برطانوی وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام

ویب ڈیسک  جمعرات 13 دسمبر 2018
تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین سے برطانوی انخلا پر ان کے خلاف تحریک پیش کی گئی تھی ۔ فوٹو: فائل

تھریسامے کی جانب سے یورپی یونین سے برطانوی انخلا پر ان کے خلاف تحریک پیش کی گئی تھی ۔ فوٹو: فائل

 لندن: برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی ان کے حق میں 200 اور مخالفت میں 117 ووٹ ڈالے گئے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ان کی جانب سے ایک متنازعہ فیصلے کے بعد پیش کی گئی جس کے تحت برطانیہ اگلے سال مارچ تک یورپی یونین سے باہر نکل جائے گا اور اس فیصلے پر برطانیہ سمیت پورے یورپ میں فکر و مباحثہ جاری ہے، اس کے لیے بریگزٹ کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی رائے شماری میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کے 317 اراکین نےحصہ لیا، تھریسامے کے حق میں 200 اور مخالفت میں 117 ووٹ ڈالے گئے، اس دوران کنزرویٹرقانون سازوں کی اکثریت نے خفیہ رائے شماری میں ان کی تائید کی ہے جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی کے 48 ساتھیوں نے خط لکھ کر تھریسا مے کے خلاف رائے شماری کی تجویز بھی دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :یورپی یونین برطانیہ کے درمیان بریگزٹ پر معاہدہ ہوگیا

برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قیادت کی تبدیلی ملک میں بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے، اس وقت ملک کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا، بریگزٹ ڈیل مکمل کرنا چاہتی ہوں لیکن آئندہ انتخابات میں پارٹی کی قیادت نہیں کروں گی۔

یاد رہے کہ ان دنوں برطانیہ میں 28 رکنی یورپی یونین سے خود کو الگ کرنے کے متعلق فیصلہ کن بحث و مباحثہ بھی جاری ہے، تھریسا مے کے اس فیصلے کے تحت اگلے برس مارچ کے اوائل میں برطانیہ یورپی یونین کی رکنیت کو خیرباد کہہ دے گا تاہم تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد ان کے خلاف اگلے ایک سال دوبارہ یہ تحریک پیش نہیں کی جاسکتی۔

واضح رہے تھریسا مے نے جولائی 2016 میں سابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے استغفے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا جو عین اسی تنازعے کے شکار ہوکر اقتدار کھو بیٹھے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔