غربت اور اس کی وجوہات

جمیل مرغز  ہفتہ 8 دسمبر 2018

ملک سے غربت مٹانے کے سنجیدہ اور اہم ترین مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے اس کا علاج‘ مرغ بانی‘ انڈہ فروشی اور کٹا پروری کے ذریعے کرنے کا اعلان کیا‘ اس طرح تحریک انصاف کی حکومت میں روزانہ ایک حماقت سرزد ہوتے ہوتے‘ ایک بہت ہی اہم مسئلہ اورسب سے سنجیدہ مسئلے کو بھی مذاق بنا دیا گیا۔

پاکستان ایک طبقاتی معاشرہ ہے اور غربت و طبقاتی تقسیم پاکستان کا بنیادی مسئلہ اور ہر حکومت کے لیے ایک چیلنج رہا ہے‘ اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے اور اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ ریاست نے تعلیم‘صحت اور روزگار کے عمل سے غریب طبقوں کو باہر کردیا ہے ‘مالدار طبقے کی تعلیم و علاج کے لیے بڑے اچھے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں جب کہ غریب‘تعلیم اور صحت کے لیے سرکاری اداروں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور ان کے بچے گندگی کے ڈھیر یا فائیواسٹار ہوٹلوں اور شادی ہالوں کے باہر رزق تلاش کرتے ہیں۔

غربت کیا ہے؟ مختلف ماہرین معیشت کے مطابق اس کی اجتماعی تعریف کچھ یوں ہے’’کسی انسان کے پاس ان وسائل کی کمی جو اس کو مناسب طور پر زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں ’بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے آمدنی کی کمی‘ کم تر معیار زندگی‘انسانی ترقی کے لیے درکار مواقع کی کمی‘‘ ۔زیادہ غربت اکثر حالات میں بھوک حتی کہ موت کا سبب بن جاتی ہے ‘بعض اوقات غربت سماجی بے چینی کا سبب بھی بن جاتی ہے ‘یہ سماجی بے چینی اکثر خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے اور حکومتوں کی تبدیلی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

اگر کوئی مناسب رہنماء اور ایک منظم پارٹی غریبوں کی رہنمائی کے لیے موجود ہو تو یہ سماجی بیچینی ایک ایسے انقلاب میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے جہاں حکومت پر محنت کشوں کا قبضہ ہو جائے‘ وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو اور ہر شہری کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہو۔ فرانس میں جب لوگوں کو روٹی ملنا مشکل ہوئی تو وہ جلوس لے کر شاہی محل پہنچے تو شہزادی نے ماں سے پوچھاکہ ان لوگوں نے جلوس کیوں نکالا ہے۔

ملکہ نے جواب دیا کہ ان لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی نہیں مل رہی ’’اگر روٹی نہیں ہے تو یہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے‘‘شہزادی نے معصومیت سے پوچھا۔موجودہ صورت حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی صورت حال بھی ایسی ہی ہے کہ فائیو اسٹار ہوٹلوں سے ڈنر‘لنچ یا ہائی ٹی کرنے کے بعدباہر نکلنے والے بچے اپنی قیمتی گاڑیوں کے پاس کھڑے بھکاری بچوں کو دیکھ کر اپنی ماؤں سے پوچھتے ہوں گے کہ یہ بچے صاف ستھرے کپڑے پہن کر اندر کھانے کے لیے کیوں نہیں جاتے۔جب حکمران کے ارد گرد‘ترین‘انیل مسرت‘ ذولفی اور حلیم خان بیٹھے ہوں تو غربت کے خاتمے کے لیے انوکھے خیالات ہی سوجھتے ہیں‘اسی لیے عمران خان کو بھی انڈوں کا خیال ہی سوجھا ہے۔

پاکستان میں غربت بڑھنے کی بنیادی وجہ تو یہاں کا سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام ہے‘اس نظام کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں اکثریت غریب ہوتی ہے اور ملک کے وسائل پیداوار پر ایک مخصوص اقلیتی طبقے کا قبضہ ہوتا ہے‘غربت کے خاتمے اور ہر انسان کو ایک باعزت زندگی گزارنے کا حق دینے کا واحد راستہ تو سرمایہ داری اور جاگیرداری کا مکمل خاتمہ کرکے ایک عوامی انقلاب کے ذریعے عوام کی حکومت قائم کرنا ہے کیونکہ سرمایہ داری نظام کی بنیاد ایڈم اسمتھ (Adam smith)کے فری مارکیٹ نظریات پر ہے۔

بعض دانشور‘خاص کر مذہبی طبقے اس نظام کو رضائے خدا وندی سمجھتے ہیں‘چونکہ یہ لوگ اس نظام کو ہی قدرت کی طرف سے ودیعت کیا گیا سمجھتے ہیں‘اس لیے ان کا خیال ہے کہ غربت کا خاتمہ اور ایک مناسب انسانی زندگی گزارنے کا حق صرف سرمایہ دارانہ خدائی نظام میں ہے‘ آج ہم اس نظام کی بدولت پاکستان میں غربت کی وجوہات اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیں گے۔

پاکستان کے معاشی ماہرین کے خیال میں پچھلے چند سال  میںغربت میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں‘ان میں مقامی اورعالمی سطح پر اشیائے خوراک اور تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ‘ ملک میں عدالتی اورسیاسی ابتری‘دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ بجلی کی بے تحاشہ لوڈ شیڈنگ اورصنعتی ممالک میں کساد بازاری‘ان وجوہات کی بناء پر پاکستان کی صنعتی پیداوار اور برآمدات میں کمی ہوئی‘جس کی وجہ سے معاشی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع میں تنزلی ہوئی۔

عالمی کساد بازاری اور اقتصادی بحران کی وجہ سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO)نے پیشین گوئی کی تھی کہ دنیا میں تقریباً 3کروڑ افراد 2009ء اور اس کے بعدکے عرصے کے دوران اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں‘ان میں تقریباً 2کروڑ سے زیادہ افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہو گا‘اگر عالمی اقتصادی صورت حال میں بہتری نہیں ہوئی اور ترقی پذیر ممالک میں صنعتی پہیہ دوبارہ رواں نہ ہوا تو امکان ہے کہ بیروزگارہونے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوجائے۔

پاکستان میں صورتحال اور بھی خراب ہے‘صنعتیں پہلے سے بند پڑی ہیں‘زراعت بھی زبوں حال ہے‘موجودہ حکومت آنے کے بعد معاشی صورت حال اتنی خراب نظر آتی ہے کہ کاروباری طبقہ سرمایہ لگانے کے بجائے نکال رہا ہے۔عالمی سامراجی نظام نے غریب ممالک کو بھی گلوبلائزیشن کے سامراجی منصوبوں کے ذریعے اپنی معاشی پنجوں میں باندھ رکھا ہے‘سامراجی ملٹی نیشنل کارپوریشنیںپورے سرمایہ دار دنیا کے ممالک کی معاشیات کو کنٹرول کر رہی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔