ذریعے 2 میل کے فاصلے پر بھیجا گیا۔ 24 مئی 1844 کو مورس نے واشنگٹن سے بالٹی مور ایک پیغام روانہ کیا جو قدیم انگریزی میں لکھا گیا تھا اور جس کا مفہوم تھا۔ ’’خدا نے ہم سے کیا کام کرایا‘‘۔اور اب مورس کی یہ ایجاد جس نے ڈیڑھ سو برس تک دنیا کے تمام بر اعظموں اور ان میں رہنے والوں کو جوڑ کر رکھاتھا، طاقِ نسیاں ہونے والی ہے۔

تارکا ذکر آئے تو ہم یہ بات کیسے بھول سکتے ہیں کہ اردو شاعری کے صاحبِ عالم مرزا اسد اللہ خاں غالب تار کو رائج کرنے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کے رطب اللسان تھے۔ انھوں نے سرسید کومشورہ دیا کہ وہ بھاپ کا انجن اور تار ایجادکرنے والے انگریزوں سے سبق لیں۔یہ انیسویں صدی کے نصف آخر کی بات تھی۔ اسی طرح جب ہماری خواتین نے ادب کے میدان کو اپنی جولاں گاہ بنایا تو بیسویں صدی کی ابتدا سے ہی کوئی قابل ذکر ناول ایسا نہ تھا جس میں تار کا اور تار لانے والے کا ذکر نہ ہو۔

اردو کی اولین خواتین ادیبوں میں سے یہاں میں صرف بیگم نذر سجاد حیدر کا ذکر کروں گی جن کے 7ناولوں کا مجموعہ ’’ہوائے چمن میں خیمۂ گل‘‘ ان کی مشہور ناول نگار بیٹی قرۃ العین حیدر نے مرتب کیا۔ اس مجموعے کا پہلا ناول ’اختر النسا بیگم‘ جو 1910میں لاہور سے چھپنے والے ’’تہذیب نسواں‘‘ کے صفحوں پر قسط وار شایع ہوا۔ اور 1935 میں شایع ہونے والے اس کے آخری ناول ’’مذہب عشق‘‘ میں جگہ جگہ تار کا ذکر ملتا ہے۔ کسی کا تار آرہا ہے۔ کسی کو تار دیا جارہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ’’تار‘‘ بھی ہماری زندگی کا ایک جیتا جاگتا کردار ہے۔

تار کا استعمال بہت نامور لوگوں نے کیا ہے اور بعض اہم ترین واقعات سے بھی تارکا تعلق رہا ہے۔ مشہور امریکی مصنف مارک ٹوائن کو جب معلوم ہوا کہ اس کی موت پر ایک تعزیت نامہ شایع ہوا ہے۔ تو اس نے لندن سے ایک ٹیلی گرام ارسال کیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’’میری موت سے متعلق خبریں بہت زیادہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔‘‘ مشہورومعروف ادیب آسکر وائلڈ کے نام سے کون واقف نہیں۔ آسکر وائلڈ نے تاریخ کا مختصر ترین تار اس وقت بھیجا جب اس کی نئی کتاب شایع ہوئی تھی۔

اس کتاب کو قارئین کی کس حد تک پذیرائی حاصل ہوئی ہے اس بارے میں جاننے کے لیے اس نے برطانیہ میں اپنے پبلشر کو تار بھیجا جس میں صرف ’’؟‘‘ سوالیہ علامت تحریر تھی۔ پبلشر نے بھی اس کے جواب میں مختصر ترین تار آسکر وائلڈ کو ارسال کیا جس میں استعجابی علامت ’’!‘‘ لکھی گئی تھی۔ رائٹ برادران نے 1903 میں ہوائی جہاز کی جو پہلی پرواز کی، اس کا اعلان بھی انھوں نے ٹیلی گرام کے ذریعے کیا۔اسی طرح ٹائی ٹینک جہاز کے ڈوبنے کا واقعہ ایک تاریخی حیثیت اختیار کرچکا ہے جس پر ہالی ووڈ میں ایک انتہائی پُر اثر فلم بھی بنائی گئی ہے۔15 اپریل 1912 کو ٹائی ٹینک سے جو آخری تار بھیجا گیا۔ اس میں لکھا تھا۔ “SOS SOS CQD CQD Titanic”

پہلی جنگ عظیم میں امریکا کی شمولیت کی وجہ ایک تار بنا۔ یہ تار برلن سے 17 جنوری 1917 کو میکسیکو بھیجا گیا تھا جسے امریکیوں نے پکڑ لیا ۔اس تار میں میکسیکو پر زور دیا گیا تھا کہ اسے جنگ میں جرمنی کا اتحادی بن جانا چاہیے۔ اس وقت امریکی صدر ولسن نے اس ٹیلی گرام کو عالمی جنگ میں امریکی شمولیت کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا ، ٹیلی گرام کے ذریعے پہلی مرتبہ جس مجرم کو سزا ملی اس کا نام ڈاکٹر کریپن تھا۔کریبین نے اپنی دوست کورا کے ساتھ مل کر اپنی بیوی کو قتل کیا اور محبوبہ کے ساتھ ایک چھوٹے بحری جہازکے ذریعے کینیڈا فرار ہوگیا۔

جہازکے کپتان نے اسے پہچان لیا ۔اس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو ایک ٹیلی گرام روانہ کیا، جہاں سے ایک پولیس افسر نے زیادہ تیز رفتار بحری جہاز کے ذریعے سست رفتار جہاز سے پہلے کینیڈا پہنچ کر کریپن کوگرفتارکرلیا۔ جسے 23 نومبر 1910 کو پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ تار دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا میں دہشت کی علامت بن گیا کیونکہ حکومت جنگ میں ہلاک ہونے والے سپاہیوں کے متعلقین کو یہ افسوسناک اطلاع بذریعہ تار دیا کرتی تھی۔ امریکا میں آخری ٹیلی گرام 12 جولائی 1999 کو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو بھیجاگیا۔ یہ95 الفاظ پر مشتمل تھا اور اس میں گلوب وائرلیس کمپنی نے ٹیلی گرام بھیجنے کی اپنی خدمات کے خاتمے کی خبر صدر امریکا کو دی تھی۔

برصغیر میں ٹیلی گرام کو متعارف کرانے کا سہرا ایسٹ انڈیا کمپنی کے سر ہے۔ برطانیہ میں اس نظام نے 1845میں کام شروع کیا۔ اس کے صرف 10 سال بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے کلکتہ اور ڈائمنڈ بند ر گاہ کے درمیان ٹیلی گرام بھیجنے کا تجربہ کیا۔ پہلا ٹیلی گرام ولیم بروک نے کلکتہ شہر سے ڈائمنڈ ہاربر روانہ کیا۔ اس کامیابی کے بعد صرف 3 سال کے اندر پورے ہندوستان میں 4000 میل تک کیبل ڈال دیے گئے اور ہندوستان کے تمام اہم شہر ایک دوسرے سے منسلک ہوگئے۔ صرف اتنے مختصر عرصے میں کولکتہ شہرکو پشاو،آگرہ، ممبئی اور مدراس سے جوڑ دیا گیا۔

ہندوستان میں جب تارکو عروج حاصل تھا تو اس ملک میں 45 ہزار تارگھر تھے۔ اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو کل تعداد سوا لاکھ تھی اور اب جب اس سروس کا خاتمہ ہورہا ہے تو اس میں ایک ہزار سے بھی کم لوگ کام کررہے ہیں۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں تار کا اہم کردار ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی کو ناکام بنانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے بھیجے جانے والے تار فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ ہندوستان میں آخری تار 14 جولائی کو روانہ کیا جائے گا اور 15 جولائی 2013سے اس سروس کا خاتمہ ہو جائے گا۔

تاریخ کے 150 سال سے زیادہ پرانے اس شاندار ورثے کے خاتمے پر ہندوستان کے تقریباً تمام حلقوں میں غم منایا جارہا ہے۔ اخبارات میں اداریئے شایع ہوئے جن میں اس منسکرالمزاج ڈاکیے کو یاد کیا گیا جو خاکی وردی پہنے اپنی سائیکل کی گھنٹی بجاتے ہوئے آتا تھا اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے یا گھنٹی بجاکر اپنی آمد کا اعلان کرتا تھا۔ اس کے لائے ہوئے تار میں خوشی اور غم سمیت ہر طرح کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ہندوستان ٹائمزنے اپنے اداریے میں لکھا کہ ’’بہت سے لوگوں کووہ فلمیں یاد ہیں جن میں ڈاکیا اپنے تھیلے سے تار نکالتا تھا اور تار وصول کرنے والا کانپتے ہاتھوں اور آنسو بھری آنکھوں سے تار کا لفافہ کھولتا تھا کیونکہ تار کا مطلب تھا۔ کوئی بہت اہم خبر۔ ‘‘ میں تو یہی کہوں گی کہ جو کیفیت اور بات تار میں تھی، وہ ای میل میں کہاں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔