عدالتی فیصلہ الطاف حسین کو قبول ہوا تو ہم بھی مانیں گے،حیدر رضوی

مانیٹرنگ ڈیسک  بدھ 3 جولائ 2013
ہمارے کچھ کارکن بھتہ خورہیں تو دیگر جماعتوں میں بھی ہو سکتے ہیں، ٹودی پوائنٹ میں گفتگو۔ فوٹو : پی پی آئی/فائل

ہمارے کچھ کارکن بھتہ خورہیں تو دیگر جماعتوں میں بھی ہو سکتے ہیں، ٹودی پوائنٹ میں گفتگو۔ فوٹو : پی پی آئی/فائل

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ ان کے علم میں نہیں کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں 2مشتبہ افراد کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔

برطانوی عدالت کا فیصلہ اگر الطاف حسین کو قبول ہے تو  پھر ایم کیوایم کے رہنمائوں اور کارکنوں کو بھی قبول ہو گا۔ انھوں نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’ٹو دی پوائنٹ‘‘ کے میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں کہا کہ الطاف حسین کا اصولی موقف ہے کہ اگر فیصلہ ان کیخلاف آیا تو وہ اسے قبول کرینگے، ہماری تشویش یہ ہے کہ جولوگ عمران فاروق تک پہنچ سکتے ہیں ،وہ الطاف حسین کیلیے بھی ایسا سوچ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس قیاس آرائی کا کوئی جواب نہیں دیں گے کہ اگر الطاف حسین گرفتار ہو گئے تو کیا ہو گا، تاہم ایم کیوایم کا پارٹی سسٹم بہت مضبوط ہے، رابطہ کمیٹی فیصلے کرتی ہے اور کارکن انکے فیصلوں کو قبول کرتا ہے، اگر ایم کیوایم کے کچھ کارکن بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں تو دوسری جماعتوں میں بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں، ہمارے 150 کارکن جیل میں ہیں، 5ساتھیوں کو ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا، جو لاپتہ ہیں،اس لیے ہم نے احتجاج کیا، رینجرز انھیں پکڑے مگر قانون یہ کہتا ہے کہ انکی گرفتاری ظاہر بھی کرے۔ گورنر سندھ کی تبدیلی کے متعلق انھوں نے کہا کہ اسکا فیصلہ ہم نے نہیں وفاق نے کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے ریفرنڈم کے نتائج کے متعلق انھوں نے کہا کہ صورتحال بہتر ہوتے ہی اس بارے میں بتائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔