فنڈز کی بندش سے بحریہ ٹاؤن کراچی مشکلات کا شکار، انویسٹرز بھی پریشان

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 8 دسمبر 2018
ہر قسم کے ترقیاتی کام روک دیے جانے سے ہزاروں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ، بحریہ ٹاؤن کے ملازمین کی تنخواہیں بھی تاخیر کا شکار۔ فوٹو: فائل

ہر قسم کے ترقیاتی کام روک دیے جانے سے ہزاروں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ، بحریہ ٹاؤن کے ملازمین کی تنخواہیں بھی تاخیر کا شکار۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  روشنیوں کے شہر بحریہ ٹاؤن کراچی میں سرمایہ کاری کرکے اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے خواہشمند ہزاروں افراد اس وقت شدید قسم کی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے کیش اِن فلو کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ 

سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق اس وقت کیش ان فلو کا اختیار بحریہ ٹاؤن کو نہیں بلکہ سپریم کورٹ کو حاصل ہے، بحریہ ٹاؤن کے 45 ہزار سے زاید ملازمین کی تنخواہیں اب ’’سپریم کورٹ کے حکم نامے‘‘ کی وجہ سے مزید سرمایہ کاری نہ ملنے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہورہی ہے۔ جو فیکٹریاں اور کارخانے بحریہ کے ساتھ جڑے تھے وہ سب بند ہو رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے فنڈز کی اشد ضرورت ہے لیکن وہ تمام فنڈز اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے منتظر ہیں، جب تک وہ فنڈ جاری نہیں ہوں گے تب تک بحریہ کے تمام پروجیکٹ بند رہیں گے۔ بیرون ملک پاکستانیوں نے اپنی سرمایہ کاری کا سب سے زیادہ حصہ بحریہ ٹاؤن میں ہی لگایا ہے لیکن موجودہ حالات کے باعث آج یہ سرمایہ کاری خطرے میں ہے اور ڈر ہے کہ مستقبل میں بھی اوورسیز کا پاکستان کی ریئل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ میں بے اعتمادی کے باعث اس کے پاکستان پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن میں ہر طرح کے ترقیاتی اور بحالی کے کام رک چکے ہیں، بحریہ ٹاؤن کے فنڈز سپریم کورٹ کے زیر تحت ہونے کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کے 45 ہزار سے زائد ملازمین اور ان کے خاندان بھی تنخواہوں کے حوالے سے کشمکش کا شکار ہیں، بہت سے کنٹریکٹرز کے کروڑوں کے ٹھیکے منسوخ ہو چکے ہیں، 55 سے زائد مختلف صنعتیں تعمیرات کے شعبے سے جڑی ہوئی ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کراچی کے ایک لاکھ 65 ہزار ممبر بھی پریشان ہیں جو اپنے بحریہ ٹاؤن میں انویسٹمنٹ کے فیصلے سے بالکل مطمئن ہیں مگر ساتھ میں اپنی تمام اپنی جمع پونجی سے لی گئی پراپرٹی کے لیے فکرمند ہیں۔

بحریہ ٹاؤن سے وابستہ کروڑوں لوگ وہ بھی ہیں جو بحریہ ٹاؤن سے دو وقت کا مفت کھانا حاصل کرتے ہیں جو مہنگے علاج کی حیثیت نہ ہونے کی صورت میں بحریہ انٹرنیشنل اسپتال سے مفت علاج بھی کرواتے ہیں، گھر کا کرایہ راشن غرض یہ کہ بحریہ ٹاؤن مختلف طریقوں سے غریب عوام کی مدد کررہا ہے لیکن اس وقت خود مشکلات کا شکار ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔