لیاری : بھتہ خوری کے باعث کھجور مارکیٹ کا کاروبار متاثر

بزنس رپورٹر  بدھ 3 جولائ 2013
رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر مختلف اقسام کی کھجور وں کو ایمپریس مارکیٹ میں ایک دکاندار سجارہا ہے(فوٹو ایکسپریس)

رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر مختلف اقسام کی کھجور وں کو ایمپریس مارکیٹ میں ایک دکاندار سجارہا ہے(فوٹو ایکسپریس)

کراچی:  لیاری کی کھجور مارکیٹ میں بھتہ خوری کے سبب کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں، تاجروں اور عام خریداروں نے کھجور مارکیٹ کا رخ کرنا چھوڑ دیا ۔

جبکہ خود کھجور مارکیٹ کے تاجر متبادل ذرائع سے کھجور فروخت کرنے پر مجبور ہیں، کھجور مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی رمضان کے لیے کھجور کے سیزن کے موقع پر کھجور مارکیٹ کے تاجروں کو بھتہ خوری کا سامنا ہے ، خوف کے سبب کراچی اور دیگر شہروں کے تاجروں کے علاوہ عام خریداروں نے بھی مارکیٹ کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے ،رمضان کے لیے زیادہ تر کھجور فون پر سودے کرکے فروخت کی جارہی ہے اس صورتحال میں مڈل مین کا کردار ادا کرنے والے تاجروں کی چاندی ہوگئی ہے جو کھجوروں کے نمونے لے کر شہر کے دیگر بازاروں میں مارکیٹنگ کررہے ہیں اور اپنا کمیشن وصول کرکے کھجور فروخت کررہے ہیں ۔

کھجور مارکیٹ تک خریداروں کی براہ راست رسائی نہ ہونے کے سبب صارفین کو مہنگے داموں کھجور فروخت کی جائیگی جس سے رمضان کی عمومی مہنگائی میں کھجور کا حصول بھی مشکل ہوگا، گزشتہ دو سال سے کھجور مارکیٹ سے خریداری نہ کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ اس سال بھی انھوں نے فون پر سودے بک کرکے کھجور خریدی ہے ،کھجور کے گودام بھی کھجور مارکیٹ سے سائٹ کے صنعتی علاقے میں منتقل کردیے گئے ہیں اور کھجور کی ڈیلیوری اور سمپلنگ بھی ان ہی گوداموں سے کی جارہی ہے، کھجور کے زیادہ تر بیوپاری کولڈ اسٹوریج سے ہی کھجور فروخت کررہے ہیں ۔

تاجروں کو خوف ہے کہ کھجور مارکیٹ کا رخ کرنے پر کہیں انہیں بھاری تاوان کے لیے اغوا نہ کرلیا جائے ، کھجور مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ کھجور کی 80فیصد فروخت یکم رمضان سے قبل ہی مکمل ہوجاتی ہے 10سے 15فیصد کھجور 20روزے تک اور باقی کھجور رمضان کے آخری دنوں میں فروخت کی جاتی ہے ، کھجور کی خریداری کے لیے پنجاب اور سندھ کے دیگر شہروں سے بھی خریدار کراچی آتے ہیں جو اس سال بھی کھجور مارکیٹ کا رخ کرنے سے کترارہے ہیں، تاجروں کے مطابق بھتہ خوری اور بدامنی کے سبب کاروبار میں نمایاں کمی کا سامنا ہے اور کھجور کے بیوپاریوں کو نقصان کا سامنا ہے۔

دوسری جانب مرکزی مارکیٹ کی اہمیت اور کاروباری حجم کم ہونے سے مڈل مین کا منافع شامل ہونے اور متبادل ذرائع سے فروخت کی وجہ سے کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے اور کھجور کی قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے ،کھجور خریدنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ کھجور مارکیٹ کے بیوپاری اور تھوک فروش بھتے کی رقم بھی کھجور کی قیمت میں شامل کررہے ہیں جس سے قیمت میں گزشتہ سال کی نسبت نمایاں اضافے کا سامنا ہے ، گزشتہ سال 155روپے کلو فروخت ہونے والی ایرانی خشک کھجور اس سال 200سے 220روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔

عراقی برائون کھجور گزشتہ سال سے 10سے 20روپے اضافے سے 170روپے کلو، گزشتہ سال 120روپے کلو فروخت ہونے والی بصرہ کی سرخ اور برائون کھجور اس سال 135روپے کلوفروخت کی جارہی ہے گزشتہ سال پاکستانی سکھر کی فصل رمضان سے قبل بازار میں نہیں آسکی تھی یہ فصل کولڈ اسٹوریج میں محٖفوظ کردی گئی جو اس سال 170روپے کلو فروخت کی جارہی ہے ، پنجگور کی چھوٹی کھجور 70سے 80روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔