مجروح سلطان پور ایک لاجواب نغمہ نگار (تیسری اور آخری قسط)

یونس ہمدم  ہفتہ 8 دسمبر 2018
hamdam.younus@gmail.com

[email protected]

فلمساز گرودت کی فلم آر پارکے سپرہٹ گیتوں نے او پی نیئر کی شہرت کے سارے ہندوستان میں جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ فلم سی آئی ڈی میں ایک بار پھر موسیقار او پی نیئر اور شاعر مجروح سلطان پوری کے گیتوں نے ایک دھوم مچادی تھی۔ اس فلم میں بھی گیتادت، شمشاد بیگم اور محمد رفیع کی آوازوں نے فلم بینوں کے دلوں پر قبضہ جمالیا تھا۔گلی گلی ان دلکش گیتوں کی گونج پھیل گئی تھی۔ سی آئی ڈی 1956ء کی فلم تھی اور فلم کا ہرگیت ایک دوسرے پر بازی لے گیا تھا اور وہ گیت تھے:٭۔اے دل ہے مشکل جینا یہاں ۔ یہ ہے بمبئی میری جاں

٭۔کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

٭۔ لے کے پہلا پہلا پیار بھرکے آنکھوں میں خمار

٭۔ بوجھ میرا کیا ناؤں رے ندی کنارے گاؤں رے

اسی دوران مجروح سلطان پوری موسقیار ایس ڈی برمن کے من میں بھی بس گئے تھے اور ان کی سنگت میں بھی بہت سے خوبصورت گیتوں کی تخلیق ہوئی تھی۔ ذیل میں چند گیت:

٭۔ جلتے ہیں جس کے لیے میری آنکھوں کے دیے (فلم سجاتا)

٭۔ سن میرے بندھوں رے سن میرے متوا (فلم سجانا)

٭۔ آج پھر جینے کی تمنا ہے آج پھر مرنے کا ارادہ ہے (فلم گائیڈ)

٭۔ ہے اپنا دل تو آوارہ نہ جانے کس پہ آئے گا (فلم سولہواں سال)

٭۔ دکھی من میرے سن میرا کہنا (فلم فنٹوش)

٭۔ چلے سجن اب کیا سوچے (فلم بمبئی کا بابو)

٭۔ ساتھی ہے نہ کوئی منزل (فلم بمبئی کا بابو)

٭۔ مانا جناب نے پکارا نہیں (فلم پے انگ گیسٹ)

اور پھر جب دلکش غزلوں کی بات آتی ہے تو فلم ’’دستک‘‘ کی یہ لازوال غزل جسے لتا منگیشکر کی آواز نے امر کردیا تھا آج بھی ہزاروں دلوں پر دستک دیتی ہے۔

اور غزل کا مطلع تھا:

ہم ہیں متاع کوچۂ و بازارکی طرح

اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدارکی طرح

مجروح نے ایس ڈی برمن کے ساتھ کام کیا تو پھر آر ڈی برمن بھلا کہاں پیچھے رہ سکتے تھے۔ ان کے ساتھ بھی مجروح سلطان پوری نے کئی فلموں کے لیے گیت لکھے۔ فلم ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘ اپنے دور کی ایک کامیاب اور یادگار فلم تھی اس کے بیشتر گیتوں نے لوگوں کے دل موہ لیے تھے مگر ایک گیت نے بڑا غضب ڈھایا تھا اور وہ گیت تھا:

٭۔ کیا ہو تیرا وعدہ وہ قسم وہ ارادہ

مجروح سلطان پوری آہستہ آہستہ ہر موسیقار کے دل میں اپنا گھر بناتے جارہے تھے۔ اس زمانے میں موسیقار روی، موسیقار روشن اور خاتون موسیقار اوشا کھنہ بھی مجروح کے گیتوں کی دیوانی ہوگئی تھیں۔ اس دور میں موسیقار روشن کا یہ گیت فلم تھی ’’آرتی‘‘ اور گیت بھی کیا بے مثال تھا۔

اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی

انسان بن گئی ہے کرن ماہتاب کی

یا پھر یہ گیت :

آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا

کہ میرے دل پہ پڑا تھا کوئی غم کا سایا

یہ دونوں گیت محمد رفیع نے بہت ہی دلفریب انداز سے گائے تھے۔ خاتون موسیقار اوشا کھنہ نے اپنا کیریئر کا آغاز فلم ’’دل دے کے دیکھو‘‘ سے کیا تھا اور مجروح کے گیتوں نے اوشا کھنہ کے کیریئر کو آگے بڑھنے میں بڑی مدد دی تھی اور فلم کے گیتوں نے ہی فلم کو اٹھادیا تھا۔ ایک گیت تو ان دنوں ہر زبان پر ہوتا تھا ۔

٭۔ دل دے کے دیکھو۔ دل لینے والو دل دینا سیکھو جی

٭۔ کون یہ آیا محفل میں بجلی سی چمکی دل میں

موسیقار روشن ہی کا ایک اور سدا بہار گیت خیالوں میں جگمگارہا ہے اس گیت نے بیشمار دلوں میں محبت کی روشنی جگائی تھی اور اس گیت کو محمد رفیع اور لتا منگیشکر نے اس طرح گایا تھا کہ فضاؤں میں نشہ چھلکادیا تھا۔ اس گیت کے بول تھے:

٭۔ دل جو نہ کہہ سکا وہی رازِ دل۔ کہنے کی رات آئی۔ اور فلم تھی ’’بھیگی رات‘‘ اور جب موسیقار چتر گیت کے ساتھ مجروح سلطان پوری کا ملن ہوا تو کئی مین گیت تخلیق ہوئے تھے۔٭۔ مانا جناب نے پکارا نہیں

٭۔ او میرے دل کے چین

٭۔ ہمیں تم سے پیار کتنا یہ ہم نہیں جانتے

٭۔ہم ہیں راہی پیار کے

میت نہ ملا رے من کا

تیرا ہاتھ ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

مجھے سہل ہوگئیں منزلیں۔ وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے۔

موسیقار انل سبواس ہی کی موسیقی میں طلعت محمود کی گائی ہوئی یہ فلم آرزو سے ہے جسے طلعت محمود کی آواز نے امر بنادیا تھا:

اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو

اپنا پرایا مہرباں نا مہرباں کوئی نہ ہو

ایک اور غزل جو طلعت محمود ہی نے فلم فٹ پاتھ کے لیے گائی تھی اور جس کے موسیقار خیام تھے اور وہ رنج و الم میں ڈوبی غزل تھی

شامِ غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم

آبھی جا آبھی جا آج میرے صنم

اور اسے دلیپ کمار پر فلمایا گیا تھا۔

اب کچھ تذکرہ مشہور فلمساز و ہدایت کار کمال امروہوی کی شہرۂ آفاق فلم ’’پاکیزہ‘‘ کا بھی ہوجائے فلم ’’پاکیزہ‘‘ میں گیت نگارکیفی اعظمی، کیف بھوپالی اور کمال امروہوی کے علاوہ مجروح سلطان پوری کا بھی گیت تھا اور گیت کے بول تھے:

ٹھارے رہیو اور بانکے یار رے

آج نہ فلم کی ہیروئن مینا کماری زندہ ہے نہ نغمہ نگار مجروح سلطان پوری اور نہ ہی موسیقار غلام محمد مگر مجروح سلطان پوری کا لکھا ہوا ہے گیت کل کی طرح آج بھی پھولوں کی طرح تروتازہ ہے اور موسیقی کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ مجروح سلطان پوری کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے فلمی دنیا میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزارا اور سب سے زیادہ فلمی گیت اور غزلیں ان کی لکھی ہوئی ہیں۔ انھیں بہت سے فلمی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ وہ جس طرح فلمی دنیا کا قیمتی اثاثہ تھے اسی طرح ادبی دنیا کا بھی گراں قدر سرمایہ تھے اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ان کی ادبی حلقوں میں بڑی قدر و منزلت تھی۔ دبئی میں ادبی حلقوں کی طرف سے جشن مجروح سلطان پوری بڑے شاندار پیمانے پر منایا گیا تھا ان کے لکھے ہوئے مشہورگیتوں کی اتنی زیادہ تعداد ہے کہ بہت سے کالم بھی کم پڑ جائیںگے بلکہ ان کے لیے تو کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں ان کے بارے میں ایک اور خاص بات بتاتا چلوں کے لیجنڈ گلوکار سہگل نے اپنی زندگی میں ایک بار کہا تھا کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہو تو اس کی آرتی (جنازے) پر مجروح سلطان پوری کا لکھا ہوا گیت ضرور بجایا جائے۔

٭۔ جب دل ہی ٹوٹ گیا پھر جی کے کیا کریںگے۔

مجروح سلطان پوری نے گلوکار و اداکار سہگل سے لے کر نئی نسل کے ہیرو سلمان خان تک کی فلموں کے لیے گیت لکھے تھے۔ 24 مئی 2000ء ان کی زندگی کا آخری دن تھا انھیں نمونیہ کا شدید حملہ ہوا اور پھر یہ جانبر نہ ہوسکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔