ڈرو اس وقت سے…؟

رئیس فاطمہ  بدھ 3 جولائ 2013

’’آپ کیا سمجھتی ہیں کہ یہ شوبز سے وابستہ عورتیں دودھ کی دھلی ہوتی ہیں اور مرد یوں ہی ان پر تیزاب پھینک دیتے ہیں۔‘‘ پروفیسر صاحب نے میرے اتوار والے کالم ’’تیزاب کا صحیح استعمال‘‘ کو پڑھنے کے بعد اپنی رائے کا استعمال کرتے ہوئے کہا۔

’’نہیں ۔۔۔۔ایسا تو میں نے کبھی نہیں کہا۔۔۔لیکن آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘ میں نے ان سے سوال کیا۔

وہ بولے ’’محترمہ! یہ عورتیں معصوم نہیں ہوتیں، اور کوئی مرد یوں ہی اپنا دل پشوری کرنے کو ان پر تیزاب نہیں پھینک دیتا بلکہ یہ اس مرد کو اپنی حرکتوں سے اس مقام تک لے آتی ہیں جہاں وہ انتقام کی آگ بجھانے کے لیے تیزاب سے ان کا چہرہ جلادیتا ہے۔ یہ وعدہ کسی سے کرتی ہیں اور شادی کسی دوسرے سے۔ نجانے کتنوں کو بے وقوف بناتی ہیں، مال اینٹھتی ہیں، شہرت کی خاطر انھیں لارے لپے دیتی ہیں اور مدتوں بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرتی رہتی ہیں۔۔۔اور آپ لوگ انھیں بے قصور ظاہر کرکے سارا الزام مردوں پر تھوپ دیتی ہیں۔‘‘

ان کی بات کسی حد تک صحیح تھی لیکن جب میں نے انھیں یاد دلایا کہ میں نے ہمیشہ اپنے کالموں اور افسانوں میں ان عورتوں کی بھی بات کی ہے جو بڑی ہوشیاری سے مردوں کی زندگی عذاب بنا دیتی ہیں اور بے چارے مرد کو محض بار برداری کا جانور بنا کے رکھ دیتی ہیں کہ شادی کے بعد ماؤں کے مشوروں پر عمل کرکے وہ خود تو ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں میں رہتی ہیں اور مرد کے لیے جلتی دوپہر ہی کو مناسب سمجھتی ہیں۔ لیکن یہ کرتوت ہوتے ہیں ان شہری اور گھریلو عورتوں کے جنھیں بیٹھے بٹھائے سب کچھ مل جاتا ہے، انھیں نہ بچوں کی پرورش سے کوئی مطلب نہ ان کی تعلیم و تربیت سے کوئی سروکار۔ خواہ وہ چور بنیں، ڈاکو بنیں، جواری بنیں یا ہیروئن فروش۔ ان خوش قسمت عورتوں کا کام عیش کرنا، میکے سے درآمدہ شدہ نسخوں پر عمل کرکے شوہر کے سامنے خود کو مجبور اور لاچارظاہر کرنا، ہوٹلوں میں کھانا کھانا اور شاپنگ کرنا ہوتا ہے۔ میری بات سن کر بھی پروفیسر صاحب کچھ ماننے کو تیار نہ تھے کیونکہ خود ایک مرد ہیں۔ اس لیے عورت کی حیثیت ان کی نظر میں اس بھاری بھرکم صندوق سے زیادہ نہیں جس میں لحاف، گدے، کمبل اور چادریں رکھی جاتی ہیں اور بوقت ضرورت استعمال کے لیے نکال لیا جاتا ہے۔

بہرحال کسی حد تک ان کی یہ بات جائز ہے کہ بعض عورتیں اپنی حرکتوں سے مرد کو اس مقام پر پہنچادیتی ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ لیکن سول سوسائٹی کا مہذب مرد کبھی بچوں کی خاطر اور کبھی خاندان کی خاطر آنکھیں بند کرلیتا ہے یا پھر طلاق دے دیتا ہے۔ لیکن قبائلی اور دیہاتی مرد عورت کی ہر غلطی اور بغاوت کو اپنی مردانہ انا کی توہین سمجھتا ہے۔ کیونکہ عورت اس کی ملکیت ہے، جیسے دوسری چیزیں اس کے تصرف میں ہوتی ہیں اسی طرح عورت بھی ہے۔

چلیے شوبز کا معاملہ تو الگ ہے، یہاں تو چکاچوند کردینے والی روشنیاں نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ گل کرچکی ہیں،کتنے بچوں سے ان کی مائیں چھین چکی ہیں، یہاں تو سب شہرت اور پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔جب کہ زیادہ دیر یہ شہرت ساتھ نہیں دیتی۔ ہم نے مان لیا کہ فلم اور ٹی وی کی چند اداکاراؤں کے ساتھ لاہور، خیبرپختونخوا اور کچھ دیگر شہروں میں جو اداکاراؤں کے چہرے تیزاب پھینک کر جلائے گئے۔ اس میں کسی حد تک قصور وار وہ بھی تھیں کہ وعدے وعید کسی اور سے کیے اور عہد وفا کسی اور سے نبھایا، پیسہ کسی اور کا اڑایا اور فائدہ کسی اور کو پہنچایا۔

ایسے وہ منقسم مزاج مرد جن سے انھوں نے شادی کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے جب دیکھا کہ چڑیا دانہ دنکا چگنے کے بعد پھر سے کسی اور ڈالی پر جابیٹھی تو ان سے ضبط نہ ہوا کہ قبائلی اور جاگیردارانہ سوچ میں انتقام بہت ضروری ہے۔ سو تیزاب پھینک کر انھوں نے وہ چہرہ ہی بگاڑ دیا جو سارے فساد کی جڑ تھا۔۔۔۔لیکن کیا یہ رویہ درست تھا؟ کوئی اور طریقہ نہیں تھا بدلہ لینے کا۔۔۔؟؟۔۔۔لیکن آپ اسے کیا کہیں گے جب کوئی لڑکی یا اس کے گھر والے کسی کو رشتہ دینے سے منع کردیتے ہیں تو بھی سزا کے طور پر لڑکی کا چہرہ تیزاب سے جلادیا جاتا ہے۔۔۔۔میرا ایک افسانہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ ایک ایسے ہی سچے واقعے پر مبنی ہے جس میں ایک لڑکی کے چہرے پر ایک آوارہ لڑکا اس لیے تیزاب پھینک دیتا ہے کہ وہ پاکباز لڑکی ہر بار اس کو جھڑک دیتی تھی۔ اس کا چہرہ آج تک جھلسا ہوا ہے۔ وہ اب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے اور آج تک سب کو یہی بتاتی ہے کہ کالج میں پریکٹیکل کرتے وقت ایسڈ اس کے چہرے پر گرگیا تھا۔ لیکن قریبی لوگ سچ جانتے ہیں۔ اسی واقعے نے مجھ سے وہ افسانہ لکھوایا۔ آج بھی اس خاتون کے چہرے پر لکھی دکھ اور اذیت بھری کہانی کا عکس اس کے چہرے پر نظر آتا ہے۔

لیکن معاملات یہیں ختم نہیں ہوتے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اب تیزاب کا دائرہ بہت پھیل گیا ہے۔ صرف محبت میں ناکامی یا رشتے کے حصول میں ناکامی ہی تیزاب کا اسپرے کرنے کا باعث نہیں بنتی بلکہ کسی بھی سادہ سی مظلوم لڑکی کو بھی اسی تیزاب سے جلاکر اپنے راستے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اتوار 29 جون ہی کے اخبار میں اسی حوالے سے ایک اور خبر بھی چھپی ہے جس کا تعلق کراچی کے علاقے بن قاسم سے ہے۔خبر کے مطابق ایک 22 سالہ یتیم لڑکی کے نام اس کے والد کی تقریباً 80 لاکھ کی جائیداد ہے۔ لڑکی کی ایک ماں اور چھوٹے بہن بھائی بھی ہیں۔

لڑکی پر تیزاب اس کے بہنوئی نے جائیداد کے لالچ میں پھینکا۔ پہلے اس نے دھوکے اور زور زبردستی سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش کی، لیکن لڑکی اس کے مذموم مقاصد کو جان گئی، تنگ آکر بہنوئی نے ایک وکیل کے ذریعے کاغذات تیار کروائے اور اس نے ان پر انگوٹھا لگانے کو کہا جس سے انکار پر بہنوئی نے لڑکی کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں اس پر تیزاب پھینک دیا۔ لڑکی کی چیخ پکار سن کر محلے والے اس کے گھر پہنچے تو بہنوئی نے یہ کہہ کر سب کو بھگا دیا کہ یہ ان کا گھریلو معاملہ ہے۔ لیکن پھر بھی کسی نیک بخت نے پولیس کو اطلاع دے دی۔

پولیس کے پہنچنے کے باوجود لڑکی کو اسپتال نہیں جانے دیا گیا کہ جب تک کاغذات پر انگوٹھا نہیں لگاؤں گی اسپتال نہیں بھیجا جائے گا۔ افسوس کی بات یہ کہ جب پولیس وہاں پہنچی تو اس نے صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا اور ایک بااثر شخص نے پولیس کو یہ کہہ کر وہاں سے بھیج دیا کہ یہ ان کا گھریلو معاملہ ہے اور پولیس واپس بھی چلی گئی۔۔۔چہ خوب۔۔۔۔کیا ڈیوٹی نبھائی ہے۔ چلیے مان لیا جائے کہ یہ گھریلو معاملہ ہے، لیکن کیا گھریلو معاملات میں کسی کو تیزاب سے جھلسا دینا جائز ہے۔۔۔؟۔۔۔کیا محلے والوں کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ چیخ و پکار سن کر حالات کی سنگینی اور سچائی کا اندازہ لگاتے۔۔۔؟۔۔۔لیکن افسوس کہ پولیس نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ کیا پولیس کا فرض نہیں تھا کہ وہ گھر کے اندر جاکر اصل معاملات کا جائزہ لیتی اور تیزاب سے جھلسی ہوئی لڑکی سے حقائق معلوم کرتی اور اسے اسپتال پہنچاتی۔۔۔۔نہیں وہ ٹھنڈے ٹھنڈے چلے گئے۔ کیا اس رویے پر پولیس ڈپارٹمنٹ کو شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟

واہ۔۔۔کیا کہنے۔۔۔ایک وہ ہیں کہ جو بلی کو روشن دان میں پھنسا دیکھ کر فائر بریگیڈ کو بلوالیتے ہیں۔ اور ایک ہم ہیں کہ ایک لالچی اور بے ضمیر شخص دولت ہتھیانے کے لیے ایک لڑکی کو تیزاب سے جلادیتا ہے۔ پڑوسی اس لیے مداخلت نہیں کرتے کہ یہ اس کا گھریلو معاملہ ہے۔ ایک وہ ہیں جن کے نابالغ بچے ماں باپ کے ناجائز رویے کی شکایت پولیس سے کرتے ہیں تو پولیس منٹوں میں وہاں پہنچ کر بچوں کو اپنی تحویل میں لیتی ہے اور ماں باپ قصور وار پائے گئے تو سزا بھی ملتی ہے۔ ایک ہم ہیں کہ کوئی رحم دل انسان فون کرکے پولیس کو ایک سانحے کی اطلاع دیتا ہے لیکن پولیس وہاں پہنچ کر بغیر کسی تحقیق کے واپس آجاتی ہے کہ وہاں ایک بااثر شخص موجود ہے جسے پولیس کی موجودگی وہاں پسند نہیں ہے۔۔۔!!۔۔۔ایک وہ ہیں جو غیر مسلم ہیں۔۔۔۔اور ایک ہم ہیں جو کہنے کو تو مسلمان ہیں۔۔۔۔لیکن انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں۔ جو عورتوں کو تیزاب سے جلاتے ہیں اور انھیں کوئی سزا نہیں ملتی۔ کیونکہ پاکستان میں زندہ رہنے کے لیے قانون شکن اور زورآور ہونا ضروری ہے۔

ایک عام آدمی یا ایک عام عورت کا انصاف حاصل کرنا تو ویسے ہی ناممکن ہے۔ لیکن رابیل کے ساتھ ہونے والا واقعہ اس لحاظ سے بہت دردناک اور وحشیانہ ہے کہ ایک ایسی لڑکی جو یتیم ہے جس کا شوبز سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی کوئی دوسرا عشق، محبت یا شادی سے انکار والا معاملہ ہے۔ پھر بھی اس پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے اور لوگ تو لوگ پولیس تک خاموش تماشائی بنی وہاں سے واپس آجاتی ہے کہ اس کی جیب میں یقینا چائے پانی کے پیسے ڈال دیے گئے ہوں گے۔ لیکن سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ کہ اخبارات میں اس واقعے کے حوالے سے کوئی خبر نہیں۔ کیا رابیل اسپتال پہنچی۔۔۔؟۔۔۔کیا عبدالقادر کو گرفتار کیا گیا؟ کیا غلام حسین سے کوئی پوچھ گچھ ہوئی؟ کیا پولیس والوں کی کوئی خبر لی گئی۔۔۔۔؟۔۔۔کچھ نہیں مکمل بلیک آؤٹ۔۔۔۔ڈرو اس وقت سے جب عورتیں بھی مجبور ہوکر تیزاب کی بوتلیں ہاتھوں میں اٹھالیں!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔