سینما اونرز فلمیں بنائیں توحالات بہتر ہوسکتے ہیں،شاہد خان

شوبز رپورٹر  بدھ 3 جولائ 2013
پشتو زبان میں بننے والی فلمیں زبردست بزنس کررہی ہیں ، ہدایتکارارشد کی گفتگو

پشتو زبان میں بننے والی فلمیں زبردست بزنس کررہی ہیں ، ہدایتکارارشد کی گفتگو

لاہور: پشتوفلموں کے معروف اداکارشاہد خان اورہدایتکارارشد خان نے کہا ہے کہ اردو اورپنجابی زبان کی فلموں کے فلاپ ہونے یا تعداد میں کمی کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری بحران کا شکارنہیں ہوئی۔

پشتوزبان میں بننے والی فلمیں زبردست بزنس کررہی ہیں اورہم سالانہ 20سے زائد فلمیں بنارہے ہیں۔ اگریہاں بھی فنکار اورسینما اونرز فلمیں پروڈیوس کریں توحالات بہترہوسکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان فلم انڈسٹری کو بحران زدہ قراردینے والے اپنا قبلہ درست کریں۔ بیان بازی کرنے کی بجائے عملی طورپرکام کریںتونتائج بہترہونگے۔ ان خیالات کااظہار شاہدخان اورارشدخان نے ’’ایکسپریس‘‘ کوانٹرویودیتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم پوری قوم کو یہ بات سمجھانا چاہتے ہیں کہ اردو اورپنجابی زبان میں بننے والی فلمیں ہی صرف پاکستان فلم انڈسٹری نہیں ہیں۔ پشتو، سندھی ، بلوچی، سرائیکی اوردیگرزبانوںکی فلمیں بھی پاکستان فلم انڈسٹری ہی ہیں۔

لہذا جولوگ اردو اورپنجابی فلموں کوتباہی کے دہانے تک لائے ہیں وہی اب اس کی بہتری کے لیے خود سرمایہ کاری کریں۔ جہاں تک بات ٹیکنالوجی کی ہے توجس کیمرہ سے اردو اورپنجابی فلم عکسبند ہوتی ہے اسی کیمرے سے پشتوفلمیںبھی بنائی جاتی ہیں اوران کے پرنٹس بھی انھی لیبارٹریوں میں تیارہوتے ہیں۔ اس لیے ٹیکنالوجی کا رونا رونے والے کام پرتوجہ دیں۔ اسی ملک میں پشتوفلم زبردست بزنس کررہی ہے جب کہ اردواورپنجابی فلم اس قدرغیرمعیاری ہے کہ اب لوگ اس کودیکھنے کے لیے سینما کا رخ نہیں کرتے۔ اچھی کہانی تلاش کریں، ڈائریکٹرمحنت سے کام کریں اورخود سرمایہ لگایا جائے توبحالی ممکن ہے۔ وگرنہ بہانے بنا کراپنی نالائقی چھپانے والوں دھکے کھاتے دکھائی دینگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔