ماہ رمضان شروع ہونے سے قبل ہی مہنگائی کا سیلاب آچکا ہے، چیف جسٹس

ویب ڈیسک  جمعـء 5 جولائ 2013
سیکریٹری پیٹرولیم بتائیں کہ پیٹرول کس قیمت پر لیا جاتا ہے اور کس نرخ پر فروحت کیا جاتا ہے، چیف جسٹس فوٹو: فائل

سیکریٹری پیٹرولیم بتائیں کہ پیٹرول کس قیمت پر لیا جاتا ہے اور کس نرخ پر فروحت کیا جاتا ہے، چیف جسٹس فوٹو: فائل

اسلام آباد: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ماہ رمضان شروع ہونے سے قبل ہی مہنگائی کا سیلاب آچکا ہے، حکومت بتائے کہ اشیا ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سی این جی پر لئے جانے والے 9 فیصد اضافی جی ایس ٹی کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے، اٹارنی جنرل اس اضافی ٹیکس کے حوالے سے عدالت کو مطمئن کریں اور سیکریٹری پیٹرولیم بتائیں کہ پیٹرول کس قیمت پر لیا جاتا ہے اور کس نرخ پر فروحت کیا جاتا ہے،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنرل سیل ٹیکس کی شرح 16 سے بڑھا کر 17 فیصد کردی گئی ہے جس کے بعد اضافی سیلز ٹیکس کی وصولی امتیازی سلوک ہے، سیلز ٹیکس میں اضافے سے مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں، کیا حکومت نے ہمارے حکم کے بعد اس حوالے سے کوئی سروے کیا۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے خزانہ خالی ہے تو حکومت عوام پر بوجھ نہ ڈالے، جو خزانہ لوٹ کر لے گئے ان کو پکڑنا چاہیے، اربوں روپے ادھر سے ادھر ہوگئے کسی نے توجہ نہیں دی۔

بعد ازاں عدالت نے سی این جی پر نافذ سیلز ٹیکس کی یکم جولائی 2007 سے یکم جولائی 2013 تک کی تفصیلات طلب کرلیں، عدالت نے 13 جون سے یکم جولائی تک پیٹرولیم مصنوعات پر وصول ہونے والے سیلز ٹیکس کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 24 جولائی تک ملتوی کردی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔