قانون نہیں، عدل کی حکمرانی چاہیے!

راؤ منظر حیات  ہفتہ 8 دسمبر 2018
raomanzar@hotmail.com

[email protected]

حنیف چپ چاپ میرے دفترمیں کھڑاتھا۔ میلے کچیلے کپڑے،سرپرمیلاساصافہ اورربڑکی ہوائی چپل پہن رکھی تھی۔بے ترتیب بال اورعجیب سی داڑھی تھی۔بغیربولے ہوئے معلوم ہوتاتھاکہ وہ نہ صرف غریب ہے بلکہ مفلسی کی چکی میں پِس رہاہے۔ چہرے پرگہری جھریاں موجود تھیں۔ لگتاتھاکہ زندگی کی مصیبت نے اس کے چہرے پرمتعدد مستقل نشان ڈال دیے ہیں۔اتنے گہرے نشان جن سے جسم تو کیا،روح تک زخمی نظرآتی تھی۔

انتہائی شائستگی سے کہا،کہ آپ بیٹھ جائیں۔حنیف فوراًفرش پربیٹھ گیا۔ دوبارہ کہاکہ دفترمیں رکھی کرسی پرتشریف رکھیں۔ حنیف کاجواب تھاکہ صاحب،مسکین آدمی ہوں۔ اس لائق نہیں کہ کرسی پر بیٹھنے کی ہمت کروں۔ اصرار کرنے پر انتہائی مشکل سے کرسی پربیٹھ گیا۔چندمنٹ کے لیے تکلیف دہ خاموشی سی ہوگئی۔

کیسے تشریف لائے۔حنیف چپ ہوگیا۔ دوبارہ پوچھنے پرکہا، پیرول افسرنے آپکے پاس بھیجا ہے۔لاہورکی جیل سے آپکے پاس آیاہوں۔سوال کیاکس جرم میں جیل گئے تھے۔ اتنی دیرمیں باریش پیرول افسربھی آگیا۔اسے دیکھ کرحنیف کرسی سے اُٹھ کردوبارہ زمین پربیٹھ گیا۔چہرے پرخوف طاری ہوگیا۔اس زمانے میں طالبعلم ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی سیکریٹری تھا۔پیرول کے تمام کیسز میرے ذریعے ہوم سیکریٹری کے پاس جاتے تھے۔حنیف گونگاسامحسوس ہورہا تھا۔

پیرول افسرنے کہاکہ حنیف کاجیل میں چال چلن بہت بہتررہاہے۔سزاختم ہونے میں ایک برس رہ چکاہے۔اسے پیرول پر رہائی ملنی چاہیے۔ میرا استفسارتھاکہ سزاکس جرم میں ہوئی تھی۔دہرے قتل میں، اس نے دشمنی میں اپنے گاؤں کے دوبندے قتل کردیے تھے۔ غورسے حنیف کے چہرے کودیکھا۔اس کے چہرے پرایک جاہلانہ سی معصومیت تھی۔پیرول افسرکی درخواست دوتین دن میں منظور ہوگئی۔ حنیف پیرول پرباہرآگیا۔جیل سے سیدھامیرے پاس آیا۔ دفترپہنچ کرپھرزمین پر بیٹھ گیا۔کہنے لگاکہ سر،میری بات ضرورسن لیجیے۔ مجھے صرف دس منٹ دے دیجیے۔یہ دس منٹ مجھے آج تک کسی سرکاری افسر، جیلر، جج یاانکے عملے  نے نہیں دیے۔لہجے میں صدیوں کاغم تھا۔

حنیف نے اپنی بات شروع کردی۔لودھراں کا رہنے والاہوں۔گاؤں میں موچی کاکام کرتا تھا۔ ایک دن دکان پراسی گاؤں کاایک نوجوان آیا۔کہنے لگاکہ اسکاجوتاخراب ہوگیاہے۔جوتامرمت کرنے کے لیے دوگھنٹے مانگ لیے۔ اتنی دیرمیں دکان سے اپنے گھرکسی ضروری کام سے جاناپڑا۔ گھر دکان کے ساتھ ہی تھا۔واپس آیاتونوجوان انتظارکررہا تھا۔ میں نے اسے مرمت شدہ جوتادیدیا۔بات ختم ہوگئی۔ چار دن کے بعدایک تھانیداراوردوسپاہی دکان پرآئے۔مجھے گرفتارکرلیاگیا۔بہت منت کی، پوچھتارہاکہ میراجرم کیا ہے؟ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔تھانے گیاتوپاؤںمیں بیڑیاں ڈال کر ایک غلیظ سی حوالات میں بندکردیاگیا۔رات گئے، حوالات سے نکالاگیا۔دوسپاہیوں نے زبردستی اُلٹا لٹکا دیااورڈنڈوں سے مارناشروع کردیا۔چیخیں مارتا رہا۔ روتا رہا۔ مگرکوئی بھی میری فریادپرکان دھرنے کوتیارنہیں تھا۔ بتایا گیا کہ میں نے دوقتل کیے ہیں۔

قتل اورمیں۔انکارپرمجھ پر بدترین تشدد ہوا۔ حوالدار کہنے لگاکہ گاؤں میں دوآدمی قتل کیے گئے ہیں اورانھیں ایک نوک دارآلے سے ماراگیاہے۔یہ بکسوا دکان پرجوتے مرمت کرنے کے استعمال میں آتاتھا۔ فریاد کی،کہ آلہ ضرورمیری دکان کاہے مگرقتل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔سمجھ سے باہرتھاکہ یہ تیزدھارآلہ جائے وقوعہ پر کیسے پہنچ گیا۔بیس دن حوالات میں مجھے جانور بنا دیا گیا۔ اس کے بعدملتان جیل بھیج دیاگیا۔دوچارماہ میں عدالت سے حکم نامہ آیا۔پیشی کے لیے بلایاگیا۔جج کو لاکھ کہاکہ قتل میں ملوث نہیں ہوں۔مگرپولیس نے میرے خلاف بڑامضبوط کیس بنایا تھا۔

جیل کی کوٹھری میں دس قیدی اوربھی تھے۔وہاں ہر وقت چرس اورشراب کا دورچلتارہتاتھا۔جیل کاعملہ رشوت لے کرکوٹھری میں ہرممنوعہ چیزمہیاکرتاتھا۔جسکے پاس پیسہ تھا،وہ گھرسے زیادہ آرام میں تھا۔میراکیس چلناشروع ہوگیا۔ جس دن شہادتیں ہوئیں تووہی نوجوان جوجوتاٹھیک کروانے دکان پرآیاتھا،میرے خلاف گواہی دینے آیاہواتھا۔ایک دم بجلی کی طرح سب کچھ سمجھ میں آگیا۔جب میں اپنے گھرکی طرف گیاتھاتواسی شخص نے دکان سے نوک دارسوا چرایا تھا اورپھرخاموشی سے واپس چلاگیاتھا۔قتل اس نے کیاتھا۔آلہ قتل کیونکہ میری دکان کاتھالہذامیرے اوپر جھوٹاکیس بنانے میں حددرجہ آسانی تھی۔روروکر جج صاحب کوساری بات سنائی۔پرمیرے پاس کوئی گواہ ،کوئی ثبوت نہیں تھا۔پولیس کا تفتیشی،مکمل طورپرقاتل کی جیب میں تھا۔ بے گناہ ہونے کے باوجودمجھے سزائے موت کاحکم سنادیا گیا۔ایک ایساجرم جومیں نے کیا ہی نہیں تھا،اس میں مجھے سخت ترین سزا ہوگئی۔

جیل جاکرحوالات سے پھانسی کے قیدیوں کی کوٹھری میں منتقل کردیاگیا۔دس فٹ لمبائی اورآٹھ فٹ چوڑائی کے عقوبت خانے میں بارہ قیدی تھے۔ تمام کے تمام اپنی اپنی پھانسی کاانتظارکررہے تھے۔ کمرہ اتناتنگ تھاکہ چھ آدمی رات کولیٹ کرسوتے تھے۔باقی چھ قیدی دیوارکے ساتھ سہارا لے کر کھڑے رہتے تھے یابیٹھ جاتے تھے۔دن میں پھروہ سو جاتے تھے اوردوسرے قیدی کھڑے رہتے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ میں ایک جانورہوں اورکسی گھٹیاتھان پربندھا ہوا ہوں۔ ہرلمحہ قیامت تھا اورقیامت بھی ہرلمحہ ظہورپذیرتھی۔سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی۔اعلیٰ عدالت میں چار برس کیس چلتا رہا۔ وکیل کے پیسے نہیں تھے۔گھروالوں نے مکان، ڈھورڈنگرسب کچھ بیچ ڈالا۔وکیل کی فیس، عدالت کے اہلکاروں کی رشوت،جیل میں عملہ کی مٹھی گرم کرتے کرتے، ہرچیزبک گئی۔

ایک دن بیوی ملنے آئی تو اس نے اچھے کپڑے پہن رکھے تھے۔ پوچھاکہ پیسے کہاں سے آئے کہ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس ہو۔میرے لیے پھل اور چند استعمال کی چیزیں بھی لائی۔عجیب سالگا۔ بتانے لگی کہ اس نے قرض لیاہے۔ یقین کرلیاکیونکہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اعلیٰ عدالتوں نے میری سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔ دس سال جیل میں سڑتارہا۔میں نے کسی سے بھی بات کرنا چھوڑ دی۔ خاموش رہنے لگا۔ایک دن گاؤں سے رشتہ دارآیا تواس نے بتایا کہ میری بیوی غلط راستے پرچل پڑی ہے۔ گھر میں مردآتے جاتے رہتے ہیں۔قیامت گزرگئی۔

سزائے موت کااتنا افسوس نہیں ہواتھاجتنایہ بات سنکراذیت پہنچی۔ خودکشی کرنے کی کوشش کی مگرکامیاب نہ ہوسکا۔ایک دن بتایا گیاکہ اب سزامیں صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے۔ میری مسلسل خاموشی کو تصور کیا گیاکہ میراچال چلن بہتر ہے۔ اب پیرول پر باہر آگیاہوں۔ایک سال بعدآزاد ہوجاؤنگا۔ ہاں، گاؤں گیاتھا۔میری بیوی نے نقل مکانی کرلی ہے۔ کہاں گئی ہے،کسی کوکچھ پتہ نہیں۔ایک ہی بیٹاتھا۔وہ حادثہ کا شکار ہوکر دنیاسے کوچ کرچکاتھا۔اب میرے پاس نہ کوئی ٹھکانہ ہے اورنہ جینے کی کوئی وجہ۔پیرول افسرنے کہاکہ تمہیں کسی سرکاری افسرکے گھرکام پررکھوادیتاہوں۔

تنخواہ بھی ملتی رہیگی اوردووقت کی روٹی بھی۔قصہ کوتاہ یہ کہ حنیف ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئرافسرکے گھرایک سال کام کرتا رہا۔ ایک برس کے بعدملنے آیا،توبے حدافسردہ تھا۔کہنے لگاکہ سر،مجھے جیل واپس بھجوادیں۔میں اس ناانصاف معاشرے میں زندہ نہیں رہ سکتا۔چندفقرے کہنے کے بعد،واپس چلا گیا۔اس کے بعد حنیف کوکبھی نہیں دیکھا۔وہ کہاں گیا،کہاں رہ رہاہے۔ کچھ بھی معلوم نہیں۔یہ تقریباًپندرہ برس پہلے کاسچاواقعہ ہے۔

حنیف کاخیال میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ چندماہ سے ٹی وی پرہرطرح کے سیاسی قائدین،ممتازقانون دان اور دانشور مسلسل ایک ہی جملہ مسلسل کہے جارہے ہیں۔ہرکوئی قانون کی حکمرانی کی بات کررہا ہے۔ بتایاجارہاہے کہ اگرملک میں قانون کی حکمرانی آگئی توسب کچھ ٹھیک ہوجائیگا۔ایک انقلاب برپا ہوجائیگا۔ جب بھی کسی قانونی گروکی یہ بات سنتاہوں،توحنیف ایک دم چھلانگ لگاکرمیرے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ قانون نے اسے بے گناہ ہونے کے باوجودسزائے موت دی۔پھر عمرقیدمیں بدل گئی۔اسکاخاندان بربادہوگیا۔

بیوی مجبوری میں ایک ایسے راستے پرگامزن ہوگئی جودنیاکے قدیم ترین پیشے کی طرف جاتاہے۔اس راستہ پرجانے کے لیے اس عورت کو کس نے مجبورکیا۔ہمارے موجودہ قانون کے علمبرداروں، رکھوالوں اورمحافظین کے عملی رویوں نے۔ حنیف کی زندگی برباد ہوگئی۔ ایک دہائی سے زائدکال کوٹھری میں رہا۔جانوروں جیسی زندگی گزارنے پرمجبورہوگیا۔یہ سب کچھ عین قانون کے مطابق ہوا۔دیکھاجائے توحنیف کے ساتھ کوئی غیرقانونی حرکت نہیں ہوئی۔

ایف آئی آر،موجودہ قانون کے تحت ہوئی۔پولیس نے تفتیش بھی اپنے مروجہ قواعدکے حساب سے کی۔عدالت کے منصفین نے بھی قانون کی موٹی موٹی کتابوں میں درج رولز اور قوانین کو مدِنظررکھتے ہوئے مکمل میرٹ پر سزا دی۔ جیل کی کال کوٹھری میں بھی حنیف کو ضابطے کے مطابق قیدرکھاگیا۔پیرول بھی مکمل طورپرمروجہ اُصول کے حساب سے تھی۔مگردل پرہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیاواقعی یہ سب کچھ ٹھیک ہوا۔کیا یہ سب کچھ ایک قانونی جبرنہیں تھا۔طالبعلم کی دانست میں قانون کے حساب سے سب کچھ ہوا،مگرانصاف نہیں ہوا۔

دراصل مرکزی نکتہ ہی انصاف ہے۔اگرسماج میں ادارے عدل کررہے ہیں۔لوگوں کوانکے جائز حقوق دلوارہے ہیں۔مسائل حل کررہے ہیں۔ جھوٹ کوجھوٹ اورسچ کوسچ مان رہے ہیں تو پھر ہرچیز ٹھیک ہے۔ہم تمام لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل جو ہر تو عدل ہے،قانون نہیں۔قانون کی حکمرانی توظلم کی بنیاد بن سکتی ہے۔حنیف جیسے لاکھوں آدمی قانون کی حکمرانی کے ذریعے ہی بربادہوئے ہیں۔ اس فقرے کو متروک کر دیناچاہیے۔ہمیں قطعاً قطعاً قانون کی حکمرانی نہیں چاہیے۔ہم تمام لوگ عدل کی حکمرانی کے طالب ہیں۔ ہمیںانصاف کی چھترچھایہ چاہیے۔باقی سب کچھ بیکارسے ادنیٰ نعرے ہیں۔ ان کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ قانون کی حکمرانی ایک فریب ہے۔ کوئی جواس کے خلاف نعرہ لگائے اور لوگوں کے لیے صرف اورصرف انصاف مانگے! مجھے اس نعرے کاانتظارہے!



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔