ماورائے آئین سے آئین تک

لطیف چوہدری  منگل 2 جولائ 2013
latifch910@yahoo.com

[email protected]

جنرل ضیاء الحق نے 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ کو توڑ ااور مارشل لا نافذ کر دیا۔ بچے کھچے نئے پاکستان میں یہ پہلا مارشل لاء تھا‘عوام نے جن سیاستدانوں کو حکمرانی کا مینڈیٹ دیا تھا‘ انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ جو گرفتاری سے بچ گئے‘ وہ خاموشی سے گھر چلے گئے۔

حضرت میاں محمد بخش نے اس سچائی کو یوں بیان کیا ہے‘ لسے دا کیہہ زور محمد رونا یا نس جانا (کمزور بیچارے کی کیا اوقات‘ رونا یا پھر بھاگ جانا) تختہ الٹنے کے بعد جنرل ضیاء الحق نے نیوز ویک کے برطانوی صحافی ایڈورڈ بہر (Edward behr) سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’میں ہی وہ واحد شخص ہوں جس نے آپریشن فیر پلے کا فیصلہ کیا۔ میں نے 4 جولائی کو یہ خبر سننے کے بعد کہ بھٹو اور اپوزیشن میں مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں‘ اس آپریشن پر عمل کیا‘ اگر ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جاتا تو یقینی طور پر میں ایسا کبھی نہ کرتا‘‘۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں‘ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے‘ کوئی اکیلا جنرل حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکتا۔اس وقت کے اہم فوجی افسر ان کے ساتھ تھے ہی قومی اتحاد کے لیڈر بھی ان سے رابطے میں تھے‘ خصوصاً قوم پرست اور مذہبی جماعتیں۔

بھٹو دور میں اسیر قوم پرست لیڈروں کو ضیاء الحق کے دور میں رہائی ملی۔ سول بیوروکریٹس اور ٹیکنو کریٹس بھی جمہوریت کا خاتمہ چاہتے تھے‘ ضیاء الحق کے دور کو ٹیکنو کریسی بھی کہا جاتا ہے۔ آغا شاہی‘ شریف الدین پیرزادہ‘ ڈاکٹر محبوب الحق‘ آفتاب قاضی‘ روئیداد خان اور غلام اسحاق جیسے ذہین ٹیکنو کریٹس نے ضیاء الحق کے دور میں ہی شہرت حاصل کی۔ دائیں بازو کے صحافیوں کا ایک ٹولہ بھی انھی کے دور میں اپنی غربت ختم کرنے میں کامیاب ہوا۔ تاریخ کا عجب مذاق ہے کہ ضیاء الحق کی باقیات آج جمہوریت کے ترانے گا رہی ہیں‘ اچھی مغنیہ وہی ہوتی ہے جو پکے راگ بھی مہارت سے گائے اور ڈسکو پر بھی دسترس رکھے۔

ضیاء الحق نے جب مارشل نافذ کیا تو جسٹس انوار الحق سپریم کورٹ کے سربراہ تھے‘ اس عدالت عظمیٰ نے نصرت بھٹو کیس کی سماعت کے بعد جو فیصلہ دیا‘ اس میں نظریہ ضرورت کا سہارا لے کر مارشل لاء کو جائز قرار دے دیا گیا اور ضیاء الحق کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دیا گیا‘ یوں بندوق کے فائر سے جمہوریت کے شکار کو حلال قرار دے دیا گیا۔ انھی عدالتوں میں ذوالفقار علی بھٹو اور ایف ایس ایف کے تین چار ملازمین پر قتل کا مقدمہ چلا اور انھیں پھانسی دے دی گئی‘ ایف ایس ایف کا سربراہ مسعود محمود وعدہ معاف گواہ بن کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا‘ ایسا ہی ایک وعدہ معاف گواہ چوہدری امین تھے جن کی گواہی پر میاں محمد نواز شریف کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی‘ یہ بیورو کریٹس بھی عجب مخلوق ہوتے ہیں‘ ماتحتوں کے لیے فرعون اور حاکم کے لیے مرغی کی حیثیت رکھتے ہیں‘ انھیں جیسے چاہے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قانون میں وعدہ معاف گواہ کا تصور سامراجیت نے متعارف کرایا‘ سامراجی قوتیں اپنے مخالفوں کو ختم کرنے کے لیے انھی میں سے ایک شخص کی جان اس شرط پر بخشی دیتی تھیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے خلاف گواہی دے کر انھیں مروا دے‘ ہمارے جوڈیشل سسٹم نے اس سامراجی تصور کو قبول کیا۔ سنا ہے، پرویز مشرف کے لیے بھی ایک بیوروکریٹ وعدہ معاف گواہ سامنے آ گیا ہے۔ بھٹو کو جب سپریم کورٹ نے سزا سنائی‘ اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا‘ قارئین اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ اس فیصلے اور عدالت کی کیا آئینی حیثیت ہو سکتی ہے؟ مارشل لا بھی نافذ ہو اور عدالت بھی آزاد ہو‘ یہ کیسے ممکن ہے۔

ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد بعض ججوں کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان سے جوکام لینا تھا‘ وہ لیا جا چکا تھا‘ اب انھیں ساتھ رکھنا بلا وجہ کا بوجھ اٹھانا تھا۔کہانی کچھ یوں ہے کہ ضیاء الحق نے اواخر مارچ 1981 میں نئے پاکستان کا پہلا پی سی او (Provisional Constitutional order) جاری کیا۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان سے کہا گیا کہ وہ پی سی او پر حلف لیں یا مستعفی ہو جائیں۔ جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے پی سی او پر حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا‘ چیف جسٹس انوار الحق اور جسٹس مولوی مشتاق کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیاگیا۔ مولوی مشتاق نے پی سی او پر حلف لینے کے لیے رضا مندی ظاہر کر دی لیکن انھیں بلایا ہی نہیں گیا جب کہ جسٹس انوار الحق کو حلف کے لیے دعوت ہی نہیں دی گئی۔ یہ دونوں جج صاحبان بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کے اہم کردار ہیں۔

ضیاء الحق نے ایک ریفرنڈم بھی کرایا تھا‘ وہ بھی آئینی تھا‘ اسی کے نتیجے میں وہ صدر بنے‘ وہ بھی آئین کے مطابق تھا‘ انھوں نے ایک مجلس شوریٰ بھی قائم کی‘ یہ دراصل جنرل ضیاء الحق کا مشاورتی بورڈ تھا‘ ان کا یہ اقدام بھی قانونی تھا، پھر 1985 میں غیر جماعتی الیکشن کرائے‘ پارلیمنٹ وجود آئی‘ اس پارلیمنٹ نے 77 کے مارشل لاء‘ ضیاء الحق کے پی سی او‘ ان کے ریفرنڈم اور پھر ان کا صدر بننا‘ صدر کی حیثیت سے سارے اقدام‘ غیر جماعتی الیکشن‘ ان سب کی توثیق کر دی ‘ یوں سارے ظلم‘ نا انصافیاں اور ماورائے آئین اقدام سب آئینی ہو گئے۔ پنجابی زبان کے شیکسپیئر

بابا وارث شاہ نے فرمایا ہے،
راہوں کراہ نہ پیئے‘ بھانویں پینڈا دور ہوئے
پھٹیا ہویا دودھ نہ پیئے‘ بھانویں رب دا نور ہوئے
(سیدھے راستے کو چھوڑ کر کبھی غلط راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے)
(دودھ خراب ہو جائے تو اسے مت پئیو‘ چاہے وہ رب کا نور ہی کیوں نہ ہو)

لیکن یہ شاید شاعرانہ اظہار ہے‘ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے‘ 1985سے اکتوبر 99 تک جو جمہوری حکومتیں بنیں‘ وہ اسی آئین کا تسلسل تھا جس میں ضیاء الحق کے اقدام شامل تھے۔ 12 اکتوبر 1999 کو بھی وہی عمل دہرایا گیا جس کا آغاز ضیاء الحق نے کیا تھا‘ فرق صرف اتنا تھا‘ ضیاء الحق اسلام کا نام لے کر سامراج کی جنگ لڑ رہے تھے اور جنرل پرویز مشرف لبرل بن کر دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ کا حصہ بنے۔ ویسے آپس کی بات ہے جس پارلیمنٹ نے 1973 کا آئین بنایا اور منظور کیا‘ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں‘ کیا اسے آئین سازی کا مینڈیٹ حاصل تھا؟ اس پارلیمنٹ کے اراکین نے یحییٰ خان کے جاری کردہ آئین کے تحت الیکشن لڑا تھا‘ یحییٰ خان جس پاکستان کے صدر تھے‘ وہ 1971میں دولخت ہو گیا۔

ذرا سوچیں، 73کا آئین بنانے والوں کی اپنی کیا آئینی حیثیت رہ جاتی ہے‘ کیونکہ 70کا الیکشن جیت کر اسمبلی میں آنے والوں کا مینڈیٹ اس وقت ختم ہو گیا جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ چاہے پاکستان پر حکمرانی کرنے والا کوئی آمر ہو‘ جمہوری حکمران ہو یا ریاستی ادارے سب ماورائے آئین سے آئین میں داخل ہوئے ہیں۔ ایسے میں آرٹیکل چھ کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے۔یادرکھنے والی حقیقت یہ ہے کہ پاور آئین کو جنم دیتی ہے، آئین پاور کو جنم نہیں دیتا۔پاور ماورائے آئین بھی ہو تو آئینی ہوجاتی ہے، آئین اپنی حدود سے نکلے تو ماورائے آئین ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔