بھارت پتھر کے دور سے باہر نکلے

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 8 دسمبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے ماضی کی زنجیریں توڑنا ہوں گی۔ فرانس اور جرمنی جیسی ایک یونین پاکستان اور ہندوستان کیوں نہیں بناسکتے۔ ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کا سوچنا پاگل پن ہے۔

عمران خان نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کی بڑی گنجائش ہے ۔ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے بعد لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قتل سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان نفرتوں کی جو خلیج حائل ہوگئی تھی اگرچہ اسے بھرنے میں دونوں ملکوں کے ادیبوں اور شاعروں نے بہت کام کیا اور اگر ہندوستان کی سیاسی قیادت آنے والی نسلوں کا خیال کرتی تو مسئلہ کشمیر کب کا حل ہوچکا ہوتا اور آج پاکستان کے وزیر اعظم فرانس اور جرمنی کی جس یونین کا ذکر کر رہے ہیں اس قسم کی یونین کب کی بن چکی ہوتی اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا ایسا راستہ کھل چکا ہوتا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام سستی اشیا ضرورت حاصل کرنے کے قابل ہوتے ۔

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارتی قیادت کی غیر منطقی پالیسیوں نے نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام کو غیر معمولی سہولتوں کے حصول سے محروم کردیا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان موجود فاصلوں کو اور بڑھا دیا، بھارتی قیادت کی  سوچ اور ہٹ دھرمی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان سے مذاکرات کے لیے بھی تیار نہیں، ابھی کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقعے پر پاکستان کی طرف سے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی لیکن بھارت کے عوام دشمن حکمران طبقے نے اس بامعنی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ یہ ایسا جرم ہے جسے آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ مذاکرات سے انکارکی دو وجوہات ہوتی ہیں ایک احساس جرم دوسرے طاقت کا گھمنڈ۔ بھارتی قیادت 71 سال سے مذاکرات سے انکار کرکے ان جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔

سامراجی سازشوں نے دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد کمزور ملکوں کو دو دو حصوں میں تقسیم کرکے باپ کی جاگیر کی طرح بانٹ لیا لیکن جرمن قوم نے سامراجیوں کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے دیوار برلن کو ٹھوکروں سے گرا کر سامراجیوں کے منہ پر طمانچہ لگایا اور اب دونوں کوریاؤں کے درمیان فاصلے کم کیے جا رہے ہیں۔

جہاں جہاں برسر اقتدار طبقات نے اپنے مفادات کی خاطر عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش دیر ہی سے سہی کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس قسم کی توڑ تاڑ سرمایہ دارانہ نظام کے ہتھیار فروشوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن اب دنیا کے عوام ان طاقتوں کی سازشوں کو سمجھ رہے ہیں اور مستقبل میں ٹوٹے ہوئے دل اور ٹوٹے ہوئے ملک عوامی طاقت سے جڑ جائیں گے۔ کیونکہ تقسیم کے ہر حوالے غیر منطقی اور عوام دشمن ہیں اور آنے والا وقت دلوں اور ٹوٹے ہوئے ملکوں کو جوڑنے کا وقت ہے۔اس تقسیم کے عوام دشمن کاموں میں اشرافیہ نے ہمیشہ مذہبی طاقتوں کو استعمال کیا۔ بھارت کا حکمران طبقہ بھارت کو سیکولر ملک کہتا ہے لیکن اب یہ سیکولر ملک آہستہ آہستہ کٹر مذہبی ملک میں بدلتا جا رہا ہے لیکن یہ بڑی خوشی کی اور حوصلہ افزاء بات ہے کہ بھارت کے عوام اپنی عملی زندگی میں تیزی سے سیکولر معاشرے میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

بھارت نے کرتار پور کی تقریب کے موقعے پر مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے دنیا پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ تنگ نظر بھی ہے اور طاقت پر انحصار کرنے والا بھی ہیں ۔ سکھوں کی عبادت گاہ ننکانہ صاحب تک پہنچنے کے لیے سکھوں کو جو طویل سفر کرنا پڑتا تھا وہ عمران حکومت کی لبرل پالیسی سے اب سمٹ گیا ہے۔ سکھ ایک اعتدال پسند کمیونٹی ہے تقسیم کے دوران بھارت کے حکمران طبقے نے سکھوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرکے دونوں قوموں کے درمیان جو فاصلے کھڑے کردیے تھے وہ اب کرتارپور راہداری کی شکل میں ان فاصلوں کو کم کرنے کا کردار ادا کریں گے آج بھارتی حکمران مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں کل بھارتی عوام یہ کام اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ماضی کی زنجیریں توڑنا ہوں گی۔ ہمارا خیال ہے کہ خان صاحب کا اشارہ 71 سال سے دونوں ملکوں کی منتقمانہ پالیسیوں کی طرف ہے اگر ہمارا خیال درست ہے تو ان کا کہنا درست ہے کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہی وہ فکری زنجیریں ہیں جو آگے بڑھنے نہیں دے رہی ہیں۔ کسی بھی سنگین سے سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے فکری لچک کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں اگرچہ مختلف الخیال حکومتیں آتی رہی ہیں لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ہر حکومت کی پالیسی لچکدار رہی۔ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کشمیرکے حوالے سے غیر لچکدار اور انھی اصولوں پر مبنی ہے لیکن پاکستان پر دس سال تک حکومت کرنے والے ایک فوجی صدر جنرل مشرف نے بھارت جاکر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے دوران جس لچک کا مظاہرہ کیا تھا اس سے پاکستان کے سیاستدان بھی حیران تھے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل کے اتنے قریب تھا کہ ایک معاہدے پر دستخط کی تیاری ہو رہی تھی کہ بھارت کی متعصب بیورو کریسی نے اس کامیاب مذاکرات کو ناکام بنادیا جب بھارتی قیادت اپنی فکر تبدیل نہیں کرے گی دونوں ملکوں کے حل طلب مسائل حل طلب ہی رہیں گے۔ سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید علوم نے ماضی کی فکری سرحدوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے لیکن بھارتی سماج اب تک اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے پتھروں کو بھگوان بناکر اس کی پرستش کرتا ہے اب بھارت کو پتھر کے دور سے آگے آنا ہوگا، سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔