مسئلہ صرف بدامنی کا ہے

ایڈیٹوریل  جمعـء 5 جولائ 2013
لیاری کا مسئلہ سیاسی ،معاشی ، فرقہ وارانہ یا لسانی نہیں ، صرف اتنا ہے کہ چند قانون شکن گینگ وار کارندوں نے 15لاکھ آبادی کے اس پر امن اور محنت کش علاقے کو اپنی متوازی ریاست میں بدل دیا ہے۔ فوٹو: محمد ثاقب/ ایکسپریس

لیاری کا مسئلہ سیاسی ،معاشی ، فرقہ وارانہ یا لسانی نہیں ، صرف اتنا ہے کہ چند قانون شکن گینگ وار کارندوں نے 15لاکھ آبادی کے اس پر امن اور محنت کش علاقے کو اپنی متوازی ریاست میں بدل دیا ہے۔ فوٹو: محمد ثاقب/ ایکسپریس

لیاری سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ ،فرقہ وارانہ قتل وغارت ، فورسز سے انتہا پسندوں کے خونیں تصادم کے واقعات اور منی پاکستان کے علاقے لیاری میں رات دن ہولناک فائرنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا میڈیا میں خاصا زور دار چرچا ہے ، لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے، اور وہ اس لیے کہ جب تک انارکی ، لاقانونیت اور مفسدانہ سرگرمیوں کے حوالے سے ملک گیر حقائق کی تہہ تک نہیں پہنچا جائے گا سچائی اور زمینی حقیقتیں منافقت، سیاسی دوعملی ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نیم دلانہ ، مصلحت آمیز اور بھونڈے آپریشن کے باعث سو پردوں میں چھپائی جاتی رہیں گی ، بلوچستان میں بھی صورتحال کی انتہا پسندانہ حرکیات اور اس کے خونخواردھارے ہولناکی کی عجیب کہانیاں سناتے ہیں ۔ ایک ہشت پا شورش ہے کہ کسی طرح لاء اینڈ آرڈر بحال کرنے والے اداروں کے قابومیں نہیں آرہی ۔

یہی وجہ ہے کہ تاجر برادری تنگ آمد بہ جنگ آمد کے تحت کراچی میں فوجی آپریشن تک کا مطالبہ کرچکی ہے جب کہ لیاری کا مسئلہ سیاسی ،معاشی ، فرقہ وارانہ یا لسانی نہیں ، صرف اتنا ہے کہ چند قانون شکن گینگ وار کارندوں نے 15لاکھ آبادی کے اس پر امن اور محنت کش علاقے کو اپنی متوازی ریاست میں بدل دیا ہے، لوگ یرغمال ہیں ، ہر قسم کا اسلحہ رکھنے والوں نے اب دو طرفہ جنگ کا سماں باندھ رکھا ہے ۔اتنی آزادی انھیں کیسے مل گئی، اور اتنی طاقتور فورسز کے باوجود لیاری میں امن قائم کیوں نہیں ہوتا۔ ایک وجہ غیر قانونی اسلحہ ہے جو پندرہ سالہ لڑکے کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر جگہ جان ریمبو کی طرح لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ڈی آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ مسئلہ سیاسی بھی ہے اور کوئی تیسری طاقت کچھی کمیونٹی کو استعمال کررہی ہے، اگر ایسا ہے تو اس طاقت کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

بعض مکینوں کا انداز نظر یہ ہے کہ اس ساحلی بستی کی آبادی کو 1958ء کی اسکیم کی طرح کسی اور جگہ منتقل کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے، اور اسی لیے گینگ وار اور دیگر مسلح گروپوں کو بعض خفیہ ہاتھ ’’ وار آن لیاری ‘‘کی صورتحال پیدا کرکے انخلا اور جبری نقل مکانی کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں، اخباری اطلاعات اور تصویری شواہد سے لیاری کے مکینوں کو دوسرے علاقوں میں ہجرت کرتے ہوئے دکھایا بھی گیا ہے۔ یہ سنگین صورتحال پچھلے کئی ہفتوں سے جاری ہے جس میں گزشتہ دس روز میں خوفناک شدت پیدا ہوئی ہے۔ اندھا دھند فائرنگ سے ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے عملاً کئی علاقے نو گو ایریا بن چکے ہیں۔ شدید فائرنگ کے باعث نصف لیاری بند ہے اور باقی نصف حصہ اعصاب شکن افواہوں، ماردھاڑ کی سینہ گزٹ داستانوں اور ممکنہ تباہ کاریوں کے اندیشوں سے نڈھال ہے۔ منی پاکستان خود بھی جرائم کی لپیٹ میں ہے، کیا ملک کے سب سے بڑے شہر کی بے بسی کی ایسی کوئی مثال پاکستان کے کسی اور شہر میں دیکھنے کی ملے گی۔

ستم تو یہ ہے کہ لیاری ٹائون کے 4 تھانے کلری ،بغدادی،کلاکوٹ اور چاکیواڑا محض تماشائی ہیں ، وقوعہ پر پہنچنے کی دلیرانہ روایت کے بجائے فورسز ’’ انتظار کرو اور دیکھو ‘‘کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ یاد رہے وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ کے حوالے سے جو بنیادی سوال اٹھایا تھا کہ فورسز بیس بازاروں پر مشتمل کوئٹہ شہر میں قتل وغارت روکنے سے معذور کیوں ہیں۔ جب کہ لیاری میں فورسز بعض علاقوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں جانے سے خوفزدہ ہیں اور فری ہینڈ کارروائی اس لیے ممکن نہیں کہ مسلح گروہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے آپریشن کے خلاف فوری طور پر عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنالیتے ہیں اور احتجاج کے دوران مارکیٹیں،کاروبار اور سڑکیں بند کی جاتی ہیں۔ ارباب اختیار ادراک کریں کہ لیاری میں بدامنی نہ رکی تو پورے ملک میں قانون کی حکمرانی کا کیا پیغام جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لیاری سمیت کراچی کو بدامنی کا سامنا ہے، امن و امان کی ابتری ، بھتہ خوری ،اغوا برائے تاوان اور تشددکے واقعات کو لیاری میں گھمسان کا رن جیسا تناظر نہ دیا جائے۔ درد انگیز حقائق اور گینگ وار کارندوں، کچھی رابطہ کمیٹی اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز بات چیت ہونی چاہیے۔یہی اس مسئلے کا حل ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔