کراچی تجاوزات آپریشن پر فاروق ستار اور وسیم اختر میں لفظی گولہ باری

ویب ڈیسک  ہفتہ 8 دسمبر 2018
دونوں پرانے ساتھیوں کے ایک دوسرے پر کراچی اور ایم کیو ایم کو تباہ کرنے کے الزامات فوٹو:فائل

دونوں پرانے ساتھیوں کے ایک دوسرے پر کراچی اور ایم کیو ایم کو تباہ کرنے کے الزامات فوٹو:فائل

 کراچی: ایم کیو ایم کے سابق رہنما فاروق ستار نے تجاوزات کے خلاف آپریشن پر میئر کراچی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وسیم اختر کو کراچی برباد کرنے کا ووٹ نہیں ملا تھا۔

مقدمات کی سماعت کے لیے کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سابق رہنما فاروق ستار نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر اور سپریم کورٹ کے احکامات کے آڑ میں لوگوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے، وسیم اختر آپ کو کراچی بنانے کا ووٹ ملا تھا برباد کرنے کا نہیں، اب آؤ ووٹ لیکر دکھاؤ کراچی سے، اب عوام انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ عوام سے کاروبار چھینا جارہا ہے، 5 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، لوگوں کو بیروزگار کرکے جرائم کو بڑھایا جارہا ہے، چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ متاثرین سے ملیں اور دیکھیں کہ ان کے حکم کے آڑ میں کیا کیا جارہا ہے، بغیر متبادل دیے رہائشی علاقوں سے اسکول خالی کرائے جارہے ہیں، کے ایم سی کے دستاویزات کے مطابق کرایہ داروں کو متبادل دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ 12 مئی کے 2 مقدمات میں میئر کراچی وسیم اختر پر فرد جرم عائد

دوسری جانب وسیم اختر نے فاروق ستار کے لفظی تیروں کا جواب دیتے ہوئے کہ اگر میں نے کراچی کو برباد کیا تو فاروق ستار نے ایم کیو ایم کو تباہ کیا ہے، میں ان کی باتوں کا کیا جواب دوں، مجھے تو یہ بھی نہیں پتا وہ کونسی جماعت میں ہیں، دکانیں وہ توڑی گئیں جو کے ایم سی نے رینٹ پر دی تھی، اب سپریم کورٹ کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ تجاوزات کے حوالے سے مزید کیا کرنا ہے، 12 مئی کیس میں سب ملزمان نے عدالت سے کہا کہ ہمیں جج پر اعتماد نہیں لیکن پھر بھی فردِ جرم عائد کردی گئی۔

اس موقع پر عامر خان نے کہا کہ فاروق ستار کیلئے میں دعاگو ہوں، اللہ تعالی ان کو ہدایت دے، وہ ایم کیو ایم کا اب حصہ نہیں، ان کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دیں گے، انہیں چاہیے کہ وہ اب ایم کیو ایم کا نام اور جھنڈا استعمال کرنا بند کریں، دکانیں سندھ حکومت کی وجہ سے توڑی گئیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کے ڈے اے سندھ حکومت کے ماتحت ہیں۔

علاوہ ازیں آج کراچی کی انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں اشتعال انگیز تقریر کے 26 مقدمات کی سماعت ہوئی تو فاروق ستار، ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان، خواجہ اظہار، ریحان ہاشمی ودیگر عدالت میں پیش ہوئے تاہم فاضل جج کی رخصت کے باعث سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے 21 مقدمات میں فاروق ستار، خواجہ اظہار، وسیم اختر، قمر منصور، ریحان ہاشمی، رؤف صدیقی و دیگر پر فرد جرم عائد کی تھی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔