ذرا پلٹ

شہلا اعجاز  بدھ 3 جولائ 2013

رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ رات کو موبائل فونز پر لمبی لمبی باتیں کرنے والے حکومت کو بھی کچھ دیں۔ ویسے ماضی میں حکومتیں عوام سے اتنا کچھ تو لے چکی ہیں کہ اب دینے کو بچا کچھ نہیں ہے ، لے دے کر غریب عوام کے پاس آپس میں بات چیت اور خیر خیریت دریافت کر لینے کا ایک ذرا معقول سلسلہ کھلا تھا تو ہماری حکومت نے اسے بھی ڈسنا شروع کر دیا ہے۔ یعنی جو بھی دے وہ عوام ہی دیں اگر لینا ہی ہے تو ماضی سے لے کر حال تک کے سیاستدانوں کے کھاتوں کو کھنگالنا شروع کر دیں یقین کریں ثناء اللہ صاحب! بہت کچھ ادھار دے رکھا ہے اور کچھ نے تو اسے بھی کھا پی کر پیٹ سی ڈالا ہے اگر آپ ادھیڑ سکتے ہیں تو ذرا ادھیڑ کر تو دیکھیے تا کہ عوام کو بھی احساس ہو کہ تبدیلی آئی ہے، ورنہ عوام تڑپ تڑپ کر کہہ رہے ہیں کہ کیا بدلا ہے؟

تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اب بھی ویسے ہی چل رہے ہیں جیسے پہلے چل رہے تھے کیا ادھر اور کیا ادھر سب کچھ الٹ پلٹ کر بھی وہی سیاسی نعرے لگانے والے پرانے چہرے پرانے بیانات پرانے دعوے کرتے اسمبلیوں میں نظر آ رہے ہیں، خاص کر سندھ میں تو سب کچھ جیسے جوں کا توں ہی پڑا ہے بس الیکشن کی چھٹیوں پر کچھ چہرے گئے تھے الیکشن کی چھٹیاں ختم اور چہرے پھر سے نمودار ہو گئے۔ سندھ کے باسیوں کے چہرے کسی تبدیلی کو دیکھنے کے منتظر تھے لیکن اب پھر کملا سے گئے۔۔۔ شہلا رضا جاتے جاتے کچھ پژمردگی کا شکار نظر آ رہی تھیں شاید یہ خیال ان کے دل میں ہو کہ ان کی پرسنل ڈائری پر ریمارکس کچھ اچھے نہیں ہیں خدا خیر کرے۔۔۔۔ اور پھر خدا نے خیر ہی کی۔۔۔بس بندے خیر کرنے میں دیر لگا دیتے ہیں، اب کے آئی ہیں تو ایسے کہ جیسے بہار ٹوٹ کر آتی ہے۔ بہت کھلی کھلی فریش فریش۔۔۔۔اور زبان ایسی کہ واہ۔۔۔۔طاقت نظر آ ہی جاتی ہے اور اب کی بار انھیں اپنی اس بھرپور توانائی کا ادراک کچھ کھل کر ہوا ہے اور ایسے کہ بار بار احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کے پاس یاد رہے۔

طاقت کا نشہ بڑا دلفریب ہوتا ہے تب ہی انصاف کا نعرہ لگانے والے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے شادی کی ایک تقریب میں جانے کا فیصلہ کیا اور شدید گرمی میں دھول اڑاتی صوبے کی کچھ ٹوٹی کچھ جڑی سڑکوں سے سفر کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا اتنا طویل سفر راستے کی پریشانی۔ آرام سے فضاؤں میں اڑنے کا فیصلہ کیا اور ادھر فیصلہ کیا ادھر اڑن طشتری حاضر ہو گئی اور اتری ہری پور۔ شادی کی شادی اور اڑن طشتری کی اپنی دھاک۔۔۔۔ہم تو بذریعہ قومی ایئرلائن اور چھوٹی موٹی ایئرلائن پر لاہور تک جانے کے لیے ٹکٹوں کی بڑھتی قیمتیں دیکھ کر ہی اپنا ارادہ ترک کر لیتے ہیں ارے چند دنوں میں کیا بدل جائے گا۔۔۔۔ٹرین کی چھک چھک ہی سہی۔۔۔۔اور پھر عوام بھی تو ہیں ہم۔۔۔۔بہر حال بعد میں دیکھا جائے گا تو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے سوچا نہ ہو گا۔۔۔۔لیکن بعد کی بعد میں ہوئی۔۔۔۔تو انائی تو ضایع ہوئی ناں۔

تبدیلی تو ہمارے عوام کی سوچ میں آئی ہے کیا کریں۔۔۔اس پر ہی گزارا کرنا ہو گا کہ یہ ہی ہمارا نصیب ہے یہ کس عقلمند نے کہا ہے کہ ووٹ کے ذریعے اپنا نصیب بدل سکتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو سارا سارا دن ہاتھ پنکھے جھلتے جھلتے تھک نہ جاتے، ہم بھی ذرا سکون سے پنکھے کے نیچے آرام کرتے۔ ٹھنڈا پانی پیتے گرمی زیادہ محسوس ہوتی تو ذرا نہا بھی لیتے۔۔۔اور اگر دل کرتا تو خوشبودار صابن کی ٹکیہ بھی استعمال کر لیتے۔۔۔۔لیکن نصیب تو نہ بدلے۔۔۔ہاں حکومت ضرور بدل گئی۔ بجلی کی وہی آنا جانی ہے۔۔۔۔ابھی گھڑی بھر ہے تو پہروں غائب رہتی ہے۔ ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر پندرہ بیس روپے کے پنکھے جھلتے جھلتے گٹے پڑ گئے۔۔۔پانی پندرہ پندرہ دن بعد شکل دکھاتا ہے، پانی کے ٹینکرز والوں کی چاندی ہو گئی اور عوام کی قلعی اتر گئی ہے۔

مہنگائی کا یہ حال ہے خوشبودار صابن کی ٹکیہ کے بجائے نہانے کے عام صابن سے ہی گزارا چل رہا ہے، بچے چڑتے ہیں کہتے ہیں منہ دھوتے پتہ نہیں کیسی بدبو آتی ہے اب صابن والوں کو کون جا کر پوچھے نجانے کیسی کیسی چکنائی ڈالتے ہیں۔ حلال جانور کی یا حرام جانور کی۔۔۔۔ ان کا ایمان جانے ۔۔۔۔کون پکڑنے والا ہے یہاں۔۔۔۔جہاں ٹماٹو کیچپ کے نام پر ٹماٹر ذرہ بھر نہیں۔ رنگ، آٹے اور بیٹریوں میں ڈالنے والے تیزاب سے ذائقہ پیدا کیا جاتا ہے۔ خواتین کے میک اپ کے نام پر کیا کیا گند خوبصورت ڈبیوں میں بھر کر بازار میں فروخت کیا جا رہا ہے۔۔۔۔مری ہوئی سڑی ہوئی پوری کی پوری بھینس۔۔۔پانی میں پکا کر کیسے کیسے انداز میں گھی اور چکنائی نکالی جاتی ہے جسے بڑے مزے لے لے کر میں اور آپ ہوٹلوں سے لے کر کھانوں کی صورت میں ہضم کر جاتے ہیں اور نجانے کیا کچھ۔۔۔۔اب تو قبرستانوں کو بھی بخشا نہیں جاتا مرنے کے بعد بھی عوام کو چین نصیب نہیں۔۔۔۔کیسے کیسے درندے گھات لگائے تازہ مردے کا انتظار کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔بازار مردگاں حاضر ہے۔۔۔۔ہر مال ملے گا بناء کسی آنے کے۔۔۔۔اے حضرت! کیا پوچھتے ہیں اس قوم کا۔۔۔۔کچھ ہم خود ہی بگڑے ہیں اور کچھ سے زیادہ اس ہر روز بڑھتی مہنگائی نے بگاڑا ہے ۔

ابھی فیس بک پر کسی دل جلے نے پوسٹ کیا کہ 2012ء جون میں ایک پرتعیش دعوت لاہور کے کسی ہوٹل میں دی گئی تھی جس کا خرچہ بتیس تینتیس لاکھ سے کچھ اوپر تھا بھارت کے کچھ معزز مہمانوں کے لیے دی گئی اس تقریب میں محفل موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا اس کے اخراجات الگ۔ سب کچھ کھایا پیا عیش اڑایا گیا اور جب ہوٹل والوں نے بل سامنے کیا تو اسے کون دے۔۔۔۔ہائے میرے ملک کی دولت کو کیسے کیسے لوٹا گیا۔۔۔۔جہاں آج بھی غریب منہ پر چپ کی مہر لگائے ایک کونے میں ٹکر ٹکر اپنے اردگرد کے ماحول دیکھتا جا رہا ہے، بیروزگاری، بھوک، افلاس کا شکار یہ غریب منتظر ہے اپنے ملک کے نگہبانوں کی نظر کا جو ان کو چھو کر بھی نہیں گزرتی۔ جاتے جاتے پیر مظہر الحق نے محکمہ تعلیم میں ایسی ایسی بھرتیاں کیں کہ گھوسٹ اسکول بھی دانت نکال کر کھلکھلا کر ہنس دیے۔۔۔۔ایک صاحب سرکار کی جانب سے سرکاری اسکول میں فائز ہوئے۔

کہا گیا کہ اپنی اہلیہ اور اپنی والدہ کا نام تحریر کریں۔۔۔۔موصوف نے بڑی مشکلوں دقتوں سے خاصی دیر بعد اس مشکل ٹاسک کو عبور کیا۔۔۔۔ذرا سوچیے! تعلیم کی سربلندی کا نعرہ لگانے والے۔۔۔۔یہ کیسا اندھیر مچا ہے۔۔۔۔اور الیکشن کی چھٹیوں کے بعد آئے ہیں نثار کھوڑو صاحب۔۔۔۔سنا تو ہے کہ بہت سمجھدار، ہوشیار ہیں۔۔۔۔پیر صاحب کی طرح جذباتی بھی نہیں۔۔۔۔دیکھیے اب کی بار کیا ہوتا ہے۔۔۔۔ہمارے سندھ کے وزیر اعلیٰ بزرگ سمجھدار سیاستدان ہیں۔۔۔۔کم بولتے ہیں۔۔۔سنا تو ہے کہ شہباز شریف کی طرح انھوں نے بھی بہت کچھ کر گزرنے کو سوچا تو ہے پڑھا بھی ہے۔۔۔۔ اب پانچ سال بعد کیا کیا ہدف پار ہوتے ہیں یا۔۔۔۔

سنا ہے کہ نواز شریف 100 دنوں میں بہتر وزیر اعظم بن کر ابھرنا چاہتے ہیں۔ ہماری مانیے تو ماضی کے اوراق پلٹ کر پڑھیے جب انگریزوں نے برصغیر میں ترقی کے منصوبے شروع کیے تھے۔۔۔کیسے۔۔۔کس طرح۔۔۔۔ کتنے وقت میں۔۔۔۔شروع تو اس دور میں اور بھی بہت کچھ ہوا تھا پر جو اس وقت ہوا تھا آج بھی وہ مضبوط اور توانا کھڑا ہے اور مفید ہے۔۔۔۔ذرا سوچیے آگے کی جانب بڑھنے سے پہلے ماضی کو بھی پڑھ لیجیے۔۔۔۔شاید کچھ کام آجائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔