ہومر کون؟

ڈاکٹر ناصر مستحسن  جمعـء 5 جولائ 2013

ہومر Homer کے بارے میں، اس کے جاننے والے کسی نہ کسی شش و پنج کا شکار رہتے ہی ہیں کہ ہومر تھا کون؟ کہاں کا باسی تھا؟ کب پیدا ہوا؟ کہاں وفات ہوئی؟ اور اس کا اصل میدان تھا کیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہومر کے بارے میں شدت سے کیے جاتے ہیں، لیکن ہم جیسے طفل مکتب کو کوئی نپا تلا جواب شاید ہی ہومر کے بارے میں سننے کو ملا ہو، اس کا جواب غالباً کسی علمی و ادبی شخص کے پاس ہی ہوگا۔ ایک بار میں نے اپنے والد پروفیسر ڈاکٹر محمد علی صدیقی سے اس کے بارے میں چند سوالات کیے تھے، اس گفتگو کو میں آج اپنی تحریر کا موضوع بنارہا ہوں یہ سوچتے ہوئے کہ مجھ جیسے کئی نوآموز طالب علموں کو اس کے بارے میں بہت نہیں تو چیدہ چیدہ ہی سی باتیں جاننے کا موقع ملے گا۔

خود اہل یونان کے پاس بھی ہومر کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہی ہیں۔ یہ ابھی تک طے ہی نہیں ہوپایا ہے کہ ہومر نام کا کوئی کوی، کوئی شاعر تھا بھی یا نہیں، یا یہ محض افسانوی باتیں ہیں۔ ہومر کے نام کی طرح اس کے بارے میں باتیں بھی تاریکی میں کچھ کھوجنے کے مترادف ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اندھا تھا۔ ’’ہومروس‘‘ کے معنی اندھے کے ہی ہیں۔ یونانی زبان و ادب میں غالباً ہومر کی 7 کے قریب سوانح ملتی ہیں جو شاید اس وقت لکھی گئی ہوں گی جب عوام ہی نہیں خود کہانیاں کہنے، سننے اور لکھنے والوں سے بھی واقف تھے۔ اگر ہومر کے بارے میں تحقیق جامع انداز سے کی جائے اور شوق مطالعہ کی وسعت کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو ہومر کے بارے میں بڑی، ابہامی غیر منطقانہ باتیں کی جاتی ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ہومر حضرت مسیحؑ سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے پیدا ہوا، جب کہ مشہور یونانی مورخ ہیروڈوٹس کا بھی یہی گمان غالب ہے، اس کی پیدائش کے بارے میں بھی کئی آراء ہیں۔ ہومر کو دریائے میلیس کا بیٹا بتایا جاتا ہے اور اس کی ماں کا نام کریتھائس جو ایک دریائی پری کا نام ہے، بتایا جاتا ہے۔

ہیروڈوٹس کے مطابق یونان کے ایک مشہور کیومی جہاں کا ہومر باسی تھا وہاں سے کبھی چند لوگوں نے ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کی طرف نقل مکانی کی تھی، ان میں ایک بے حال شخص میناپولس بھی تھا، جس کی بیٹی کریتھائیس تھی جو ہومر کی ماں ہے۔ دریائے میلیس کے کنارے فیمیوسس نامی ایک شاعر اور موسیقار کا اسکول تھا، اس نے ہومر کی ماں پر ترس کھاکر اس کو اور ننھے ہومر کو پناہ دی، جہاں سے ہومر کے ذہن میں علم و ادب حاصل کرنے کا شوق پرورش پایا۔ فیمیوسس نے مرتے وقت ہومر کو اپنا وارث مقرر کردیا اور خود ہومر نے بڑی دل جمعی سے اس کے ادھورے کام مکمل کرنے شروع کیے۔ ہومر کی نظر شروع سے کمزور ہی تھی لیکن فیمیوسس کے ساتھ سفر کے دوران کچھ اور زیادہ کمزور ہوگئی اور آخر وہ اندھا ہوگیا، اور اتھیکا کے مقام پر یولیسسUlyssesکا قصہ سنا، جس سے متاثر ہوکر اس نے اپنی شہرہ آفاق نظم اوڈیسی لکھی۔ بصارت سے محروم ہومر اپنی نظمیں بڑے بوڑھے لوگوں کی محفل میں سناتا جہاں سے کچھ اس کے ہاتھ بھی لگتا۔

کہا جاتا ہے کہ تھسٹورائڈٹس نامی شہرت کے ایک بھوکے شخص نے ہومر کا بہت بڑا کلام اپنے نام سے شایع کرنا شروع کردیا (جیسا آج کل کچھ لوگ کر رہے ہیں) اور ہومر کو اپنے سے دور کردیا۔ ایتھنز آکر اس نے اپنی آواز ساری دنیا میں پہنچانے کی سعی کی اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رہا، کہا جاتا ہے کہ آج بھی ایتھنز، جزیرہ پوسی اور اراکیڈیا کے غلہ بان اور چرواہے اس کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ مشہور یونانی فلاسفر ارسطو سے منسوب ایک کتاب میں ہومر سے متعلق ایک روایت ملتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اراکیڈیا کے سمندر کے کنارے ماہی گیروں کی ایک بستی میں گیا اور سوال کیا کہ ’’اے اراکیڈیا کے ماہی گیرو! کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟‘‘ اس کے جواب میں انھوں نے ایک پہیلی کہی۔ کہا جاتا ہے کہ ہومر اس پہیلی کو نا بوجھ سکا اور اس غم میں جہان فانی سے کوچ کرگیا۔

انگریزی و یونانی ادب میں یوں تو ہومر سے منسوب کی گئی کئی ایک نظمیں ہیں لیکن کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔ ہومر کی بہت سی نظمیں گم بھی ہوگئیں، انھی میں سے ایک Margites کا ذکر بھی آتا ہے لیکن اس بات میں بہت وزن ہے کہ ہومر کی ساری شہرت، اس کی انھی دو نظموں کی مرہون منت ہے ایک اوڈیسی اور دوسری ایلیڈ۔ ایلیڈ میں ٹرائے کی جنگ کا بیان ہے، جو اہل یونان اور اہل ٹرائے کے مابین ہوئی۔ یہ جنگ کیوں ہوئی اس کے اغراض و مقاصد کیا تھے یہ بات ابھی تک طشت ازبام ہے لیکن 550 ق م ایتھنز کے لوگ اس واقعے کو بخوبی جانتے ہوں گے۔ ایلیڈ میں ٹرائے کی جس جنگ کو ہومر نے اپنا موضوع بنایا ہے اس کے بارے میں آثار قدیمہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ وہ 1175 ق م کا قصہ ہے۔ یہ جنگ ہوئی ضرور تھی گو اصل واقعات اور وجوہ وہ نہ ہوں جو ہومر نے بیان کیے ہیں، البتہ ہومر کی رہنمائی سے جرمنی کے ایک ماہر آثار قدیمہ نے 1868 میں ٹرائے شہر کو کھود نکالا۔

دوسری نظم ’’اوڈیسی‘‘ کا قصہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب شہر ٹرائے کو تباہ ہوئے 20 برس گزر چکے تھے، یوں ’’اوڈیسی‘‘ کا تعلق تاریخ سے نہیں ہومر کے تخیل سے ہے، اس نظم میں یولیسیئس نامی ایک اوالعزم بادشاہ کا ذکر ہے، جو غالباً جنگ ٹرائے میں ازخود موجود تھا، اس نظم میں بتایا گیا ہے کہ گھر کی طرف واپسی کے دوران کسی طرح طوفان نے اس کے بحری بیڑے کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا اور وہ کس طرح ادھر ادھر پھرتا ہوا آخر کار اپنے وطن پہنچا۔

اب اگر ہومر کی ان دونوں شہرہ آفاق رزمیہ نظموں ’’ ایلیڈ‘‘ اور ’’اوڈیسی‘‘ کے بیاں و زباں کو دیکھیں تو آپ کو ان دونوں نظموں کی زبان و بیاں میں خاصا فرق نظر آئے گا، اس لیے اس کو لے کر ہمیشہ سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ یہ نظمیں ہومر کی تخلیقات ہیں بھی کہ نہیں۔ ’’اوڈیسی‘‘ کے بارے میں نسبتاً زیادہ دقیق انداز میں یہ سننے میں آیا ہے کہ یہ کسی صنف نازک کی نظم ہے جو ہومر کے نام سے مشہور ہے لیکن یہ صرف آراء ہیں دلائل نہیں، بلکہ اب تو ان دلائل کی رو میں بھی کئی مضامین زیربحث آچکے ہیں۔ شاہ پیسٹراٹوس کے حکم خاص پر 550 ق م میں ہومر کی نظموں کا ایک سرکاری متن قلم بند کیا گیا۔ یوں ہومر کا کلام ضایع ہونے سے بچ گیا۔

’’ ایلیڈ‘‘ اور ’’اوڈیسی‘‘ کے تراجم دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں ہوچکے ہیں۔ اردو میں ’’ ایلیڈ‘‘ اور ’’اوڈیسی‘‘ کا اولین تعارف پاکستان میں 1922 میں ’’ایلیڈ واڈ سے‘‘ کے نام سے خلاصے کی صورت میں پیش کیا تھا جب کہ اردو میں ’’اوڈیسی‘‘ کا پہلا اور تاحال آخری مطبوعہ ترجمہ محمد سلیم الرحمن نے ’’جہاں گرد کی واپسی‘‘ کے نام سے نثر میں کیا ہے۔ اور ایک ترجمہ ڈاکٹر اطہر پرویز نے بھی کیا تھا۔ ہمارے ہاں کے تعلیم یافتہ لوگ ہومر کے نام سے واقف ہیں، اگرچہ اس کی شاعری بہت کم لوگوں کی نظر سے گزری ہے، فارسی شاعر فردوسی اور سنسکرت شاعر والمیک کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے یہ دونوں فارسی اور سنسکرت کے ہومر ہیں۔ ہومر سے متعلق معلومات کو وسیع پیمانے پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔