اوورسیز کمیٹی کا اجلاس، زلفی بخاری اور سسی پلیجو میں سخت جملوں کا تبادلہ

نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 8 دسمبر 2018
وزیر اعظم کواستعفے کی پیشکش کی نہ ایسا کرنے کاارادہ ہے، زلفی بخاری۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم کواستعفے کی پیشکش کی نہ ایسا کرنے کاارادہ ہے، زلفی بخاری۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد:  سینیٹ کی اوورسیز کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری اور پیپلز پارٹی کی سینیٹرسسی پلیجو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

سینیٹر ہلال الرحمن کی زیرصدارت اجلاس میں سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے معاملے پر غور کیا گیا۔ کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ بات بھی دیکھی جائے کہ کیا واقعی قیدی سے جرم سرزد ہوا یا مصیبت میں پھنس گیا ہے، فنڈکی کمی کا کہہ کر پاکستانیوں کو بیرون ملک جیلوں میں بے آسرا نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اجلاس کے دوران زلفی بخاری اور سسی پلیجو کے درمیاں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کسی شخص کی رہائی کیلیے کسی دوسرے ملک کے قانون میں مداخلت نہیں کر سکتے، ہمیں مجرموں کے تبادلے کے حوالے سے معاہدے کرنا ہوں گے، ملک کا پیسہ استعمال کرنے کی دلیل بھی ہونی چاہیے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کا 4 کروڑ کا جرمانہ ہم ادا نہیں کر سکتے۔ بیرون ملک مقیم مجبور اور بے سہارا لوگ ہماری ترجیح ہیں۔

سسی پلیجو کا کہنا تھا کہ آپ اس طرح کی بات نہیں کرسکتے، یہ کہنا درست نہیں کہ ایسے تو ہزاروں کیسز ہیں۔ اس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا، میں نے صرف یہ کہا کہ ایک کیس پر جذباتی نہیں ہوناچاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔