ترجمان فوج کا اظہار خیال

ایڈیٹوریل  ہفتہ 8 دسمبر 2018
ترجمان فوج نے اہم بات یہ بھی کی کہ ہم نازک وقت سے اس مقام پرآگئے ہیں، جسے ’’واٹر شیڈ‘‘ کہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ترجمان فوج نے اہم بات یہ بھی کی کہ ہم نازک وقت سے اس مقام پرآگئے ہیں، جسے ’’واٹر شیڈ‘‘ کہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور نے کہا ہے افواج پاکستان پورے ملک کی ہیں، جس کی بھی حکومت ہوتی ہے، ادارے مل کرکام کرتے ہیں، افواج پاکستان نے مشورہ بھی دیا اورحکومت کے فیصلوں پر عمل بھی کیا، آج ہم ایسے مقام پرکھڑے ہیں جہاں سے آگے یا بہت اچھا وقت ہے یا بہت خطرناک، اگر میڈیاصرف 6 مہینے ملک کی اچھی اچھی چیزیں دکھائے پھر دیکھیں پاکستان کہاں پہنچتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کامیاب آپریشنزکے بعداستحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) وہ حد عبور نہ کرے جہاں ہمیں رٹ قائم کرنی پڑے ۔

ترجمان پاک فوج نے جمعرات کو راولپنڈی میں آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکیورٹی صورتحال سمیت میڈیا ، بھارت ، افغانستان ، بلوچستان، لاپتا افراد ،  فوج کی داخلی جواب دہی کے نظام اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے چشم کشا باتیں کی ہیں، یہ وہ بیان کردہ حقائق ہیں جوکسی سیاسی فورم سے نہیں کہے جا رہے ہیں بلکہ عسکری قیادت اور سیاسی و سماجی نظام کی وسیع تر ہم آہنگی کے عظیم تر اظہار اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ’’آؤٹ آف باکس‘‘ قوم کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔ اس لیے ملکی سالمیت، ملک کے چوتھے ستون کی ترجیحات اور ملک کے پر آشوب وغیر یقینی سیاسی ماضی کے سیاق وسباق میں بعض حلقوں کے لیے اس بیانیے میں غیر معمولی اور غیر متوقع زمینی حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ترجمان فوج نے وزیر اعظم عمران خان کے گزشتہ دنوں 6 اینکرزکو دیے گئے انٹرویو کے تناظر میں ایک بلیغ وضاحت بھی دی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دوران انٹرویوکہا تھا کہ پاک فوج تحریک انصاف کے منشورکے ساتھ کھڑی ہے،اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید صراحت کی کہ انھوں نے وزیر اعظم کے انٹرویوکو تین بار سنا لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی، انھوں نے استدعا کی کہ وزیر اعظم کے انٹرویوکو پورا سنا جائے تاکہ کوئی بدگمانی کا شائبہ نہ رہے۔

ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دنیا بھرکی طرح ہم بھی سیکیورٹی اسٹبلشمنٹ سے مشاورت کرتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی کے حوالے سے فیصلہ میں لیتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے پارٹی منشور میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے جو بات ہے پاک فوج اس کے ساتھ کھڑی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ میڈیا سے گفتگو میں دنیا بھرکی پارلیمان میں ہمیشہ سے یہ احتیاط ملحوظ رکھی جاتی ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے طرز بیاں میں صحت زبان کا خیال رکھیں، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ گفتگو میں بعض اوقات الفاظ کے بے محل چناؤ سے مقررکے نقطہ نظرکے ابلاغ میں کوئی سقم رہ جاتا ہے، لہذا وزیراعظم نے منشورکی بات بے ساختگی میں کہی اور زبان پر مکمل عبور نہ ہونے کے باعث جمہوریت کے بجائے منشورکے ساتھ کھڑے ہیں کہہ دیا جو سہواً اتنا بڑا گناہ نہیں ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہماری گرتی ہوئی معیشت سنبھل گئی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت لی ہے، اب ’’ استحکام پاکستان ‘‘ کا مرحلہ ہے، ترجمان فوج نے پشتون تحفظ موومنٹ کے معاملات پرکہا پی ٹی ایم کے ساتھ اب تک ہلکا ہاتھ رکھا ہے، اب فوج کی توجہ بلوچستان پر ہے،انھوں نے کہا فوج منظم ادارہ ہے جس میں احتساب کے عمل کوایک لیفٹننٹ جنرل دیکھ رہا ہے گزشتہ 2 سال میں 4 سو سے زائد فوجی افسران کو احتساب کے تحت ہی سزائیں دی گئیں۔

ترجمان فوج نے اہم بات یہ بھی کی کہ ہم نازک وقت سے اس مقام پرآگئے ہیں، جسے ’’واٹر شیڈ‘‘ کہتے ہیں، آج ہم اْس واٹر شیڈ پرکھڑے ہیں، جہاں سے آگے نازک وقت نہیں، یا بہت اچھا وقت ہے یا پھر نازک وقت سے بھی خراب وقت ہے۔ اس انتباہ میں بھی غفلت سے بیداری ، درستی عمل، اتحاد ، یقین اور تنظیم کی طرف صائب اشارہ ہے۔

اس یاد دہانی کا سلسلہ بھی ملکی سیاسی تاریخ کے پرآشوب دورانیوں سے جڑا ہوا ہے، میڈیا کو یہی اپیل متوجہ کرنے کے لیے ہے کہ ریٹنگ اور سیاسی وسماجی زندگی کے امید افزا پہلو زیادہ اسکرین اور پرنٹ میڈیا میں آنے چاہئیں تاکہ عوام کو مایوسی کی جگہ مستقبل سے پیوستہ رہنے اور امید بہار رکھنے کے قابل بنایا جائے، ملک کے کروڑوں محب وطن پاکستانیوں کی تخلیقی، علمی، ادبی، فکری اور پیداواری صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔

میڈیا کو تلقین کا تاثر درست نہیں اور 6ماہ کی مدت بھی بہ سلسلہ حوالہ ہے کوئی ڈیڈ لائن نہیں کیونکہ میڈیا کی دسترس میں ہے کہ اہل وطن کی زندگی کی سحر انگیز عکاسی کرکے قوم کو ڈھارس بندھائی جاسکتی ہے کہ آگے کھائی نہیں منزل کا صاف راستہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔