پاکستانی آم کی برطانوی منڈی بھارت کے ہاتھ لگنے کا خدشہ

بزنس رپورٹر  بدھ 3 جولائ 2013
ایکسپورٹرز کی وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اور وزارت تجارت کو حل تلاش کرنے کی درخواست۔  فوٹو: فائل

ایکسپورٹرز کی وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اور وزارت تجارت کو حل تلاش کرنے کی درخواست۔ فوٹو: فائل

کراچی: برطانیہ میں پاکستانی آم کی کنسائمنٹ سے فروٹ فلائز برآمد ہونے کے بعد پاکستانی آم کی8ہزار ٹن کی وسیع منڈی بھارت کے ہاتھ لگنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

برطانیہ پہنچنے والے آم میں فروٹ فلائی اور لاروے کی موجودگی کے باعث برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ آف انوائرمنٹ فوڈ اینڈ رورل افیئرز(ڈی ای ایف آر اے) نے پاکستانی آم کی بڑی کھیپ مسترد کردی ہے اور برآمد ہونے والی تمام کنسائمنٹس کی 100 فیصد ایگزامنیشن کی جارہی ہے اور فروٹ فلائی کے سبب بڑی مقدار میں آم کو تلف کردیا گیا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اور وفاقی وزارت تجارت کو ہنگامی مراسلے میں مسئلے کا حل تلاش کرنے اور ماہرین و نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ وفد برطانیہ روانہ کرنے کی اپیل کی تھی تاہم 2 ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اپنی مصروفیات میں سے ملک کی برآمدات کو درپیش اس اہم ترین مسئلے کے حل کے لیے کوئی وقت نہیں نکال سکے اور نہ ہی وفاقی وزارت تجارت نے مسئلے کی سنگینی کا احساس کیا ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کے مطابق برطانیہ پاکستانی آم کی بڑی منڈی ہے جہاں 8 ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جس کی مالیت ایک ارب 80 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ برطانیہ کی جانب سے فروٹ فلائی کے سبب پاکستانی آم مسترد کیے جانے کے بعد یورپ کے دیگر ملکوں کو بھی پاکستانی آم کی برآمدات متاثرہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستانی آم کی کنسائمنٹ میں فروٹ فلائی کی موجودگی کو جواز بناکر کنسائمنٹس مسترد کیے جانے سے ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے اور وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی عدم توجہی کے بعد اب ایکسپورٹز نے برطانیہ کو آم کی ایکسپورٹ معطل کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان سے یورپ کو 18 ہزار ٹن آم برآمد کیا جاتا ہے اور برطانیہ کے بعد یورپ کو آم کی ایکسپورٹ متاثر ہونے سے پاکستان کو برآمدات سے حاصل ہونے والے کثیر زرمبادلہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔